پاکستان اور چین کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کے دوسر ے مرحلے کی حتمی منظوری آخری مراحل میں ہے

پاکستان اور چین کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کے دوسر ے مرحلے کی حتمی منظوری آخری مراحل میں ہے

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 اگست2019ء) پاکستان اور چین کے مابین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی ای) کے دوسر ے مرحلے کی حتمی منظوری آخری مراحل میں ہے جس کے تحت چین نے پاکستان کو تقریباً تین سو تیرا ٹیرف لائنز پر زیرو ڈیوٹی رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس معاہدے کے تحط پاکستان کو اپنا تجارتی خسارہ کم کرنے میںمدد ملے گی جس کیلئے حکومت کو چین کی مارکیٹوں کی طلب کو پورا کرنے کے لئے اپنی برآمدی صلاحیت کو بڑھانا ہو گا۔
یہ ایف ٹی اے دونوں ممالک اور خاص طور پر پاکستان کی معیشت کے لئے کے لئے ایک شاندار موقع ہے۔ ماہرین ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے ز یرِ اہتمام پاکستان چائنہ کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی ای) کے حوالے سے ایک سیمینار سے کر رہے تھے۔


اس موقع پر چینی سفارت خانے کے منسٹر کونسلر ڈاکٹر وانگ چے خوا، سی پیک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر حسن داؤد بٹ، پاک چائنہ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید اور ایس ڈی پی آئی کے چائنہ اسٹڈی سنٹر کی سربراہ ڈاکٹر حنا اسلم نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر پاکستان میں چینی سفارت خانے کے منسٹر قونصلر، اقتصادی و تجارتی سیکشن، ڈاکٹر وانگ چے خوا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور چین کے مابین تجارت کے حجم میں گذشتہ سالوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن تجارتی عدم توازن سب سے بڑا چیلنج رہا جس پر پاکستانی حکومت اور کاروباری طبقہ تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی عدم توازن کی بنیادی وجہ چین کی مضبوط مینوفیکچرنگ بیس ہے ، جو پاکستان کے پاس نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی ای) ان مسائل کو حل کرنے اور دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ سی پیک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور فوکل پرسن حسن داؤد بٹ نے کہا کہ پچھلے دو آزاد تجارتی معاہدوں سے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکے ہیں جس کی بڑی وجہ گذشتہ ایف ٹی ایز میں صنعتوں کے لئے حفاظتی اقدامات کا فقدان ، متعلقہ اداروں کے مابین ہم آہنگی کا نہ ہونا، ادائیگیوں کے توازن کا وژن نہ ہونا او ر انڈر انوائسنگ سے نمٹنے کے لئے کسی بھی ڈیٹا ایکسچینج پالیسی پر اتفاق نہ ہونا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نظرثانی شدہ نئے ایف ٹی اے معاہدے میں ان تمام عوامل کو شامل کیا گیا ہے تاکہ تجارتی تعلقات کو دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند بنایا جاسکے۔ ایس ڈی پی آئی کے چائنہ اسٹڈی سنٹر کی سربراہ ڈاکٹر حنا اسلم نے کہا کہ چائنہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل پاکستان کی معیشت کے لئے ایک شاندار موقع اور امید کی کرن ہے۔ پاک چائنہ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے کہا کہ چین کے ساتھ تجارت کرنے کے حوالے سے پاکستان کو اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ مراعات، مفادات اور گرانٹ کے منتظر رہتے ہیں، لیکن ہم اپنی مضبوط مینوفیکچرنگ بیس بنانے میں ناکام رہے۔
 
Source: https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2019-08-05/news-2020888.html