قدرتی آفات کے عورتوں پر اثرات کا اعدادو شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جائے کورونا وبا کے عورتوں پر زیادہ شدید اثرات مرتب ہوئے، درست پالیسیاں وضع کرنے کی ضرورت ہے، مقررین

اسلام آباد کورونا وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگوں کو شدید مشکلات ک">

قدرتی آفات کے عورتوں پر اثرات کا اعدادو شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جائے کورونا وبا کے عورتوں پر زیادہ شدید اثرات مرتب ہوئے، درست پالیسیاں وضع کرنے کی ضرورت ہے، مقررین

اسلام آباد کورونا وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم صنفی عدم برابری کی وجہ سے عورتوں کے لیے وبا کے اثرات کہیں زیادہ بدترین ثابت ہوئے جن کا جائزہ لیتے ہوئے پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔مقررین نے یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام  ’کورونا وباکے صنفی پہلو، اعدادو شمار اور پالیسی‘  کے موضوع پر منعقدہ  ویبنار کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔

بین الاقوامی کی رپورٹنگ کرنے والی صحافی شمیم چوہدری نے بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں میں موجود عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کیمپوں میں ویکسنیشن کی سہولت ہے نہ احتیاطی تدابیر پیش نظر رکھی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق کے لیے قانون سازی کا نچلی سطح پر اطلاق ایک اہم مسئلہ ہے جس پرتوجہ دی جانی چاہئے۔

ٹی آر ٹی ورلڈ سے وابستہ ادسوا جوش نے کہا کہ ہمیں یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قدرتی آفات کے مردوں اور عورتوں پر اثرات یکساں نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا درست اقدامات کے لیے اعدا د و شمار کی اہمیت بہت زیادہ ہے تاہم اصل مسئلہ اعداد و شمار کا فقدان ہے۔انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک میں زیادہ تر امور کار براہئ راست روابط کی بدولت طے کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کورونا وبا کے معاشی و سماجی اثرات زیادہ سنگین رہے۔

ایس ڈی پی آئی کے ڈائریکٹر رزیلئنٹ ڈویلپمنٹ پروگرام ڈاکٹر شفقت منیر فلپئن اور برما میں اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وبا ہو یا کوئی اور آفت، عورتوں کو ان کے امور خانہ اور دیگر اضافی کاموں کی وجہ سے زیادہ سنگین اثرات کا سامنا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سمای تحفظ کی سکیموں پر عمل درآمد کرتے ہوئے صنفی طور پر جداگانہ اعدادو شمار کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

ویمن ایڈوانسمنٹ ہب کی عائشہ سروری نیپاک افغان سرحد پر افغان ماجرین عورتوں کی حالت زار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی معاونت کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔وائس آف امریکہ اردو سروس کے فیض رحمان نے کہا کہ امریکہ میں اعدادو شمار کی دستیابی کی صورت حال بہتر ہے تاہم ان سے واضح ہوتا ہے کہ وبا کے دوران مردوں کے مقابلے میں عورتوں پر زیادہ برے اثرات مرتب ہوئے۔ایس ڈی پی آئی کی زہرا خالد نے قبل ازیں صنفی برابری پر مبنی پالیسیوں کے لیے اعدادو شمار کی اہمیت کے مختلف پہلو اجا گر کیے۔