ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے پاکستان کے اقدامات عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے، ملک امین اسلم

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اگست2021ء) وز">

ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے پاکستان کے اقدامات عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے، ملک امین اسلم

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اگست2021ء) وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلیاں ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات ایک بڑے بحران کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی پی سی سی کی حالیہ رپورٹ اسی حقیقت کی غمازی کرتی ہے اور ساتھ ہی اس ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق عالمی کانفرنس سے قبل آئی پی سی سی کی رپورٹ کے حوالے منعقدہ ویبنار کے دوران اپنی گفتگو میں کیا۔ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلیوں ک مقابلہ کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی اہمیت دنیا بھر میں تسلیم کی جا رہی ہے۔ان اقدامات میں جنگلات کے رقبے میں بڑے پیمانے پر اضافے کے علاوہ شفاف ذرائع سے توانائی کے حصول کی کاوشیں شامل ہیں۔ پاکستان کو ان تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے جی ڈی پی کی مد میں بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان سمیت شدید متاثر ہونے والے ممالک کی معاونت کے لیے تلافی فنڈ قائم کیا جائے۔کلائمٹ ایکشن نیٹ ورک، ساتھ ایشیا کے ڈائریکٹر سنجے وشسٹ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ترقی پزیر ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے لیے اپنے وسائل پر انحصار کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک جو اس سے قبل ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ تھے، اب ان خطرات کا براہ راست سامنا کر رہے ہیں اور وسیع پیمانے پر آتشزدگی انہی اثرات کی کڑی ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ڈائریکٹر ریزیلئنٹ پروگرام ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث حیات کا تنوع تباہ ہو رہا ہے جو ایک بہت بڑا نقصان ہے۔انہوں نے کہا کہا کہ آئی پی سی سی کی رپورٹ اس افسوسناک حقیت کا اشارہ کرتی ہے کہ دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو کس طرح سیلابوں اور خشک سالی جیسے شدید اثرات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں اور آفات کے تدارک کے لیے اقدامات کو ایک ساتھ دیکھنے اور ان سے نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ماہر ماحولیات مریم شبیر نے قبل ازیں آئی پی سی سی رپورٹ کی مختلف جزئیات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔