توانائی کے شعبے میں تدریسی ماہرین اور پالیسی سازوں میں تعاون کار بڑھانے کی ضرورت ہے، ماہرین

توانائی کے شعبے میں تدریسی ماہرین اور پالیسی سازوں میں تعاون کار بڑھانے کی ضرورت ہے، ماہرین

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اگست2021ء) پاکستان میں توانائی کے شعبے میں موثرتبدیلی اور قابل تجدید توانائی کی ترقی کے لیے پالیسی سازوں اور تدریسی شعبے کے ماہرین کے مابین روابط کار کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔تدریس و تحقیق کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے اس امر کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلیوں پر عالمی کانفرنس اور پاکستان میں توانائی کے شعبے میں پیشرفت کے موضوع پر منعقدہ ویبنار کے دوران اپنی آرا پیش کرتے ہوئے کیا۔لاہور یونیورسٹی آف میجمنٹ سائنسز کے ڈین برائے شعبہ توانائی ڈاکٹر فیاض چوہدری نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں موجودہ پالیسیوں میں ہمیں منصوبہ بندی کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کی تشکیل ہماری اصل ضروریات اور درپیش مسائل کے حقیقی جائزے کی روشنی میں کی جائے۔ آج ہمیں گرڈز کو جدید خطوط پرتبدیل کرنے کے علاوہ شعبے میں ماہر افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے پروفیس ندیم احمد شیخ نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں درست پالیسیوں اور اقدامات کے لیے اشتراک عمل کو وسیع کرنا ہوگا۔گورنمنٹ کالگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر عبدالستار نظامی نے کہا کہ ریسرچرز اور پالیسی سازوں کے درمیان تعاون کار کا فقدان دور کرنا ناگزیر ہے۔یونیورسٹی آف انجیئنرنگ ٹیکسلا کے ڈاکٹر مظفر علی نے زور دیا کہ صنعت، ماہرین تدریس اور حکومتی اداروں کو مل کر پاکستان میں توانائی کے شعبے میں پیش رفت پر کام کرنا چاہئے۔ڈاکٹر محمد فاروق نے کہا کہ ہمیں مقامی مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے تا کہ انہیں پیش نظر رکھتے ہوئے مقامی سطح کے حل تلاش کیے جا سکیں۔ ہماری یونیورسٹیاں بڑی تعداد میں پی ایچ ڈی پیدا کر رہی ہیں لیکن متعلقہ شعبوں میں ریسرچ کا فقدان ہے اور توانائی کے شعبے کو بھی اسی مسئلے کا سامنا ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر ساجد امین نے زور دیا کہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس سے قبل ماہرین سفاشات تیار کریں جنہیں عالمی رہنماں کے سامنے رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو ماحولیاتی بہتری کے لیے اقدامات کے بدلے ترقی پزیر ممالک کے قرضے معاف کرنے چاہئیں تاکہ وہ شفاف توانائی جیسے ضروری اقدامات پر رقوم خرچ کر سکیں۔