26ویں عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں پاکستان وسیع ایجنڈا پیش کرے گا پاکستان سمیت ترقی پزیر ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے ضمن میں مؤقف پیش کریں گے۔ڈاکٹر عابد سلہری


اسلام آباد (                        ) گل">

26ویں عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں پاکستان وسیع ایجنڈا پیش کرے گا پاکستان سمیت ترقی پزیر ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے ضمن میں مؤقف پیش کریں گے۔ڈاکٹر عابد سلہری


اسلام آباد (                        ) گلاسکو میں منعقد ہو رہی 26 ویں عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں پاکستان وسیع ایجنڈا پیش کرے گا۔ کانفرنس ترقی پزیر ممالک جنہیں ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی سرگرمیوں کے نتیجے میں تیز تر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا ہے، کے لیے اپناا مؤقف اجا گر کرنے کا بہترین موقع  تصور کی جا رہی ہے۔ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے اس امر کا اظہار ان کے ادارے کے زیر اہتمام منعقدہ قبل از عالمی ماحولیاتی کانفرنس س میڈیا بریفنگ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ کانفرنس کے دوران کاربن کے اخراج کو عالمی سطح پر کم کرنے کے ضمن میں اہم اقدامات زیر بحث لائے جائیں گے اور ترقی یافتہ ممالک کی زیادہ تر توجہ کا محور چین، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں ہوں گی۔۔

ایس ڈی پی آئی کے ڈائریکٹر رزلنیس پروگرام ڈاکٹر شفقت منیر نے اس موقع پر کووڈ۔19کے دوران گرین ریکوری کے ضم میں ادارے کی طرف سے مرتب کی جانے والی رپورٹ کے اہم نکات پیش کیے جبکہ رپورٹ کے مصنفین ڈاکٹر ساجد امین اور ڈاکٹر حنا اسلم نے کاربن کے اخراج میں کمی اور قابل تجدید شفاف توانائی کے ضمن میں چیدہ سفارشات پیش کیں۔ بریفنگ سے قبل ایس ڈی پی آئی کی جانب سے  ’ماحول دوست اقدامات سے پاکستان کی معاشی بحالی‘ کے موضوع پر ایک اہم گفتگو کا اہتمام کیا جس کے دوران مقررین نے خصوصیت کے ساتھ قابل تجدید توانائی اور اس حوالے سے پیش رفت کا ذکر کیا۔

سیکرٹری پاور ڈویژن علی رضا بھٹہ نے شرکاء کو بتایا کہ شفاف انرجی کی جانب پاکستان قابل ذکر پیشرفت کر رہا ہے اور حالیہ طور پر 29% بجلی آبی ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے۔پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہ جہاں مرزا نے کہا کہ پاکستان سال 2030تک شفاف توانائی کے بیشتراہداف ھاصل کر لے گا۔

نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی کے ڈاکٹر سردار معظم نے کہا کہ قومی منصوبہ بندی میں توانائی محفوظ بنانے کا پہلو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔توانائی کے شعبے کے ماہر فیصل شریف نے کہا کہ ماحول دوست ترغیبات کی بدولت معاشی بحالی اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔چیف ایس ڈی جیز ایم علی کمال نے کہا کہ قرضوں کو ماحول دوست معاشی بحالی کے اقدامات کے لیے معاونت میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان۔جرمن کلائمیٹ اینڈ انرجی انیشیٹو کے ہرمت بہرند، ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر ساجد امین، ڈاکٹر حنا اسلم اور ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے نے بھی موضوع کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔