توانائی اور ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ درآمدی صاف توانائی پر حد سے زیادہ انحصار اور پالیسی سطح پر سنگین غلطیاں پاکستان کی معاشی بقا کے لئے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ماہرین نے زور دیا کہ حکومت فوری طور پر صاف توانائی کی مقامی پیداوار کو ترجیح دے اور سبز ترقی کے لئے عملی، مربوط اور مؤثر اقدامات کرے۔یہ مطالبہ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کی جانب سے 28ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے چوتھے دن منعقدہ مکالمہ بعنوان ”بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو سبز بنانا: جنوبی ممالک میں قابلِ تجدید توانائی کے انتقال میں چین کا مرکزی کردار“ کے دوران سامنے آیا۔اینرجی چائنا میں سینئر ایڈوائزر اور وزارتِ توانائی و خصوصی اقدامات کے مشیر حسن داؤد بٹ نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت ’’پائیدار ترقی ایک مشترکہ سفر‘‘ ہے لیکن سبز ترقی نعرے بازی سے نہیں بلکہ صحیح سمت کی عملی منصوبہ بندی سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا درآمدی صاف توانائی پر انحصار خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اس لئے توانائی کی مقامی پیداوار وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف صاف توانائی کا نہیں، معاشی بقا کا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حکمتِ عملی کے تحت سرمایہ کاری جاری رہی تو 2027 تک پاکستان میں صنعتی ترقی کیلئے ہائیڈرو پاور کی مناسب مقدار دستیاب ہوگی۔گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک (GTTN) کے صدر حامد شریف نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات بھگت رہا ہے۔ انہوں نے لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’شہر دم گھٹنے کی حد تک آلودہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 میں گاڑیوں کا حصہ فضائی آلودگی میں 36 فیصد تھا جو آج 50 فیصد تک جا پہنچا ہے، جس کی وجہ غیر معیاری ایندھن اور بڑھتا ہوا فوسل فیول استعمال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھٹیا معیار کا ڈیزل بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے جبکہ ’’بااثر مفاداتی گروہ‘‘ مؤثر ریگولیشن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔حامد شریف نے حکومت پر زور دیا کہ الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو فروغ دے اور مقامی مینوفیکچرنگ کو مراعات دے، کیونکہ پاکستان کی بڑی آبادی ایک وسیع گھریلو مارکیٹ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بے پناہ شمسی وسائل ہونے کے باوجود پاکستان اب تک فوٹو وولٹائک (PV) پینلز درآمد کیوں کرتا ہے؟انہوں نے کہا کہ ویتنام ہر سال 25 ارب ڈالر کے سولر پینلز برآمد کرتا ہے، ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں اگر حکومت اس شعبے کی حوصلہ شکنی بند کر دے.انہوں نے نیٹ میٹرنگ ٹیرف میں کمی کی تجویز کو نامعقول قرار دیا اور کہا کہ موجودہ وہیلنگ پالیسی سرمایہ کاروں کو سسٹم کی نااہلی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کرتی ہے۔
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی سینیئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر ہنّا اسلم نے کہا کہ پاکستان کو روزگار کے مواقع بڑھانے اور معیشت مضبوط بنانے کے لئے سولر ٹیکنالوجی کی مقامی پیداوار کو ترجیح دینا ہوگی۔ ان کے مطابق پاکستان میں صاف توانائی سے متعلق تقریباً 70 فیصد سرمایہ کاری چین سے آتی ہے، اس لئے ٹیکنالوجی ٹرانسفر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا مرکزی عنصر ہونا چاہئے۔آر ایم آئی چائنا کی ماہر یِوون یو جِنگ لیو نے پاکستان اور چین کے توانائی کے سفر کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’سال 2000 میں چین کی فی کس آمدنی آج کے پاکستان سے بھی کم تھی اور ہماری فی کس بجلی کی کھپت 40 فیصد کم تھی۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ترقی توانائی کی کارکردگی بہتر بنا کر حاصل کی، اور یہی راستہ پاکستان کے لئے بھی ضروری ہے۔
© 2025 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit