ہندوکش–ہمالیہ خطے میں بڑھتے ہوئے موسمیاتی اور سماجی معاشی خطرات پر بات کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت پورے خطے کو ردّعمل پر مبنی نظام سے نکل کر پیشگی تیاری، کمیونٹی پر مبنی لچک اور سائنسی و مقامی علم کی بنیاد پر ایسی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے جو پائیدار، جامع اور مؤثر ہو۔یہ گفتگو پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کی 28ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے چوتھے روز منعقدہ سیشن ہندوکش ہمالیہ خطے میں صوبائی سطح پر موسمیاتی و سماجی معاشی خطرات کے لیے پیشگی اقدامات کی مضبوطی میں ہوئی۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے ممبر ڈی آر آر ادریس بٹ نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پانی اور موسم کے خطرات کا شکار ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے تخفیف، تیاری، ریسپانس، بحالی اور تعمیرنو تک ایک جامع فریم ورک رکھتا ہے، تاہم مقامی اور ضلعی سطح کی صلاحیت سازی پر مزید توجہ درکار ہے۔ماؤنٹین اینڈ گلیشیئر پروٹیکشن آرگنائزیشن کی سی ای او عائشہ خان نے کہا کہ HKH خطے کی پیچیدہ زمینی ساخت، مشکل ڈھلوانیں اور مختلف مقامی موسم پیش گوئی کو بہت مشکل بنا دیتے ہیں، جس کے باعث بعض اوقات غلط الرٹ جاری ہو جاتے ہیں یا اہم خطرے کا سگنل چھوٹ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں خطرات کبھی اکیلے نہیں آتے—گلیشیئر پھٹنے کے واقعات، ہیٹ ویوز، لینڈ سلائیڈز، خشک سالی اور اچانک سیلاب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈاکٹر بابر شہباز نے بتایا کہ آئی سی موڈ (ICIMOD) کے ساتھ مل کر 2023 میں شروع کیے گئے اس منصوبے کا مقصد ماضی کے ڈیٹا کی بنیاد پر محض اندازوں کے بجائے مستقبل کے مختلف ممکنہ منظرنامے بنا کر پیشگی منصوبہ بندی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی و صوبائی سطح پر متعدد موسمیاتی ایکٹ موجود ہونے کے باوجود حقیقی مسائل پالیسی نفاذ اور اسٹیک ہولڈرز کی مؤثر شمولیت میں سامنے آتے ہیں۔آئی سی موڈ کی مس سبریں تلا دھَر، جو آن لائن شریک ہوئیں، نے نیپال کے لوئر مستنگ خطے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ صدیوں پرانی یاک بکریوں کی خانہ بدوش چرواہی روایت شدید موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور ہجرت کے باعث خطرے میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’’فو رسائٹ‘‘ طریقہ کار کے ذریعے مقامی آبادی کو شامل کر کے مستقبل کے منظرنامے بنائے گئے جن میں مزدور دستیابی، موسمیاتی اثرات اور معاشی امکانات جیسے محرکات کی نشاندہی کی گئی۔سکور اسلامیک فرانس کے پروجیکٹ مینیجر اویس احمد نے بتایا کہ ہندوکش خطہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس سے خطرات کی شدت اور رفتار دونوں بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ردّعمل پر مبنی حکمتِ عملی وقتی ریلیف تو دیتی ہے مگر لچک پیدا نہیں کرتی۔ پیشگی اقدامات، بروقت وارننگ اور فوری فنڈ ریلیز کے نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔واٹر ایڈ کے کنٹری ڈائریکٹر میاں محمد جنید نے کہا کہ خطے میں سیلاب، پانی کی قلت اور ماحولیاتی دباؤ سے کمیونٹیز کی کمزوری بڑھ رہی ہے۔انہوں نے مؤکد کیا کہ پیشگی اقدامات کے بغیر صنفی شمولیت پر مبنی، موسمیاتی لچکدار WASH نظام ممکن نہیں۔انہوں نے بتایا کہ مضبوط واٹر سپلائی سسٹم، بہتر واٹرشیڈ مینجمنٹ اور خواتین پر مشتمل کمیونٹی کمیٹیاں بحران کے دوران تیز تر بحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔آئی سی سیٹ نیپال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کنچن مانی دکشِت نے کہا کہ 2001 سے ہم نے مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایسے نظام تیار کیے ہیں جو موسمیاتی سائنس، سماجی ڈھانچے اور مقامی حکومت کو ایک ساتھ جوڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشرقی کھٹمنڈو ویلی میں اربن ریزیلینس پروجیکٹ نے بلدیاتی نظام میں پیشگی تیاری اور موسمیاتی موافقت کو مضبوط بنایا ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ پینل مکالمے میں مقامی علم کو شامل کرنے، صنفی طور پر جامع موافقت، HKH کے لیے بہتر موسمیاتی ماڈلز کی تیاری اور پالیسی میں پیشگی اقدامات کے انضمام جیسے کلیدی موضوعات پر گفتگو جاری رہے گی۔
© 2025 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit