توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے چیلنجز سمیت دیگر مسائل سے نمٹنے کیلئے مضبوط شہری نظام کی ضرورت ہے، عائشہ خان -5900-News

توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے چیلنجز سمیت دیگر مسائل سے نمٹنے کیلئے مضبوط شہری نظام کی ضرورت ہے، عائشہ خان -5900-News-SDPI

SDPI twitter

News


توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے چیلنجز سمیت دیگر مسائل سے نمٹنے کیلئے مضبوط شہری نظام کی ضرورت ہے، عائشہ خان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اگست2022ء) سول سوسائٹی کولیشن فار کلائمٹ چینج کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عائشہ خان نے کہا ہے کہ آفات کے خطرے میں کمی اور زمین کے استعمال کی مناسب پالیسیوں اور منصوبوں پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔ انہوں نے توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے چیلنجوں، زمین کے کٹائو،، سڑکوں کے نیٹ ورک پر دباؤ، آلودگی، ٹھوس فضلے اور گندے پانی کی نکاسی کے انتظام کوبہتر بنانے کے لئے شہری نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔
یہ بات انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ”پاکستان میں لچکدار بنیادی ڈھانچے“ کے بارے میں ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔عائشہ خان نے کہا کہ توانائی کی موثر تعمیرات، عوام کو توانائی کی ذمہ دارانہ کھپت اور دیگر وسائل کے بارے میں حساس بنانا موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لئے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر ٹرانزٹ کے نظام کو بڑھانا ہوگا جبکہ بارش کے پانی کا کیچمنٹ شہری منصوبہ بندی کا ایک نظر انداز پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں صحت کے بنیادی ڈھانچے پر دبائو کئی گنا بڑھ گیا ہے اور اسکی صلاحیت میں اضافے کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اسلام آباد کو ایک ماڈل سولرائزڈ شہر کے طور پر تیار کیا جانا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے منیجر مبشر حسین نے کہا کہ این ڈی آر ایم ایف سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون سے تجاویز، فنڈنگ اور آفات سے نمٹنے کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے ملک بھر میں ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ این ڈی آر ایم ایف ابتدائی وارننگ سسٹم، کوویڈ 19 کے بعدصحت و ماحولیاتی نظام کی بحالی اور آب و ہوا کی موافقت کے قدرتی حل پر مبنی اقدامات کی معاونت کر رہی ہے جبکہ تنظیم مجموعی فنڈنگ ماڈل کی بنیاد پر ڈیزاسٹر رسک انشورنس کے ذریعے خطرے کی منتقلی کا طریقہ کار بھی تیار کر رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فنڈنگ کے اس ماڈل کا مقصد مارکیٹ بیسڈ، پائیدار مصنوعات اور ڈیٹا ہے تاکہ حکومت پر مالی بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے آب و ہوا کے سمارٹ لچکدار بنیادی ڈھانچے کے لئے ہر 3 سال بعد تحقیق و ترقی، ٹیکنالوجی پر مبنی حل اور ماسٹر پلانز کی تشخیص پر زور دیا۔ موڈولس ٹیک کے سی ای او نبیل صدیقی نے کہا کہ کلائمٹ سمارٹ ہائوسنگ سستی، وسائل کے قابل، کم کاربن فٹ پرنٹ ہے اور ایس ڈی جیز ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت نے توانائی کی کھپت اور اس کے اخراج کے مسئلے پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ ہائوسنگ سے 40 فیصد اخراج توانائی کی کھپت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موڈیولس ٹیک ٹیکنالوجی صفر اخراج کو ممکن بناتی ہے اور کنکریٹ ہائوسنگ کے مقابلے میں اسکی لاگت میں 20 سے 40 فیصد کم ہے جس سے قومی گرڈ پر بوجھ کم پڑتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے پاس گرین بلڈنگ پالیسی نہیں ہے جس کی وجہ گرین ہومز کی کارکردگی پر سائنسی اعداد و شمار کی کمی ہے۔ انہوں نے ڈیٹا اکٹھا کرنے پر زور دیا۔ایس ڈی پی آئی کی ریسرچ فیلو ڈاکٹر حنا اسلم نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی کے لئے اب مزید وقت نہیں ہے بلکہ اس وقت ان سے نمٹنے کے قدامات پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔ انہوں نے لچکدار بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زمین کے استعمال کے منصوبے اور مضبوط ماحولیاتی اثرات کی تشخیص کے لئے شہری منصوبے پر لازمی عمل درآمد کے اقدام کو سراہا۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit