Asset 1

Global Go To Think Tank Index (GGTTI) 2020 launched                    111,75 Think Tanks across the world ranked in different categories.                SDPI is ranked 90th among “Top Think Tanks Worldwide (non-US)”.           SDPI stands 11th among Top Think Tanks in South & South East Asia & the Pacific (excluding India).            SDPI notches 33rd position in “Best New Idea or Paradigm Developed by A Think Tank” category.                SDPI remains 42nd in “Best Quality Assurance and Integrity Policies and Procedure” category.              SDPI stands 49th in “Think Tank to Watch in 2020”.            SDPI gets 52nd position among “Best Independent Think Tanks”.                           SDPI becomes 63rd in “Best Advocacy Campaign” category.                   SDPI secures 60th position in “Best Institutional Collaboration Involving Two or More Think Tanks” category.                       SDPI obtains 64th position in “Best Use of Media (Print & Electronic)” category.               SDPI gains 66th position in “Top Environment Policy Tink Tanks” category.                SDPI achieves 76th position in “Think Tanks With Best External Relations/Public Engagement Program” category.                    SDPI notches 99th position in “Top Social Policy Think Tanks”.            SDPI wins 140th position among “Top Domestic Economic Policy Think Tanks”.               SDPI is placed among special non-ranked category of Think Tanks – “Best Policy and Institutional Response to COVID-19”.                                            Owing to COVID-19 outbreak, SDPI staff is working from home from 9am to 5pm five days a week. All our staff members are available on phone, email and/or any other digital/electronic modes of communication during our usual official hours. You can also find all our work related to COVID-19 in orange entries in our publications section below.    The Sustainable Development Policy Institute (SDPI) is pleased to announce its Twenty-third Sustainable Development Conference (SDC) from 14 – 17 December 2020 in Islamabad, Pakistan. The overarching theme of this year’s Conference is Sustainable Development in the Times of COVID-19. Read more…       FOOD SECIRITY DASHBOARD: On 4th Nov, SDPI has shared the first prototype of Food Security Dashboard with Dr Moeed Yousaf, the Special Assistant to Prime Minister on  National Security and Economic Outreach in the presence of stakeholders, including Ministry of National Food Security and Research. Provincial and district authorities attended the event in person or through zoom. The dashboard will help the government monitor and regulate the supply chain of essential food commodities.

روزنامہ نواے وقت

Published Date: Jul 11, 2020

https://www.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/islamabad/2020-07-11/page-12/detail-51

چین کا تعاون پاکستانی زراعت کی ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) پاکستان اور چین کے مابین زرعی شعبے میں تعاون و اشتراک سے پاکستا ن میں زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ اور شعبے کی مجموعی ترقی میں زبردست مدد ملے گی۔ اس ضمن میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل چائنا ڈاکٹر محمد مدثر ٹیپو نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ’چین پاکستان زرعی تعاون‘ کے موضوع پر منعقدہ آن لائن مکالمے کے دوران اپنی گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشتوں کے ضمن میں عمل کو آگے بڑھانے کے لیے فیلہ سازی کو مسلسل مشاورت کی بدولت ادارہ جاتی شکل حاصل ہو گئی ہے۔ انہوں ے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، کسانوں کو تربیت اور بائبرڈ بئج کی بدولت پاکستان میں گندم سمیت مختلف فصلوں کی پیدوار میں زبردست اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کو آلات اور کرم کش ادویات کے ضمن میں بھر پور معاونت فراہم کی ہے۔ پاکستان میں قائم چینی سفارتخانے کے ایگریکلچرل کمیشنر ڈاکٹر گو ونلیانگ نے اس موقع پر چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کی اہمیت کا ذکر کرے ہوئے کہا کہ پاکستان میں زرعی پیداوار میں اضافے کے بھرپور امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویر اعظم پاکستان عمراں خان نے اپنے دورہء چین کے دوران زرعی شعبے میں تعاون میں اضافے کی خواہش ظاہر کی تھی اور زعی شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشتیں دونوں ملکوں کی اسی سوش کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی فراہمی اور استعداد سازی اس تعاون کے اہم پہلو ہیں اور سی پیک کو اگلے مرحلے میں زرعی تحقیق و تعاون میں ڈھالا جائے گا۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے کے طور پر زرعی شعبے میں تعاون و اشتراک کو آگے بڑھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خشک سالی کے مقابلے کی اہلیت رکھنی والی فصلوں، خصوصاً گندم کی پیدوار کے لیے چین سے ٹیکنالوجی اور بیج کے ضمن میں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت قائم ہونے والے خصوصی اقتصادی علاقوں میں تحفظ خوراک کا خصوصی زون بھی قائم کیا جانا چاہئے۔ زرعی یوینیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے چین سے پاکستا کو زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کی اہمیت کو اجا گر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو زرعی طور پر مستعد ملک بنانے میں چین کا تعاون بے حد اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے شکیل احمد رامے نے قبل ازیں موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زراعت کو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ حاصل ہے۔