اس امر کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 25ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کےسیشن کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے بہتر انتظام کے لیے درکار فنڈنگ ایک بڑا مسئلہ ہے اور ہمیں اپنے شہروں کو رہنے کی بہتر جگہ بنانے کے لیے شہری حکومتوں کی استعداد بڑھانی پڑے گی، فضائی آلودگی اور آلودگی کی دوسری اقسام سنگین مسائل کی صورت میں سامنے آئی ہے جن کے تدارک کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
وزارت خزانہ کے مشیر ڈاکٹر امتیاز احمد نے کہا کہ ترقیاتی اور ماحولیاتی مسائل کے بارے میں علم کا تبادلہ بہت اہم ہے اور جنوبی ایشیاء کے ممالک کو پانی کی کمی، تعلیم ، صحت کے ڈھانچے اور شہری آبادیوں کے دوسرے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہئے۔ایس اے ڈبلیو ٹی ای ای نیپال کے چیئرمین ڈاکٹر پوش راج پانڈے نے قبل ازیں شرکاء کو ان سفارشات کی تفصیل سے آگاہ کیا ،ماہرین نے اس موقع پر کہا کہ اگر چہ جنوبی ایشیاء کے ممالک پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں کسی طور پیشرفت کر رہے ہیں ،تاہم خطے میں مجموعی طور پر شہریوں کو تمام بنیادی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون کا فروغ جنوب ایشیائی ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنےمیں مدد دے گا۔