اس سیشن کا انعقاد پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 25ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کی ایک کڑی کے طور پر کیا گیا تھا۔ یورپی یونین کے ڈاکٹر سٹیفن لنگرل نے اس موقع پر کہا کہ ممالک جن میں بولیویا، قازقستان، کرغزستان، ازبکستان، منگولیا اور پاکستان شامل ہیں، یورپی منڈیوں تک رسائی کے لیے جی ایس پی کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سہولت سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک جس کی برآمدات میں جی ایس پی کی بدولت قابل ذکر اضافہ ہوا ہے ۔ پاکستان سنگل ونڈو کے سی ای او آفتاب حیدر نے کہا کہ پاکستان کو مختلف نئے برآمد کنندگان کی طرف سے کڑے مقابلے کا سامنا ہے اور اس صورت حال میں جی ایس پی ایک اہم سہولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دوسرے شعبوں جن میں مصنوعی زہانت اور ٹیکنالوجی کے دوسرے میدان شامل ہیں، سے متعلق اپنی استعداد میں ا ضافہ کرنا چاہئے۔
ریمٹ پروگرام لمز کے ٹیم لیڈر عثمان خان نے کہا کہ ہمیں یورپی منڈیوں میں اپنی برآمدات کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ہو گا۔ورلڈ بینک گروپ کے گونزالو جے ورالاہ نے کہا کہ جی ایس پی اور دوسری خصوصی رعایتوں کو تبدیلی لانے کا ایک موقع تصور کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی مصنوعات کی قدر میں اضافہ کرنے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ وہ برآمدات سے بہتر زر مبادلہ حاصل کر سکے۔وزارت انفارمشین ٹیکنالوجی کی عائشہ موریانی نے کہا کہ ماضی میں ہونے والے تجارتی معاہدوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہےاور اس ضمن میں پاکستان