سیاستدانوں کو سیاسی پولرائزیشن کو کم کرنا چاہئے‘ صدر عارف علوی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مسلح افواج آئین کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے کیلئے پرعزم ہیں، تمام سیاستدانوں کو بھی جمہوری طریقے سے مذاکرات، مشاورت اور گفت و شنید کے ذریعے ملک کو درپیش مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے مالی اور اقتصادی استحکام حاصل کرنے کے لئے سیاسی پولرائزیشن کو کم کرنا چاہئے۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو اسلام آباد میں ’’آزادی کے 75 سال، جامع قومی سلامتی کا حصول‘‘ کے عنوان سے اسلام آباد کانکلیو 2022 کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ ماضی میں سپر پاورز نے باہمی تباہی کا ڈاکٹرائن اپنایا جس نے دنیا کے وسائل کو مزید مہلک ہتھیاروں کے نظام کی تیاری کی طرف موڑ دیا جبکہ ان وسائل کے ایک معمولی حصہ سے دنیا میں غربت اور بھوک کے خاتمے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت، فوجی دفاع، اطلاعات و مواصلات کی سکیورٹی اور معاشی خودمختاری ملک کے جامع دفاع کے لئے ضروری عناصر ہیں۔ غلط معلومات ملک کو تباہ کرنے اور معصوم آبادیوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اثاثوں کو سائبر حملوں سے بچانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل ایمبیسیڈر اعزاز احمد چوہدری نے شرکاء کو کانفرنس میں زیر بحث امور سے آگاہ کیا۔ کانفرنس کے کلیدی مقرر ایف ایس اعجازالدین نے پاکستان میں آبادی کو اندرونی محاذ پر بڑا مسئلہ قرار دیا۔ علاوہ ازیں ایس ڈی پی آئی کی 25ویں پائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ توانائی، پانی سمیت قدرتی وسائل کا تحفظ ناگزیر ہے، انہوں نے پانی اور توانائی کے تحفظ کیلئے رویوں میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان اپنی مالی اور اقتصادی مشکلات کو کم کرسکتا ہے۔ شام کے اوقات میں کاروبار جلد بند کر کے ہم تین سے چار ہزار میگا واٹ توانائی کی بچت کرسکتے ہیں جبکہ چھوٹے اور بڑے آبی ذخائر بنا کر بارشوں اور سیلابی پانی کو بچاکر اسے زراعت اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال میں لاسکتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں رویہ میں تبدیلی اور ٹائم لائن کے لئے مکمل عزم کی ضرورت ہے جو فی الحال دنیا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔