Press Coverage

پروقار ماحول کار کے لیے ہر سطح پر سماجی مکالمے کو فروغ دیا جا ئے ، ماہرین

اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان میں کام کا ہروقار ماحول یقینی بنانے سے متعلق انتہائی ناگزیر مکالمے میں عورتوں اور نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔

ماہرین نے اس امر کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 25ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے پاکستان میں پروقار ماحول کار کے موضوع پر منعقدہ سیشن کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر رابعہ رزاق  نے کہا کہ پروقار ماحول کار کے لیے سماجی مکالمہ وقت کی بنیادہ ضرورت ہے۔

آل پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی جنرل سیکرٹڑی روبینہ جمیل نے کہا کہ ملک میں ٹریڈ یونیوں کا نہ ہونا اور آجر اور اجیر کے مابین مثر باہمی رابطے کا فقدان حالات کار کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گارمنٹس اور ٹیکسٹئل کی صنعت میں جی ایس پی کے تحت یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور ٹریڈ یونینز کو مزدروں کے حقوق کی بہم رسانی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔لیبر کورٹ کے معورف وکیل خالد محمود نے کہا کہ پاکستان میں سماجی مکالمے کے لیے ماحول کو سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔ایمپلزئرز فیڈریشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل سید نظر علی نے کہا کہ اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے سماجی مکالمہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) کے چئیرمین نور زمان نے قانون کے مطابق ورک کونسل کا قیام لازمی ہے اور ٹریڈ یونینز کی عدم موجودگی میں اس کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

ویمن ورکرز الائنس کی سیکرٹری زاہدہ پروین مغل نے کہا کہ افرادی قوت میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم اس کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان ورکرز فیڈریشن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سعد محمود نے کہا کہ ٹریڈ یونینز میں نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور لیبر قوانین کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ڈومیسٹک ورکرز یونین کی اروما شہزاد نے تمام متعلقہ حلقوں کے مابین سماجی مکالمے کو تقویت دینے پر زور دیا