اسلام آباد (صباح نیوز)پارلیمانی ٹاسک فورس برائے اہداف پائیدارترقی (ایس ڈی جیز) کے سابق کنو ینئر ریاض فتیانہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ماحول دوست ترقی کے بارے میں بہترین قوانین اور پالیسیاں موجود ہیں تاہم ہمارا اصل مسئلہ کمزور استعداد اور قوانین پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان دونوں رکاوٹوں کو دور کرنا پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔اس امر کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 25ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی کے اہداف کے جائزے پر مبنی سیشن کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے بہتر انتظام کے لیے درکار فنڈنگ ایک بڑا مسئلہ ہے اور ہمیں اپنے شہروں کو رہنے کی بہتر جگہ بنانے کے لیے شہری حکومتوں کی استعداد بڑھانی پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی اور آلودگی کی دوسری اقسام سنگین مسائل کی صورت میں سامنے آئی ہے جن کے تدارک کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔وزارت خزانہ کے مشیر ڈاکٹر امتیاز احمد نے کہا کہ ترقیاتی اور ماحولیاتی مسائل کے بارے میں علم کا تبادلہ بے اہم ہے اور جنوبی ایشیا کے ممالک کو پانی کی کمیابی، تعلیم اور صحت کے ڈھانچے اور شہری آبادیوں کے دوسرے مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون میں اضافے پر توجہ دینی چاہئے۔
ایس اے ڈبلیو ٹی ای ای نیپال کے چئیرمین ڈاکٹر پوش راج پانڈے نے قبل ازیں شرکا کو ان سفارشاتکی تفصیل سے آگاہ کیا جو انہوں نے گروپ کے طور پر تیار کی تھیں۔ماہرین نے اس موقع پر کہا کہ گو جنوبی ایشیا کے ممالک پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں کسی طور پیشرفت کر رہے ہیں جن میں شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی، پائیدار شہری ترقی، صنعوتں اک ذہ دارانہ فروغ وغیرہ شامل ہیں تاہم خطے میں مجموعی طور پر شہریوں کو تمام بنیادی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون میں فروغ جنوب ایشیائی ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد دے گا ۔