عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مربوط، شراکتی اورخطرات سے محفوظ سرمایہ کاری اپنانا ہوگی ، 2050تک بڑھتی ہوئی آبادی پرعدم کنٹرول جی ڈی پی کا 30 فیصدنگل سکتاہے، پاکستان کی کمزور ہوتی موسمیاتی لچک اور سست ترقیاتی پیش رفت کو سنبھالنے کیلئے جدید اور پیشگی مالیاتی انتظامات ناگزیر ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ایس ڈی پی کے زیر اہتمام سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے اختتامی روزخطاب کرتے ہوئے کیا ۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے بتایا کہ کانفرنس میں علاقائی رابطہ، عالمی ٹیرف، لیونگ ویج، موسمیاتی لچک، آفات میں کمی اور سب ریجنل تعاون جیسے موضوعات پر 23 ممالک کے ماہرین نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یو این ڈی پی کے سیموئیل رزک نے کہا کہ پاکستان کو مربوط، شراکتی اور رسک انشورڈ فنانسنگ اپنانا ہوگی۔ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر بولرما امگابازا نے پاکستان کی آبی و فضائی آلودگی اور بڑھتی ہوئی آبادی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے فوری اقدامات نہ کئے تو 2050 تک اس کے جی ڈی پی میں 20 سے 30 فیصد کمی ہو سکتی ہے،آئی ایم ایف کے نمائندے ماہر بنچی نے کہا کہ پاکستان کیلئے ماحولیات، وبائوں اور دیگر طویل المدتی بنیادیخطرات سے نمٹنے اور پائیدار اصلاحات کیلئے حالیہ 1.4 ارب ڈالر کا پروگرام معاشی اور موسمیاتی لچک بڑھانے کا اہم ذریعہ ہے۔