دالوں کی پیداوار میں کمی پاکستان کی معیشت پر سالانہ ایک ارب ڈالرکا درآمدی بوجھ ہے، ماہرین-10553-News

دالوں کی پیداوار میں کمی پاکستان کی معیشت پر سالانہ ایک ارب ڈالرکا درآمدی بوجھ ہے، ماہرین-10553-News-SDPI

SDPI twitter

News


دالوں کی پیداوار میں کمی پاکستان کی معیشت پر سالانہ ایک ارب ڈالرکا درآمدی بوجھ ہے، ماہرین

اسلام آباد( صباح نیوز) پاکستان میں دالوں کی ملکی پیداوار میں 37 فیصد کمی کے باعث غذائی اور پروٹین کے بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ملک کو ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کی دالیں درآمد کرنا پڑ رہی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے تقریباً 40 فیصد گھرانے پروٹین کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 24.35 فیصد آبادی معتدل سے شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔ اگر دالوں کی پیداوار بڑھانے، ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور موثر زرعی پالیسی اصلاحات نہ کی گئیں تو غذائی تحفظ اور پروٹین کی فراہمی کا مسئلہ مزید سنگین ہونے کے علاوہ زرمبادلہ پر بھی مذید دباﺅ پڑ سکتا ہے۔۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اور آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ (ACIAR) کے اشتراک سے”دالوں کی مسابقتی اور جامع ویلیو چین کی ترقی“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں کیا جس میں پاکستان میں دالوں کی مسابقتی اور جامع ویلیو چین کی ترقی پر زور دیا گیا۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر قاسم شاہ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کے تناظر میں دالیں غذائی تحفظ کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایک فرد کی بنیادی خوراک کی اوسط لاگت تقریباً 3.9 ڈالر روزانہ ہے جس کی وجہ سے متوازن غذا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری تقریباً 40 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس لئے دالوں جیسے سستے اور اہم پروٹین ذرائع غذائی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ کے کنٹری منیجر ڈاکٹر منور رضا کاظمی نے بتایا کہ ان کا ادارہ 2017 سے پاکستان میں دالوں کی پیداوار مارکیٹنگ اور ویلیو چین کو بہتر بنانے کےلئے کام کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت راولپنڈی، چکوال اور بھکر میں مقامی کسانوں کے ساتھ تحقیق کی گئی اور بہتر زرعی طریقوں کو آزمایا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تحقیق اور پالیسی سازوں کے درمیان رابطہ کمزور ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج کو موثر انداز میں پالیسی سازوں تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر شاہد ریاض ملک نے بتایا کہ پاکستان میں کل زیرِ کاشت رقبہ 22.51 ملین ہیکٹر ہے لیکن دالوں کی کاشت صرف 1.16 ملین ہیکٹر پر ہوتی ہے جو کل رقبے کا تقریباً پانچ فیصد ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں دالوں کی اوسط پیداوار 553 کلوگرام فی ہیکٹر ہے جبکہ ترقی یافتہ کسان 1500 کلوگرام فی ہیکٹر تک پیداوار حاصل کر لیتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیداوار میں بہت بڑا فرق موجود ہے۔منصوبے کے سربراہ ڈاکٹر برہان احمد نے بتایا کہ یہ منصوبہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کی قیادت میں ملتان، منکیرہ، چکوال، کرک، سکھر اور لاڑکانہ میں کسانوں، مقامی کمیونٹی اور مارکیٹ سے وابستہ افراد کو شامل کر کے مشترکہ حل تلاش کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے سوشل سائنسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد بشیر نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پروجیکٹ ایڈوائزری کمیٹی اور قومی دال ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے تاکہ پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پلسز انڈسٹری ڈیولپمنٹ اسٹریٹیجی بھی مختلف اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے۔سیمینار کے اختتام پر چیئرمین شعبہ ہارٹیکلچر پیر مہر علی شاہ زرعی یونیورسٹی راولپنڈی پروفیسر ڈاکٹر اعظم خان نے کہا کہ دالیں کم آمدنی والے طبقات کےلئے اہم اور سستی غذائیت کا ذریعہ ہیں لیکن دالوں کی بڑھتی ہوئی درآمدات ملک کے زرمبادلہ کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ انہوں نے قرار دیا کہ حکومت اور تحقیقی اداروں کو دالوں کی مقامی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit