چھوٹے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر، بہتر منصوبہ بندی سے مون سون اموات میں 80 فیصد کمی ممکن ہے،این ڈی ایم اے
قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے: سیمینار سے ڈاکٹر شفقت،نصیر میمن، بریگیڈیئر کامران اور دیگر کا خطاب
اسلام آباد:ماہرین نے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لئے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مون سون کے دوران بحیرہ عرب میں جا گرنے والے تقریباً 35 ملین ایکڑ فٹ پانی کو موثر حکمت عملی کے ذریعے محفوظ کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کا مون سون غیر متوقع اور شدید نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان کو بیک وقت سیلاب، گلیشیئرز کے پھٹنے (GLOFs)، پانی کی قلت اور شہری علاقوں میں نکاسی آب کے سنگین مسائل کا سامنا ہوگا ۔ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، آبی گزرگاہوں پر تجاوزات اور کمزور انفراسٹرکچر سیلاب کے خطرات کو کئی گنا بڑھا رہے ہیں۔ موثر منصوبہ بندی، مضبوط ماحولیاتی نظم و نسق، جدید شہری ڈھانچے، پانی ذخیرہ کرنے کے موثر نظام اور بروقت قومی سطح پر مربوط اقدامات کے ذریعے ممکنہ نقصانات پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار میں کیا جس کا موضوع ”مون سون آوٹ لک 2026 اور بروقت اقدامات کی ضرورت“ تھا۔ افتتاحی خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی غیر معمولی اور بے ترتیب مون سون کے مقابلہ کےلئے پیشگی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔پانی کے نظم و نسق کے ماہر نصیر میمن نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ملک کو بیک وقت شدید پانی کی قلت اور تباہ کن سیلابوں کا سامنا رہا جو موسمیاتی پیٹرنز کی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کوہِ سلیمان کے علاقوں میں شدید بارشوں نے سیلاب کے روایتی انداز کو بدل دیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ انسانی سرگرمیاں، خصوصاً جنگلات کی کٹائی، آبی گزرگاہوں پر تجاوزات اور بے ہنگم شہری پھیلاو، موسمیاتی خطرات کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ ا نہوں نے کہا کہ جب ہر درخت کو محض لکڑی اور ہر خالی زمین کو پلاٹ سمجھ لیا جائے تو ہر بارش ایک ممکنہ آفت میں بدل جاتی ہے۔انہوں نے ماحولیاتی تباہی اور غیر منصوبہ بند شہری ترقی کے تدارک کیلئے فوری عملی اقدامات پر زور دیا۔محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے خبردار کیا کہ بھارت میں دریا پہلے ہی بھر چکے ہیں وہاں شدید بارشوں کی صورت میں یہاں خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے رکن آپریشنز بریگیڈیئر کامران نے کہا کہ مون سون کے دوران زیادہ تر اموات اچانک سیلاب، عمارتوں کے منہدم ہونے اور کرنٹ لگنے کے باعث ہوتی ہیں جنہیں بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے 80 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔سوال و جواب کے سیشن میں این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر کنٹن جنسی پلان 2026 میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کےلئے خصوصی اقدامات شامل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مذید کہا کہ سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کےلئے چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کی تجویز بھی زیر غورہے۔محکمہ موسمیات کے گلیشیئر ماہر ڈاکٹر فرخ بشیر نے خبردار کیا کہ گلگت بلتستان میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلاو اور مقامی آبادی دونوں کےلئے خطرے کی علامت ہے۔ااین ڈی ایم اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) ڈاکٹر طیب نے خبردار کیا کہ رواں سال گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ ہمالیہ اور تبت کے سطح مرتفع میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت مون سون کے نظام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔این ڈی ایم اے کے رکن قومی وسائل رضا اقبال نے کہا کہ 2025 کے سیلاب کے دوران ادارے نے حکومت کے لئے موثر معاون کا کردار ادا کیا جبکہ نجی شعبے کو بھی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت شامل کیا جا رہا ہے تاکہ آفات سے نمٹنے کی مجموعی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ماہرین نے اس امر پر متفقہ زور دیا کہ 2026 کے مون سون سے قبل بروقت تیاری، سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی اور قومی سطح پر مربوط حکمت عملی ہی ممکنہ انسانی و معاشی نقصانات کو کم کرنے کی ضمانت بن سکتی ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit