اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اپریل2026ء) ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ سموگ کی وجوہات پیچیدہ اور متعدد ہیں تاہم فصلوں کی باقیات جلانا، صنعتی اخراج، ٹرانسپورٹ کا دھواں اور کمزور نفاذی نظام مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔پنجاب میں فضائی آلودگی اور سموگ کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کیلئے فوری اور مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام ایک اعلیٰ سطح کے کثیر فریقی مکالمے میں کہی گئیں جس میں ماہرین، پالیسی سازوں اور عملی میدان سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وقتی اور جزوی اقدامات کے بجائے سائنسی بنیادوں پر ایک مربوط، طویل المدتی اور قابلِ عمل حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے تاکہ نہ صرف فضائی معیار بہتر ہو بلکہ کسانوں کی معاشی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔اجلاس کے آغاز میں ایس ڈی پی آئی کی زینب نعیم نے فصلوں کی باقیات جلانے سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کئے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں زرعی شعبہ مجموعی طور پر پی ایم 2.5 (PM2.5) اخراج میں تقریباً 20 فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ اور صنعت فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا بلیک کاربن شام کے اوقات میں سموگ کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ کسان محدود وقت اور معاشی دباو کے باعث فصل کی کٹائی کے بعد باقیات جلانے کو ہی سب سے تیز اور سستا حل سمجھتے ہیں۔کلین ایئر فنڈ کے نمائندے ٹومی نے عالمی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر زرعی باقیات کا حصہ تقریباً 3 فیصد ہے تاہم مقامی حالات میں اس کا اثر بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بلیک کاربن کو انتہائی خطرناک آلودہ عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے عالمی ماحولیاتی پالیسیوں میں تیزی سے شامل کیا جا رہا ہے اور اس پر کوپ30 سمیت مختلف عالمی فورمز پر توجہ دی جا رہی ہے۔سابق وزیرِ مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ آلودگی اور موسمیاتی خطرات کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے حل موجود ہیں لیکن اصل مسئلہ ان پر موثر عملدرآمد اور نفاذ کا ہے۔ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے بانی عابد عمر نے کہا کہ فصلوں کی باقیات کا مجموعی آلودگی میں حصہ 10 فیصد سے بھی کم ہے، اس لئے پالیسی سازی ڈیٹا کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔انہوں نے محدود وسائل کے مو ¿ثر استعمال پر بھی زور دیا۔عامر حیات اور محسن نے کسانوں کیلئے مالی معاونت، مضبوط سپلائی چین اور مارکیٹ روابط کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مشینری کے فروغ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ویلیو چین کی ترقی کو بھی اہم قرار دیا۔ڈاکٹر امبرین لطیف اور ڈاکٹر صادقہ بتول نے حکومتی اقدامات اور فضائی معیار میں حالیہ بہتری کو سراہتے ہوئے کہا کہ مانیٹرنگ نظام اور نفاذ کے باعث کچھ پیش رفت ہوئی ہے تاہم ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کیلئے مسلسل، مربوط اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات ضروری ہیں۔گفتگو کے دوران شرکاءنے اس بات پر بھی زور دیا کہ پالیسی نفاذ اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں موجود خلا کو فوری طور پر پر کرنا ہوگا تاکہ سموگ کے بحران پر موثر طور پر قابو پایا جا سکے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit