نجینئر عبید الرحمان ضیاء نے اپنے آرٹیکل میں Mancur Olson کی کتاب The Logic of Collective Action کا حوالہ دیا۔
Mancur Olson معروف امریکی ماہرِ معاشیات اور سماجی مفکر تھے جنہوں نے اجتماعی عمل ( Collective Action ) اور مفاداتی گروہوں ( groups interest) پر اہم کام کیا۔The Logic of Collective Action ان کی مشہور کتاب ہے جس کا سادہ سا اُردو ترجمہ”اجتماعی عمل کی منطق“ ہو سکتا ہے۔
1965 میں چھپنے والی اس کتاب کے 2002 تک 20 ایڈیشن شائع ہو چکے تھے میں نے غالباً2004 میں پڑھی تھی اور اہم نکات حسب عادت نوٹ کر لئے تھے۔ اولسن وضاحت سے بتاتے ہیں کہ لوگ مشترکہ مفاد کے باوجود اکثر عملی طور پر اس کے لئے کوشش نہیں کرتے اور عموماً ”فری رائیڈر“بن جاتے ہیں یعنی وہ فائدہ تو اٹھانا چاہتے ہیں مگر اس کے حصول کےلئے حصہ نہیں ڈالتے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے اور منظم مفاداتی گروہ پالیسی سازی پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہہیں ان کی تحقیق معیشت، سیاست اور پبلک پالیسی کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
معیشت اور توانائی کے بحران کو اگر محض اعداد و شمار، پالیسی نوٹس اور سرکاری بیانیوں کی عینک سے دیکھا جائے تو اس کی اصل گہرائی ہم سے اوجھل رہتی ہے ۔Mancur Olson کی فکری دنیا میں داخل ہوکر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے اس دھندلے منظر پر ایک شفاف آئینہ رکھ دیا ہو۔ اس آئینے میں ہمیں صرف بحران نہیں دکھائی دیتا بلکہ وہ رویے،وہ ترجیحات اور وہ اجتماعی کمزوریاں بھی نمایاں ہو جاتی ہیں جو اس بحران کو جنم دیتی ہیں۔ ہمیں ایک ایسا فکری زاویہ میسر آتا ہے جو پاکستان جیسے پیچیدہ اور تضادات سے بھرپور معاشرے کی معاشی حقیقتوں کو نہایت وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتا ہے۔ اولسن کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ اجتماعی مفاد ( good collective) کا حصول خودکار عمل نہیں ہوتا…. یہ نہ تو صرف نیت سے ممکن ہے اور نہ ہی محض شعوری خواہش سے جنم لیتا ہے بلکہ اس کےلئے ایسے ادارہ جاتی، معاشی اور سماجی محرکات درکار ہوتے ہیں جو افراد کو اپنی محدود ذاتی ترجیحات سے اوپر اٹھ کر مشترکہ بھلائی کےلئے عمل کرنے پر آمادہ کریں۔
پاکستان کا توانائی بحران اسی نظریے کی عملی تصویر ہے۔ یہاں ایک طرف پوری قوم سستی، قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی کی خواہاں ہے جبکہ دوسری طرف عملی سطح پر ایسے رویے اور پالیسیاں غالب ہیں جو مقصد کے برعکس نتائج پیدا کررہی ہیں۔ یہ تضاد محض پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی عمل کی کمزوری کا عکاس ہے۔
اجتماعی مفاد خودبخود پیدا نہیں ہوتا اسے پیدا کرنا ، سنبھالنا اور بچانا پڑتا ہے۔ جب فائدہ سب کو یکساں طور پر ملنا ہو تو ذمہ داری کسی ایک کی نہیں ہوتی۔جب ہر فرد یہ گمان کرے کہ کوئی دوسرا آگے بڑھے گا….قربانی دے گا….بوجھ اٹھائے گا تو اجتماعی مفاد ایک ایسی خاموش تمنا بن کر رہ جاتا ہے جو کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھارتی۔
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں یہ رویہ کئی شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ بجلی چوری، بلوں کی عدم ادائیگی اور توانائی کے غیر مو ¿ثر استعمال جیسے عوامل نہ صرف نظام کو کمزور کرتے ہیں بلکہ اس بوجھ کو ان صارفین پر منتقل کر دیتے ہیں جو نسبتاً ایمانداری سے اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔ یوں ایک ایسا دائرہ بنتا ہے جہاں دیانتدار صارف سزا کا حقدار ہوتا ہے اور بدعنوان یا بے قاعدگی کے مرتکب افراد فائدہ اٹھاتے چلے جاتے ہیں۔
پاکستان کا توانائی بحران اسی خاموش تمنا کی ایک زندہ تصویر ہے۔ یہاں ہر شہری سستی اور بلا تعطل بجلی کا خواہاں ہے…. ہر صنعتکار پیداواری لاگت میں کمی کا متمنی ہے اور ہر حکومت توانائی کے شعبے میں استحکام کا دعویٰ کرتی ہے مگر ان تمام خواہشات کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بحران نہ صرف برقرار ہے بلکہ وقت کے ساتھ اپنی شکلیں بدلتا ہوا مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
اولسن کے “فری رائیڈر” کے تصور کو اگر ہم اس تناظر میں دیکھیں تو ایک کڑوی مگر سچی تصویر سامنے آتی ہے۔ بجلی چوری کرنے والا صارف، بل ادا نہ کرنے والا ادارہ یا توانائی کے ضیاع کو معمول سمجھنے والا معاشرہ…. سب اسی ذہنیت کے مظاہر ہیں ۔دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا نظام تشکیل پاچکا ہے جس میں ایمانداری بوجھ بن کر رہ گئی ہے اور بے ضابطگی ایک سہولت….!
یہی وہ مقام ہے جہاں اولسن کی ایک اور بصیرت ہماری رہنمائی کرتی ہے”چھوٹے مگر منظم مفاداتی گروہ ہمیشہ بڑے مگر منتشر عوامی مفاد پر غالب آ جاتے ہیں“۔ پاکستان کے توانائی کے منظرنامے میں یہ حقیقت کسی پوشیدہ راز کی طرح نہیں بلکہ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ وہ حلقے جو پالیسی سازی تک رسائی رکھتے ہیں جو اپنی آواز کو موثر انداز میں منظم کر سکتے ہیں وہی فیصلوں کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اس کے برعکس عام شہری یا صارفین جو تعداد میں تو بے شمار ہیں مگر تنظیم سے محروم ہیں اور محض نتائج کا بوجھ اٹھانے پر مجبور بنا دیئے گئے ہیں۔جب اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد غالب آ جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
یہی عدم توازن توانائی کی پالیسیوں میں بھی نظر آتاہے جہاں قلیل مدتی سیاسی مفادات اکثر طویل مدتی قومی مفاد پر غالب آ جاتے ہیں۔ سستی بجلی کے اعلانات، سبسڈی کی بارش، یا وقتی ریلیف کے اقدامات….یہ سب ایسے مرہم ہیں جو اگرچہ زخم کو وقتی طور پر چھپا دیتے ہیں مگر اس کے ناسور بننے کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔
گردشی قرضہ اس ناسور کی نمایاں علامت ہے۔ یہ محض ایک عددی مسئلہ نہیں بلکہ ایک کہانی ہے….ایسی کہانی جس میں ہر کردار اپنی ذمہ داری سے کچھ نہ کچھ پہلو تہی کرتادکھائی دیتا ہے۔ یہ بات بھی بڑی حد تک درست ہے کہ جب تک کسی نظام میں ذمہ داری کا واضح تعین اور اس کی ادائیگی کا موثر نظام موجود نہ ہو، اجتماعی مفاد محض ایک خواب ہی رہتا ہے۔
توانائی اور معیشت کا رشتہ یہاں ایک دریا اور اس کے کناروں کی مانند ہے۔ اگر دریا کا بہاو غیر متوازن ہو تو کنارے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ مہنگی توانائی صنعت کو کمزور کرتی ہے، برآمدات کو غیر مسابقتی بناتی ہے اور مہنگائی کی لہر کو جنم دیتی ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دیتا چلا جاتا ہے اور معیشت ایک ایسے گرداب میں پھنس جاتی ہے جہاں ہر حل ایک نئے مسئلے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ ایسی کیفیت ” ادارہ جاتی جمود“ کہلاتی ہے….یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے جس میں نظام اپنی کمزوریوں کو پہچاننے کے باوجود انہیں بدلنے کی سکت کھو دیتا ہے۔ پاکستان کا توانائی کا شعبہ بھی کسی حد تک اسی جمود کا شکار ہے….یہاں اصلاحات کی بات تو ہوتی ہے مگر عملدرآمد کی راہیں ہمیشہ مفادات کے جال میں اُلجھی رہتی ہیں۔
شمسی توانائی ایک نئی امید کے طور پر اُبھری …. جو نہ صرف توانائی کی کمی کو پورا کر سکتی تھی بلکہ معیشت کو بھی ایک پائیدار راستے پر ڈال سکتی تھی۔ نیٹ میٹرنگ کا تصور بھی اسی اُمید اور اجتماعی سوچ کی عملی شکل تھا جس میں صارف نے نہ صرف اپنی ضرورت پوری کرنی تھی بلکہ اضافی توانائی کو نظام میں شامل کر کے اجتماعی بھلائی میں حصہ بھی ڈالنا تھا۔ یہ ایک ایسا ماڈل تھا جو اولسن کے نظریے کے برعکس ایک مثبت مثال پیش کر سکتا تھا…. انفرادی مفاد اور اجتماعی مفاد ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر مسائل کے پہاڑ کی اونچائی کم کر سکتے تھے….مگر پالیسی رجحانات نے اس ہم آہنگی کو تضاد میں بدل دیا …. صارفین سے سستی شمسی توانائی خریدنا اور انہیں مہنگی بجلی فروخت کرنے کا حکومتی فیصلہ ایک ایسا منظر نامہ بن گیا جس سے انصاف کا توازن بگڑتا ہوا محسوس ہونے لگا۔اب یہ محض قیمتوں کا فرق نہیں رہا بلکہ اعتماد کا سوال بن گیا ہے…. ایسا اعتماد جو کسی بھی اجتماعی نظام کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب صارف یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی سرمایہ کاری کا صلہ غیر منصفانہ ہے تو اس کا ردِ عمل اجتماعی نظام سے دوری کی صورت میں نکلتا ہے اور وہ انفرادیت کی طرف قدم بڑھا دیتا ہے۔
اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ سولر پینلز کی تنصیب کو لائسنس یا پیچیدہ اجازت ناموں سے مشروط کیا جا رہا ہے اگر ایسا ہواتوایک ایسا اقدام جو اجتماعی طور پر فائدہ مند ہو سکتا تھا ایک محدود دائرے میں سمٹ کر رہ جائے گا۔
یہ وہی صورتحال ہے جس کی طرف اولسن اشارہ کرتے ہیں کہ منظم مفادات نئے داخل ہونے والوں کے لئے رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں تاکہ اپنے مفادات کو محفوظ رکھا جا سکے۔
یہاں مسئلہ صرف پالیسی کا نہیں بلکہ فلسفے کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے شہری کو ایک شریک کے طور پر دیکھتی ہے یا محض ایک صارف کے طور پر؟ کیا توانائی کا شعبہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے یا محض ایک مالیاتی بوجھ؟ یہ سوالات اس بحث کا مرکز ہیں اور ان کے جوابات ہی مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔
اجتماعی عمل کو موثر بنانے کےلئے ایسے محرکات ضروری ہیں جو افراد کو اپنی ذاتی ترجیحات سے اوپر اٹھنے پر آمادہ کریں۔ اگر نظام انفرادی کوشش کو سزا دے اور بے عملی کو سہولت فراہم کرے تو پھر کوئی بھی اصلاح دیرپا نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کےلئے یہی سب سے بڑا سبق ہے کہ پالیسی سازی کو اس نہج پر لایا جائے جہاں انفرادی مفاد اور اجتماعی بھلائی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ معاون بن جائیں۔
توانائی کا بحران دراصل ایک کہانی ہے….ایسی کہانی جس میں روشنی کی تلاش تو ہے مگر راستے میں سایوں کا ہجوم ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں منزل واضح ہے مگر راستہ دھندلا…. اور اس دھند کے پار دیکھنے کیلئے صرف وسائل نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور اجتماعی ارادہ درکار ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ قومیں اپنے وسائل سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے بنتی اور بگڑتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنے اجتماعی رویوں کو درست نہ کیا تو ہر نئی پالیسی، ہر نئی سرمایہ کاری، اور ہر نئی اُمید اسی پرانے دائرے میں گھومتی رہے گی …. اگر ہم نے اس دائرے کو توڑنے کا حوصلہ پیدا کر لیا تو شاید یہی بحران ایک نئے آغاز کا پیش خیمہ بن جائے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit