اسلام آباد ( صباح نیوز) پارلیمنٹیرینز، پالیسی اور صنفی امور کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی پہلی خاتون سیکرٹری جنرل کے انتخاب کےلئے سفارتی سطح پر فعال حکمتِ عملی اپنانی چاہئے۔ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی( ایس ڈی پی آئی) اور سدرن وائس کے مشترکہ ویبینار میں مقررین نے کہا کہ یہ موقع نہ صرف صنفی مساوات کے عالمی ایجنڈے کےلئے اہم ہے بلکہ پاکستان کےلئے بھی ایک سٹریٹجک کردار ادا کرنے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سیکرٹری جنرل کے انتخاب کےلئے واضح قومی حکمتِ عملی، ادارہ جاتی اصلاحات اور عالمی سطح پر اتحاد سازی ضروری ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ کے 2026 کے انتخابی عمل میں موثر اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
ویبینار کا موضوع اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے انتخاب میں خواتین کی قیادت کو فروغ دیناتھا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی ٹاسک فورس برائے ایس ڈی جیز کی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ یہ معاملہ دراصل صلاحیت کا نہیں بلکہ طاقت اور طریقہ کار کا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایک ٹھوس عملی منصوبہ تیار کرنا ہوگا تاکہ 2026 کے انتخابی عمل پر موثر اثر ڈالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک مربوط روڈ میپ تشکیل دینا چاہئے جس میں حکومت، سفارتی مشنز اور اقوام متحدہ میں موجود نمائندے شامل ہوں تاکہ ایک خاتون امیدوار کی حمایت کی جا سکے اور انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر شفقت منیراحمد نے کہا کہ خواتین کی عالمی سطح پر باصلاحیت خواتین کی کمی نہیں بلکہ عالمی نظام میں کرداروں کی صنفی درجہ بندی اور تعصب بڑی رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیا پیسفک خطے میں خواتین رہنماوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ انہوں نے یونائیٹڈ نیشنز اکنامک اینڈ سوشل کمیشن فار ایشیا اینڈ دی پیسفک کی مثال دیتے ہوئے ڈاکٹر شمشاد اختر کی خدمات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ قیادت کو صنفی مفروضوں سے آزاد ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔قومی کمیشن برائے حیثیتِ نسواں کی سیکرٹری حمیرا مفتی نے تجویز دی کہ پاکستان کو قابلِ اعتماد خواتین امیدواروں کی نشاندہی کر کے ان کی باضابطہ حمایت کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس عمل میں کامیابی کا دارومدار مسلسل سفارتی کوششوں، وسائل کی فراہمی اور بروقت حکمتِ عملی پر ہوگا۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردو کی چیئرپرسن ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے تعلیمی اصلاحات کے ذریعے طویل المدتی تبدیلی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نصاب میں خواتین رہنماوں کے کردار کو شامل کیا جائے اور خواتین کی قیادت کےلئے منظم مینٹرشپ پروگرام شروع کئے جائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ معاشرتی رویوں اور غیر مرئی نصاب کو تبدیل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہی وہ عوامل ہیں جو خواتین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کی محقق عائشہ نعیم نے پالیسی پیپر ”ون فار 8 بلین: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے انتخاب میں صنفی شمولیت“ پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ مقالے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی اور سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے غلبے کو بنیادی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے اور تجویز دی گئی ہے کہ پسِ پردہ فیصلوں کو محدود کیا جائے اور بڑی طاقتوں پر انحصار کم کرنے کیلئے جنرل اسمبلی میں متعدد امیدوار پیش کئے جائیں ۔ سوال و جواب کے سیشن میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بطور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے موجودہ رکن اپنے سٹریٹجک موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ صنفی مساوات کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے اور ایسے اصلاحاتی اقدامات کی وکالت کرے جو شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنائیں۔اختتامی کلمات میں ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ اگرچہ دنیا میں پہلی خاتون سیکرٹری جنرل کے انتخاب کےلئے عالمی سطح پر رجحان بڑھ رہا ہے لیکن اس ہدف کے حصول کےلئے قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر مربوط اور مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit