دونوں اداروں کا تحقیق، تربیت اور پالیسی معاونت پر اتفاق،ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کا شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کی ضرورت پر زور
آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط اور موثر بنانے پر زور: مشترکہ تحقیقی منصوبے، ورکشاپس اور تربیتی پروگرامز منعقد کرائے جائینگے
اسلام آباد( )پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی ( ایسڈی پی آئی ) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے آفات کے خطرات میں کمی، موسمیاتی آفات کی پیشگوئی اور قبل از وقت اقدامات کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق، تربیت اور پالیسی معاونت کو فروغ دینے کےلئے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد قومی سطح پر آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینا اور ادارہ جاتی تعاون کو نئی جہت دینا ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے مشترکہ تحقیقی منصوبے، پالیسی بریفز کی تیاری، تربیتی مواد کی اشاعت، ورکشاپس، کانفرنسز اور سمیولیشن مشقوں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ استعداد کار بڑھانے کے پروگرام اور پیشہ ورانہ تبادلوں پر بھی کام کریں گے۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی نے این ای او سی کو پالیسی سازی کےلئے ایک اہم ڈیٹا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے آفات کے خطرات سے نمٹنے کےلئے اجتماعی اور خود انحصار حکمت عملی ناگزیر ہے، جبکہاین آئی دی ایم نے اسے موسمیاتی و قدرتی آفات کے مقابلے میں ایک اہم علمی و تکنیکی شراکت داری قرار دیا ہے۔ مفاہمتی یادداشتپر ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری او این آئی ڈی ایم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایئر کموڈور (ر) تنویر پِراچہ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں منعقدہ تقریب کے دوران دستخط کئے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہاین ڈی ایم اے کا نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر ایک قیمتی ڈیٹا اور شواہد کا ذخیرہ ہے جو پالیسی سازوں کو قومی، صوبائی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا موثر قانون سازی اور بہتر آفات مینجمنٹ نظام کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں آفات کا دائرہ اور شدت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس سے نمٹنے کےلئے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر سلہری نے تجویز دی کہایس ڈی پی آئی کے فیکلٹی ارکان اور سابق طلبہ کو این آئی ڈی ایم میں وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ مختلف موضوعات پر علمی و تحقیقی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ادارے مشترکہ ورکشاپس اور کانفرنسز کا انعقاد بھی کر سکتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آفات کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار سے نمٹنے کے لئے اندرونی وسائل کو متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) انعام حیدر ملک نےایس ڈی پی آئی کے وفد کوادارے کی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تکنیکی جدت کے ذریعے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر قائم کیا گیا ہے جو علاقائی اور عالمی سطح پر آفات کی پیشگوئی کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی درستگی بھی حوصلہ افزا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر سال آفات کی شدت اور ان کی زد میں آنے والے علاقوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لئے این ڈی ایم اے جدید اور مو¿ثر حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے این ای او سی کے ذریعے عالمی تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی این جی اوز کو ایک نیٹ ورک میں جوڑ دیا ہے تاکہ آفات کے مقابلے میں مشترکہ کوششوں کو فروغ دیا جا سکے۔ ایئر کموڈور (ر) تنویر پِراچہ نے اس معاہدے کو دونوں اداروں کےلئے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری صرف ایک معاہدے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک دیرپا علمی تعاون کی شکل اختیار کرے گیانہوں نے کہا کہ دنیا میں جغرافیائی اور عسکری تنازعات کے باعث ڈونر فنڈنگ میں کمی اور مالی وسائل کی قلت پیدا ہو رہی ہے جس کے باعث اداروں کو جدید، غیر روایتی اور باہمی تعاون پر مبنی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit