فائیو جی معیشت کےلئے جامع اصلاحات اور ٹیکس میں نرمی ناگزیر،ایس ڈی پی آئی ماہرین-10921-News

فائیو جی معیشت کےلئے جامع اصلاحات اور ٹیکس میں نرمی ناگزیر،ایس ڈی پی آئی ماہرین-10921-News-SDPI

SDPI twitter

News


فائیو جی معیشت کےلئے جامع اصلاحات اور ٹیکس میں نرمی ناگزیر،ایس ڈی پی آئی ماہرین

اسلام آباد(صباح نیوز ) ماہرین، پالیسی سازوں اور ٹیلی کام صنعت کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے فائیو جی ٹیکنالوجی کو صنعت، زراعت، تعلیم، صحت اور کاروباری شعبوں کے ساتھ موثر انداز میں نہ جوڑا تو ملک ایک بار پھر عالمی ڈیجیٹل معیشت کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک اہم مکالمے میں شرکاءنے مطالبہ کیا کہ فائیو جی کے کامیاب نفاذ کے لئے ٹیکسوں میں کمی، جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، صنعت و جامعات کے درمیان مضبوط روابط، سستے اسمارٹ فونز کی فراہمی اور دیہی علاقوں تک جامع رسائی کو یقینی بنایا جائے۔فائیو جی معیشت کی تشکیل:

 انڈسٹری 4.0، کاروباری شعبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور ایکو سسٹم کی تیاری کے موضوع پرمنعقدہ اس اہم عوامی و نجی مکالمے سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو اور ماحولیاتی پائیداری و سرکلر اکانومی یونٹ کی سربراہ زینب نعیم نے کہا کہ یہ مکالمہ فائیو جی کے نفاذ اور اس شعبے کے فروغ کےلئے درکار اقدامات سے متعلق جاری مباحث کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشاورت کا مقصد ان بنیادی رکاوٹوں، ضابطہ جاتی تقاضوں اور مالیاتی پالیسیوں کی نشاندہی کرنا ہے جو پاکستان کی ابھرتی ہوئی فائیو جی معیشت کو سہارا دے سکیں۔ایس ڈی پی آئی کے سینئر مشیر ایمریٹس بریگیڈیئر (ر) محمد یاسین نے اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ پاکستان فائیو جی ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی اور چوتھے صنعتی انقلاب کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائیو جی صحت، زراعت، تعلیم، صنعت اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے اور اس سے جدت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ بریگیڈیئر یاسین نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فائیو جی کو صنعتی و معاشی پالیسیوں کے ساتھ مربوط کرے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے رکن سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے خبردار کیا کہ پاکستان ماضی کی طرح ابھرتی ہوئی علمی معیشت کا موقع ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا سینٹرز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کےلئے ڈیٹا پروٹیکشن بل سینیٹ میں پیش کیا جا چکا ہے اور یہ قانون اربوں ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل سائبر ویجیلنس ڈاکٹر محمد مکرم خان نے کہا کہ حکومت نے فائیو جی کے لئے شفاف اور آزاد پالیسی فریم ورک اپنایا ہے جبکہ پی ٹی اے مزید 120 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی تیاری کر رہی ہے۔ڈاکٹر مکرم خان نے کہا کہ پی ٹی اے مسلسل حکومت پر زور دے رہی ہے کہ موبائل سروسز اور فائیو جی ٹیکنالوجی پر عائد ٹیکس کم کئے جائیں تاکہ صارفین کےلئے ڈیجیٹل سہولیات سستی ہو سکیں۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ اگر صنعت، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کو فائیو جی کے ساتھ مربوط انداز میں ترقی دی جائے تو آئندہ چند برسوں میں پیداواری صلاحیت میں پانچ فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے رکن جہانزیب رحیم نے کہا کہ حکومت نے موبائل، زمینی اور آپٹک فائبر رابطوں پر مشتمل جامع پالیسی اختیار کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 600 میگا ہرٹز ٹیلی کام انفراسٹرکچر تیار کیا جا چکا ہے جبکہ 480 میگا ہرٹز فائیو جی اسپیکٹرم پہلے ہی نیلام اور آپریٹرز کے حوالے کیا جا چکا ہے جبکہ لو-آربٹ سیٹلائٹ رابطوں، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز کےلئے قانونی فریم ورک بھی منظور کئے کئے جا چکے ہیں۔لرن ایشیا کے سینئر پالیسی فیلو محمد اسلم حیات نے حکومت پر زور دیا کہ ڈیمانڈ پر مبنی پالیسیاں اپنائی جائیں، ڈیوائسز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر ٹیکس کم کئے جائیں، انفراسٹرکچر شیئرنگ کو فروغ دیا جائے اور نجی صنعتی فائیو جی نیٹ ورکس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔جاز پاکستان کی ہیڈ آف کمیونیکیشن اینڈ ای ایس جی فاطمہ اختر نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بھاری ٹیکس ہے کیونکہ ان کی آمدن کا تقریباً 40 سے 45 فیصد حصہ ٹیکسوں کی مد میں چلا جاتا ہے۔محمد ذیشان نے کہا کہ پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کا اصل مسئلہ فائبر کی دستیابی نہیں بلکہ اس کی تنصیب اور توسیع ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ شاہراہوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی میں ٹیلی کام آپریٹرز کو شامل کیا جائے تاکہ ملک بھر میں رابطے کے نظام کو موثر بنایا جا سکے۔پی ٹی سی ایل کے گروپ ڈائریکٹر پروڈکٹ مینجمنٹ آئی سی ٹی اینڈ کنیکٹیویٹی عدنان وحید نے کہا کہ فائبر آلات پر زیادہ ٹیکس اور رائٹ آف وے ادائیگیاں انفراسٹرکچر کی توسیع میں بڑی رکاوٹ ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیوائسز کی درآمد آسان بنائی جائے اور مقامی سطح پر ڈیوائس مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔اختتامی کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ فائیو جی کے کامیاب نفاذ کے لئے مضبوط اور تیار ایکو سسٹم ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ادارہ جاتی سوچ اور انفراسٹرکچر کے مسائل حل نہ کئے گئے تو اسپیکٹرم موثر استعمال کے بغیر رہ جائے گا۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit