ایران جنگ: پاکستان چین سے شراکت داری مضبوط بنا ئے ، سینیٹرمشاہد-10923-News

ایران جنگ: پاکستان چین سے شراکت داری مضبوط بنا ئے ، سینیٹرمشاہد-10923-News-SDPI

SDPI twitter

Press Release


ایران جنگ: پاکستان چین سے شراکت داری مضبوط بنا ئے ، سینیٹرمشاہد

 موجودہ صورتحال میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت بڑھ گئی،پاکستان توانائی، معیشت اور سفارتی حکمتِ عملی پرنظرثانی کرے

 بحران نے عالمی توانائی، سرمایہ کاری اور دفاعی نظام بدل دیا:گول میز مذاکرہ سے ڈاکٹر عابد، ساجد امین اور دیگر کا خطاب

اسلام آبادایران تنازع کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی، خوراک اور مالیاتی بحران کے پاکستان پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر توانائی، مالیاتی اور تزویراتی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرے، قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیز رفتار منتقلی یقینی بنائے، مہنگائی سے متاثرہ طبقات کے لئے سماجی تحفظ کا دائرہ وسیع کرے۔ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیرِ اہتمام”ایران تنازع کی حرکیات: مضمرات اور انتخاب” کے عنوان سے منعقدہ گول میز مذاکرے میں مقررین نے خبردار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی توانائی رسد کو لاحق خطرات، بڑھتی مہنگائی، صنعتی شعبے کے لئے گیس بحران اور محدود مالی گنجائش کے باعث پاکستان کو شدید معاشی دباو کا سامنا ہو سکتا ہے۔ افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرعابد قیوم سلہری نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے عالمی توانائی نظام، سرمایہ کاری کے بہاوفضائی سفر کے رجحانات اور دفاعی حکمتِ عملیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ خلیجی ممالک کی محفوظ سرمایہ کاری مرکز کی حیثیت بھی سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے کلیدی خطاب میںنے ایران تنازع کو 1956 کے نہرِ سویز بحران کے بعد سب سے اہم جغرافیائی سیاسی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ نے عالمی اتحادوں کی بنیادیں ہلا دی ہیں اور مغربی تزویراتی یکجہتی کو کمزور کر دیا ہے۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے زور دیا کہ پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی بحالی، علاقائی روابط اور بالخصوص چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔انہوں نے پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی کی بھی حمایت کی تاکہ پاکستان کو سستی اور مسلسل توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ایس ڈی پی آئی کے سینئر ایمرٹس مشیر ڈاکٹراحسان محمود خان نے کہا کہ ایران جنگ دراصل مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں سے جاری جغرافیائی اور نظریاتی کشیدگیوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی حکمت اور تزویراتی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر تو موثر کارکردگی دکھا رہا ہے لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اندرونی طور پر بھی بالخصوص معیشت اور طرزِ حکمرانی میں اسی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے خبردار کیا کہ یہ تنازع اب توانائی، خوراک اور مالیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے طویل المدتی اثرات ترقی پذیر ممالک کو متاثر کر سکتے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کے ابتدائی تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مجموعی مہنگائی کی شرح 11 سے 13 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مقررہ ہدف سے تقریباً دوگنا ہے۔ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے خبردار کیا کہ خلیجی ایل این جی پر پاکستان کا زیادہ انحصار اور محدود مالی گنجائش ملک کو طویل علاقائی عدم استحکام کے مقابلے میں انتہائی حساس بنا رہی ہے۔فوری پالیسی اقدامات تجویز کرتے ہوئے ڈاکٹر ساجد نے کہا کہ کمزور طبقوں کےلئے ہدفی سبسڈیز اور نقد امداد میں اضافہ کیا جائے، مہنگائی سے متعلق مرکزی بینک کی حکمتِ عملی کو موثر بنایا جائے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری روکنے کے لئے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کیا جائے اور آئندہ وفاقی بجٹ کو اس انداز میں تشکیل دیا جائے کہ تنخواہ دار اور کم آمدنی والے طبقے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کیلئے سستی قابلِ تجدید توانائی میں درمیانی اور طویل المدتی سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔سوال و جواب کے سیشن میں مہنگائی سے متاثرہ آبادی کی مدد کےلئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور نادرا جیسے اداروں کے ذریعے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید وسعت دینا ضروری ہے کیونکہ صرف گاڑی استعمال کرنے والے ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوتے ہیں۔ڈاکٹر ساجد نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس سلیبز پر نظرثانی کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ متوسط طبقے کو اس بحران کا شکار نہیں بننا چاہئے۔ ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ اس بحران کے دوران پاکستان کو بعض جغرافیائی معاشی مواقع بھی حاصل ہوئے ہیں۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی توانائی بحران ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ تیل کے ذخائر کم ہو چکے ہیں اور مزید رکاوٹیں تیل کی قیمتوں میں ایک اور بڑے اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات گہرے، تاریخی اور تزویراتی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے اندر موجود “فکری احساسِ کمتری” سے نکل کر اپنی تزویراتی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران تنازع کے بعد پاکستان کی تزویراتی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے اور ملک کو آنے والے تین برس معاشی استحکام اور تعمیرِ نو کےلئے بھرپور انداز میں استعمال کرنے چاہئیں۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit