موسمیاتی موافقت پاکستان کی بقا کا تقاضا ہے، ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی مالیاتی وعدے پورے کرنا ہوں گے
قومی پالیسی میںماحول دوست منصوبوں کو شامل کیا جائے، ڈاکٹر شفقت، خالد ولید اور زینب نعیم کا خطاب
پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا ہے کہ عالمی یومِ ماحولیات 2026 محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف فوری اور موثر اقدامات کی یاددہانی ہے کیونکہ دنیا حیاتیاتی تنوع کے بے مثال نقصان، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور شدید موسمی واقعات کا سامنا کر رہی ہے۔عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے موقع پر ایس ڈی پی آئی کی جانب سے ”موسمیاتی اقدام کے لئے عالمی پکار“ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عابد نے زور دیا کہ اس سال کا موضوع عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو سالانہ 100 ارب ڈالر کے موسمیاتی مالیاتی وعدے پورے کرنا ہوں گے جبکہ نقصانات اور تباہ کاریوں کے ازالے کےلئے فنڈز کی فراہمی کو بھی بیوروکریٹک رکاوٹوں سے پاک بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک کےلئے موسمیاتی موافقت کوئی انتخاب نہیں بلکہ بقا کا تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوکش کے گلیشیئرز کے پگھلاو سے لے کر جنوبی ایشیا میں جان لیوا گرمی کی لہروں تک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات فوری اور اجتماعی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ”لونگ انڈس انیشی ایٹو“ اور ”ری چارج پاکستان“ جیسے کمیونٹی پر مبنی اور فطرت دوست منصوبوں کو آئندہ قومی موسمیاتی اہداف کا حصہ بنایا جائے۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ موسمیاتی حکمرانی میں شفافیت اور جوابدہی ناگزیر ہے۔ ان ہوں نے کہا کہ پاکستان کو سالانہ سات ارب ڈالر سے زیادہ کے موسمیاتی مالیاتی خسارے کا سامنا ہے جسے گرین بانڈز، فطرت پر مبنی حل، قرض کے بدلے موسمیاتی اقدامات اور پیشگی موسمیاتی مالیاتی نظام جیسے جدید ذرائع سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر ”آلودگی پھیلانے والا قیمت ادا کرے“ کے اصول کو موثر بنایا جائے۔انہوں نےکہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خواتین اور پسماندہ طبقات پر زیادہ شدید ہوتے ہیں، اس لئے موسمیاتی پالیسیوں میں صنفی حساس بجٹ سازی اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو لازمی بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے پیشگی موسمیاتی مالیات کو باقاعدہ بجٹ کا حصہ بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ممکنہ آفات سے قبل تیاری، انخلا اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو اور ماہرِ توانائیخالد ولید نے کہا کہ پاکستان نے پائیدار ترقیاتی ہدف 13 (موسمیاتی اقدام) کے تحت نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اس کے ثمرات اسی وقت حقیقی معنوں میں حاصل ہوں گے جب سیلاب، گرمی کی لہروں، بے دخلی اور معاشی نقصانات سے متاثرہ کمزور طبقات تک ان کے فوائد پہنچیں۔ انہوں نے موسمیاتی محصولات کو شفاف انداز میں سماجی تحفظ، موسمیاتی موافق روزگار، بنیادی ڈھانچے اور صاف توانائی کی فراہمی پر خرچ کرنے کی سفارش کی۔ایس ڈی پی آئی کی سربراہ برائے ماحولیاتی پائیداری و سرکلر اکانومی زینب نعیمنے کہا کہ پاکستان اس وقت فضائی آلودگی، سموگ، ماحولیاتی تنزلی، ناقص ویسٹ مینجمنٹ اور شہری علاقوں میں بڑھتے موسمیاتی خطرات سمیت متعدد ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچرے کے ناقص انتظام کا مسئلہ سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا چیلنج ہے جو صحتِ عامہ، قدرتی ماحولیاتی نظام اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو نجی شعبے کی شمولیت کے ساتھ سرکلر اکانومی کی جانب تیزی سے پیش رفت، ماحولیاتی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں فطرت پر مبنی حلوں کو مرکزی حیثیت دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو موسمیاتی اور ماحولیاتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا جا سکے۔۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit