گزشتہ چند مہینوں میں امریکہ نے تقریباً 80 ہزار نوکریاں ختم کی ہیں۔ اسی طرح سویڈن، نیدرلینڈز اور آسٹریلیا نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 50 فیصد نوکریاں ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق تھیں۔ گزشتہ ایک سال میں ترقی یافتہ ممالک میں مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں میں کمی ایک عام رجحان بن چکی ہے۔ نوکریوں میں کمی سے جو سرمایہ بچتا ہے، اسے اب ڈیٹا مراکز اور ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر لگایا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے یہ ڈیجیٹل ڈھانچہ پھیلتا جائے گا اور مزید ڈیٹا مراکز قائم ہوں گے، ویسے ویسے خاص طور پر کسٹمر سروس اور انتظامی شعبوں میں مزید نوکریاں ختم ہونے کا امکان ہے۔ اس سے متاثر ہونے والے افراد کےلئے حالات مسلسل بدل رہے ہیں۔
بین الاقوامی محنت تنظیم کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریباً 25 فیصد کارکن ایسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں جو کسی نہ کسی حد تک مصنوعی ذہانت سے متاثر ہو سکتے ہیں لیکن صرف 3.3 فیصد افراد ایسے کاموں میں ہیں جو زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت زیادہ تر ملازمتوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گی بلکہ انہیں تبدیل اور بہتر کرے گی۔ اسی طرح جو نوکریاں ختم ہو رہی ہیں وہ بڑی کارپوریٹ تنظیم نو کا ایک چھوٹا حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر 2025 میں اگرچہ امریکی کمپنیوں نے بارہ لاکھ سے زیادہ نوکریاں ختم کیں لیکن ان میں سے صرف 55 ہزار نوکریاں براہ راست مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ختم ہوئیں۔ دوسری طرف جہاں ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں، وہاں نئی ملازمتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت نے 1 کروڑ 10 لاکھ نئی نوکریاں پیدا کیں جبکہ 90 لاکھ نوکریاں ختم ہوئیں، یوں مجموعی طور پر 20 لاکھ نوکریوں کا اضافہ ہوا۔
جیسے جیسے بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں اپنے بڑے عوامی شیئرز جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہیں وہ ملازمتوں کے خاتمے پر ہونے والی بحث سے خود کو دور رکھ رہی ہیں۔ سفید پوش ملازمتوں کا خاتمہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے بارے میں ضرورت سے زیادہ دعوے چھپائے جا سکتے ہیں جو اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اب لوگ اس کی حدود، خاص طور پر سائنسی، تکنیکی اور خودکار نظاموں میں اس کی کمزوریوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
پیرس میں حال ہی میں دنیا بھر کے150 سے زیادہ پروفیسروں نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ریاضی کے شعبے کو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے غیر حقیقی دعووں سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ اس اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ حکومتیں اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کے بارے میں مبالغہ آرائی پر یقین نہ کریں۔ اس میں کہا گیا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت نئے مواقع پیدا کرتی ہے لیکن اس کے ایسے سوالات بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بین الاقوامی ریاضیاتی اتحاد کے نائب صدر کے مطابق ریاضی کی تحقیق انسانی بصیرت، شفاف اصولوں اور عالمی سائنسی برادری کی مشترکہ اقدار کے مطابق ہونی چاہیے۔
یہ اثرات اب پاکستان میں بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں جو پہلے ہی ذہنی و فکری ہجرت کے مسئلے کا شکار رہا ہے۔ اپریل 2022 کے بعد سے پاکستان سے 5 لاکھ سے زیادہ ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جا چکے ہیں۔ بیرون ملک روزگار کے ادارے کے مطابق 2025 میں یہ تعداد 7 لاکھ42 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔ ان میں 13 ہزار سے زیادہ اعلیٰ ہنر مند انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل تھے، جبکہ2 لاکھ 22 ہزار سے زیادہ ڈاکٹر، انجینئر، تکنیکی ماہرین، نرسیں، اکاو¿نٹنٹ اور اساتذہ ملک چھوڑ گئے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق ہنر مند افراد کے ملک چھوڑنے کی بڑی وجوہات میں روزگار کے مواقع کی کمی، ذاتی تحفظ کا فقدان اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں تخلیقی سوچ رکھنے والوں اور جدید مہارت رکھنے والوں کے لئے بہت کم جگہ موجود ہے۔
اعلیٰ ہنر مند افراد کی ہجرت کی دیگر وجوہات میں پاکستان اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان تنخواہوں کا بڑا فرق، جدید ٹیکنالوجی کے ڈھانچے کی کم ترقی، اور ٹیکنالوجی کو درآمد کرنے کو ترجیح دینا شامل ہے۔ پاکستان میں بڑے ڈیٹا سیٹس، ڈیٹا مراکز اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط ربط کا فقدان ہے۔ جامعات، صنعت، تحقیقی اداروں اور حکومتی پالیسی سازی کے درمیان تعاون نہ ہونے کے برابر ہے۔ جامعات کی تحقیق اکثر عملی ضروریات پر مبنی نہیں ہوتی۔
تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے باوجود ترقی پذیر ممالک سے ہنر مند افراد کی ہجرت نہیں رکی۔ پاکستان کے تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں ذہنی و فکری ہجرت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کیونکہ اس سے بے روزگاری میں کمی اور ترسیلات زر کے ذریعے زرمبادلہ میں اضافہ ہو سکتا ہے؟ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ماہر افراد واپس آ کر اپنے تجربات سے ملک کو فائدہ پہنچائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے نقصانات زیادہ ہیں۔ پاکستان ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کے بجائے بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا رہے گا اور ڈیٹا، کمپیوٹنگ اور جدید ڈھانچے میں پیچھے رہ جائے گا۔
پاکستان کو اس خطرے سے بچنے کےلئے اپنی مسابقتی ٹیکنالوجی خود تیار کرنا ہوگی۔ جامعات کی تحقیق کو ضرورت پر مبنی بنانا ہوگا۔ جامعات، صنعت، تحقیقی اداروں اور حکومت کے درمیان مضبوط تعلق ضروری ہے۔ طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انجینئرنگ کے طلبہ کے لئے صنعتی تربیت لازمی ہونی چاہئے۔ جامعات اور صنعت کو مل کر عملی منصوبوں پر کام کرنا چاہئے۔ پاکستان کو قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا انفراسٹرکچر کا منصوبہ بنانا چاہئے جس میں اردو اور علاقائی زبانوں کے ڈیٹا سیٹس کی تیاری کو ترجیح دی جائے تاکہ مقامی ضروریات کے مطابق نظام تیار ہو سکیں۔ تحقیق و ترقی کےلئے بجٹ کم از کم قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر ہونا چاہئے
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit