کوئلے سے صاف توانائی کی جانب پیش رفت تیز کی جائے: ماہرین-11166-News

کوئلے سے صاف توانائی کی جانب پیش رفت تیز کی جائے: ماہرین-11166-News-SDPI

SDPI twitter

News


کوئلے سے صاف توانائی کی جانب پیش رفت تیز کی جائے: ماہرین

اسلام آ باد ( صباح نیوز ) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے کوئلے پر انحصار کم کرنے، کم استعمال ہونے والے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو جدید اور ماحول دوست مقاصد کے لئے بروئے کار لانے اور کھانا پکانے کی ماحول دوست ٹیکنالوجی کو تیزی سے فروغ دینے کے لئے فوری اور جامع اقدامات نہ کئے تو نہ صرف موسمیاتی اہداف کا حصول مشکل ہو جائے گا بلکہ برآمدات، توانائی کے شعبے اور قومی معیشت کو بھی سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس مقصد کےلئے موسمیاتی مالی وسائل کے مو ¿ثر استعمال اور وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط پالیسی سازی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔یہ انتباہ”فوسل فیول سے آگے: صاف توانائی کی جانب منتقلی کے راستے“ کے موضوع پر منعقدہ پالیسی مکالمے میں کیا گیا جس کا جس کا اہتمام پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) اور اقوام متحدہ کے ایشیا و بحرالکاہل کے اقتصادی و سماجی کمیشن (UNESCAP) نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔مکالمے کے دوران دو تحقیقی رپورٹس بھی جاری کی گئیں جن میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو نئے مقاصد کے لئے استعمال کرنے اور ماحول دوست کھانا پکانے کے مو ¿ثر حل پر تفصیلی سفارشات پیش کی گئیں۔

تقریب میں حکومتی پالیسی سازوں، محققین، توانائی کے ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی اور پاکستان میں توانائی کی منتقلی کے قابلِ عمل راستوں پر تبادلہ خیال کیا۔شرکاءکا خیرمقدم کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ ماحول دوست کھانا پکانے کا موضوع پاکستان کی پالیسی سازی میں ابھی تک مطلوبہ توجہ حاصل نہیں کر سکا حالانکہ یہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، عوامی صحت کے تحفظ، خواتین کی فلاح، جنگلات کے تحفظ اور توانائی کے استحکام میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ماحول دوست ا کھانا پکانے کے فروغ کےلئے جامع حکمتِ عملیاں بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔یو این ای ایس کیپ کے انرجی ڈویژن کے سیکشن چیف مائیکل ولیمسن نے کہا کہ ماحول دوست کھانا پکانا صرف توانائی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ صحت، صنفی مساوات، سماجی انصاف، کاربن اخراج میں کمی اور توانائی کی بہتر کارکردگی سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی تدریجی اور منصفانہ منتقلی کےلئے جامع حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ ایس ڈی پی آئی کے سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان میں کوئلے کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے تاہم اگر صنعتیں بدستور کوئلے سے حاصل ہونے والی توانائی پر انحصار کرتی رہیں توکاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (CBAM) سمیت بڑھتے ہوئے ماحولیاتی تقاضے ملکی برآمدات کی عالمی مسابقت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کی تحقیقی رپورٹ پیش کرتے ہوئے ریسرچ ایسوسی ایٹ زینب بابر نے بتایا کہ پاکستان کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی اوسط عمر صرف آٹھ سے نو سال ہے مگر ان کی بڑی صلاحیت استعمال نہیں ہو رہی جس کے باوجود یہ صلاحیتی ادائیگیوں کی صورت میں قومی معیشت پر بھاری مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے متبادل استعمال کے لئے پانچ ممکنہ راستے تجویز کئے گئے ہیں جن میں شمسی توانائی کے نظام، بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (BESS)، سنکرونس کنڈینسرز، گرین ڈیٹا سینٹرز اور گرین ہائیڈروجن و امونیا کی پیداوار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کم استعمال ہونے والے کوئلے کے بجلی گھروں کو بیٹری اسٹوریج، شمسی توانائی اور دیگر ماحول دوست منصوبوں میں تبدیل کر کے اربوں ڈالر کی بچت اور بجلی کے نظام کو زیادہ مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ماحول دوست کھانا پکانے کے موضوع پر یو این ای ایس کیپ کے انیس زمان نے کہا کہ صاف ستھرا کھانا پکانے کی راہ میں لاگت، مالی سہولیات اور بعد از فروخت خدمات بڑی رکاوٹ ہیں۔ کاربن مارکیٹس اور پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت نئی مالی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔خیبر پختونخوا میں برقی کھانا پکانے سے متعلق ایس ڈی پی آئی کی تحقیق پیش کرتے ہوئے ادارے کے ہیڈ آف انرجی یونٹ انجینئر عبید الرحمٰن ضیاءنے کہا کہ گھریلو سروے اور عملی آزمائشوں سے معلوم ہوا کہ برقی چولہے مقامی کھانوں کے لئے مو ¿ثر ثابت ہوئے ہیں تاہم ان کے فروغ کےلئے عوامی آگاہی، خواتین کی شمولیت، بہتر ڈیزائن اور بجلی تک آسان رسائی ضروری ہے۔اس موقع پر نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA)، وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی، جامعات اور ترقیاتی اداروں کے نمائندوں نے زور دیا کہ ماحول دوست کھانا پکانے کو فروغ دینے کے لئے صوبائی ضروریات کے مطابق پالیسیاں، معیاری برقی آلات، مو ¿ثر آگاہی مہمات، مضبوط عملدرآمد کا نظام اور دیہی خواتین کی زیادہ شمولیت ضروری ہے۔پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شاہ جہاں مرزا نے کہا کہ پاکستان کو کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے معاملے میں ایک متوازن حکمتِ عملی اپنانی چاہئے۔

انہوں نے اس مقصد کے لئے خصوصی سرکاری اداروں، بین الاقوامی موسمیاتی مالی وسائل اور سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے نمائندے کامل مقصود نے کہا کہ پاکستان کی توانائی منصوبہ بندی میں شمسی توانائی کے تیز رفتار فروغ کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ 2035 تک ملک کی تقریباً 90 فیصد بجلی صاف توانائی سے حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹری اسٹوریج، جدید میٹرنگ نظام اور قومی گرڈ کی جدید کاری مستقبل میں بجلی کے نظام کے استحکام کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔سی پیک سینٹر آف ایکسیلنس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر حسنات شاہ نے کہا کہ پالیسی سازی میں”کوئلے کے خاتمے“ کے بجائے ”کوئلے سے صاف توانائی کی جانب منتقلی“ کی اصطلاح اختیار کی جانی چاہئے۔مکالمے کے اختتام پر ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ پاکستان کو فوسل فیول پر انحصار کم کرتے ہوئے صاف توانائی کی جانب تیزی سے پیش رفت کے لئے اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ عوامی رویوں اور کھانا پکانے کی روایتی عادات میں تبدیلی بھی اتنی ہی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ جاری کی جانے والی دونوں تحقیقی رپور ٹیں پالیسی سازوں اور عوام کیلئے ایک منصفانہ، پائیدار اور ماحول دوست توانائی کے نظام کی تشکیل میں مو ¿ثر رہنمائی فراہم کرینگی

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit