خودکشی ایک ایسا انتہائی اور المناک اقدام ہے جو عموماً شدید ذہنی دباو، نفسیاتی بیماری یا گہرے جذباتی بحران کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ محض ایک لمحاتی فیصلہ نہیں بلکہ اکثر طویل عرصے تک جاری رہنے والی ذہنی اذیت، احساسِ بے بسی اور امید کے بتدریج ختم ہونے کا انجام ہوتا ہے۔ خودکشی کرنے والے بیشتر افراد نشے یاکسی نہ کسی ذہنی عارضے، خصوصاً ڈپریشن، اضطرابی کیفیت کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد اکثر خود کو تنہا، بے سہارا اور معاشرے سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں جبکہ زندگی کے تلخ تجربات، مسلسل ناکامیاں اور صدمے ان کی ذہنی کیفیت کو مزید بوجھل بنا دیتے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک خودکشی کے رجحان کی ابتدائی علامات عموماً ڈپریشن کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں، جنہیں بروقت پہچان کر مناسب مدد فراہم کی جائے تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
مختصراً یہ کہ سماجی اور معاشی محرومیاں انسان کو ذہنی بیماریوں کی طرف دھکیل سکتی ہیں اور بعض اوقات یہی کیفیت اسے خودکشی جیسے المناک قدم تک لے جاتی ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ خودکشی کا کوئی ایک سبب نہیں ہوتا۔ گھریلو تنازعات، جذباتی صدمات، مالی مشکلات، مسلسل ناکامیاں، سماجی تنہائی، مستقبل سے مایوسی اور ذہنی بیماری جیسے کئی عوامل مل کر انسان کو اس خطرناک موڑ تک پہنچاتے ہیں۔ اس لئے اس مسئلے کو محض ایک انفرادی کمزوری نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نفسیاتی، سماجی اور معاشی بحران کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
عالمی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ہر سال تقریباً سات سے آٹھ لاکھ افراد کسی نہ کسی وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں جبکہ اس سے کہیں زیادہ لوگ خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔ مختلف مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں نوجوانوں میں ٹریفک حادثات کے بعد خودکشی موت کی دوسری بڑی وجہ بن چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ خودکشی آج بھی صحتِ عامہ کے لئے ایک نہایت سنگین اور مسلسل بڑھتا ہوا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کےلئے موثر پالیسی، ذہنی صحت کی معیاری سہولیات، بروقت مشاورت اور وسیع سماجی آگاہی ناگزیر ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خودکشی سے ہونے والی سالانہ اموات کی تعداد 727000 تک پہنچ چکی ہے جو 2019 میں 703000 تھی۔ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں خود کشی کرنے والوں میں 56 فیصد سے زیادہ ایسے افرادہوتے ہیں جن کی عمر پچاس برس سے کم ہوتی ہے جبکہ تقریباً 73 فیصد خودکشیاں کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میںکی جاتی ہیں۔
اگرچہ خودکشی کی مجموعی شرح ایشیا میں مغربی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے تاہم دونوں خطوں میں اس کے رجحانات مختلف ہیں۔ ایشیائی معاشروں میں نوجوان اس مسئلے سے نسبتاً زیادہ متاثر ہیں جبکہ مغربی ممالک میں یہ رجحان زیادہ تر معمر افراد میں پایا جاتا ہے جہاں اس کا گہرا تعلق ذہنی بیماریوں اور نفسیاتی عوارض سے ہوتا ہے۔
یونائیٹڈ فار گلوبل مینٹل ہیلتھ (United MH) اور عالمی ادارہ صحت کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق آج بھی دنیا کے کم از کم 23 ممالک میں خودکشی یا اس کی کوشش کو باقاعدہ جرم تصور کیا جاتا ہے۔ ان ممالک میں افغانستان، نائجیریا، سعودی عرب، بنگلہ دیش، میانمار اور کینیا شامل ہیں۔
اس کے برعکس دنیا کے متعدد ممالک نے خودکشی کی کوشش کو مجرمانہ فعل کے بجائے ذہنی صحت اور صحتِ عامہ سے متعلق ایک سنگین مسئلہ قرار دیا ہے۔ اسی سوچ کے تحت پاکستان، گیانا، ملائیشیا، گھانا، سنگاپور اور بھارت سمیت کئی ممالک نے گزشتہ برسوں میں ایسے قوانین ختم کر دیئے ہیں جن کے تحت خودکشی کی کوشش جرم شمار ہوتی تھی۔
پاکستان میں بھی اب خودکشی کی کوشش قانونی طور پر جرم نہیں رہی۔ دسمبر 2022 میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 325 میں ترمیم کے ذریعے وہ قانون ختم کر دیا گیا جس کے تحت خودکشی کی کوشش کرنے والے شخص کو ایک سال تک سادہ قید، جرمانے یا دونوں سزاوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اس قانونی اصلاح کے بعد اس مسئلے کو سزا کے بجائے ذہنی صحت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو علاج، مشاورت اور سماجی معاونت فراہم کی جا سکے۔
یہ ایک نہایت تشویشناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں تیس برس سے کم عمر نوجوانوں میں خودکشی موت کی چوتھی بڑی وجہ بن چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2019 میں ہر ایک لاکھ افراد میں خودکشی کی شرح 8.9 تھی جس کے مطابق ملک میں روزانہ اوسطاً 15 سے 35 افراد اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے تھے۔ 2022 تک یہ شرح بڑھ کر 9.8 فی ایک لاکھ افراد تک پہنچ گئی جو اس مسئلے کی بڑھتی ہوئی سنگینی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
ملک کے مختلف علاقوں سے سامنے آنے والے واقعات اس بحران کی گہرائی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ ضلع بھکر میں 2012 سے 2022 کے دوران خودکشی کے 340 واقعات ریکارڈ کئے گئے جن میں تقریباً 40 فیصد متاثرین کی عمر بیس برس سے کم تھی۔ ان میں سے 65 فیصد واقعات کی بنیادی وجہ گھریلو تنازعات جبکہ 20 فیصد کی وجہ تعلیمی ناکامی قرار دی گئی۔
اسی طرح سندھ کے پسماندہ ضلع تھرپارکر میں غربت، بے روزگاری، مالی بدحالی اور بنیادی سہولیات کی کمی نے خودکشی کے واقعات میں اضافہ کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق 2022 سے 2024 کے درمیان بے روزگاری سے منسلک 496 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 277 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اکتوبر 2023 میں اوکاڑہ کی تحصیل بصیرپور میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون نے گھریلو مسائل سے تنگ آ کر اپنی دو بیٹیوں سمیت زہریلی گولیاں کھا لیں۔ تینوں کوہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ دورانِ علاج زندگی کی بازی ہار گئیں۔
مارچ 2024 میں کراچی کے علاقے بلوچ کالونی میں 28 سالہ ڈاکٹر شینی روسی مبینہ طور پر ڈپریشن اور صحت کے مسائل کے باعث اپنے فلیٹ میں پنکھے سے لٹک کر جاں بحق ہو گئیں۔ اسی ماہ کراچی کے علاقے کورنگی میں عبدالرئیس نے بھی مبینہ طور پر خودکشی کر لی جبکہ اہلِ خانہ نے کسی قانونی کارروائی سے گریز کیا۔
جون 2024 میں راولپنڈی کے نالہ لنگا میں ایک نوجوان مرد اور ایک خاتون نے بلند مقام سے پانی میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔ ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی سے خاتون کو بچا لیا گیا تاہم نوجوان گہرے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔
19 دسمبر 2025 کو پیش آنے والا 22 سالہ محمد اویس سلطان کا واقعہ بھی پورے معاشرے کے ل لئے لمحہ فکریہ ہے۔ یونیورسٹی آف لاہور کے شعبہ ڈی فارمیسی کے اس طالب علم نے مبینہ طور پر جامعہ کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق اس افسوس ناک اقدام کے پسِ پردہ تعلیمی دباو اور ذاتی مسائل جیسے عوامل کارفرما تھے۔
چند ہی روز بعد 5 جنوری 2026 کو اسی شعبے کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے بھی مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔ خوش قسمتی سے وہ اس حادثے میں زندہ بچ گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس اقدام کا تعلق خاندانی تنازعات سے بتایا گیا۔ یہ دونوں واقعات اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ ہمارے نوجوان خاموشی سے ایسے ذہنی اور جذباتی بوجھ اٹھا رہے ہیں جنہیں اکثر نہ دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی بروقت سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں خودکشی کی کوششوں کی درست تعداد آج بھی معلوم نہیں کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا متاثرہ خاندان سماجی بدنامی کے خوف سے حقیقت کو منظرعام پر لانے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دستیاب اعداد و شمار اس مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔
مختلف تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ گھریلو ماحول، والدین کا سخت رویہ، گھریلو تشدد، خاندانی اختلافات، تعلیمی دباو، والدین کی غیر حقیقی توقعات، سماجی بدنامی، مالی مشکلات، ذہنی بیماری، جذباتی تعاون کا فقدان اور ذہنی صحت کے علاج سے متعلق معاشرتی خوف وہ اہم عوامل ہیں جو نوجوانوں کو شدید ذہنی دباو میں مبتلا کرتے ہیں اور بعض اوقات انہیں خودکشی جیسے انتہائی اقدام تک لے جاتے ہیں۔
تحقیق یہ بھی واضح کرتی ہے کہ جب والدین اپنی پیشہ ورانہ اور خاندانی ذمہ داریوں میں توازن برقرار نہیں رکھ پاتے تو اس کے منفی اثرات پورے خاندان پر مرتب ہوتے ہیں۔ باہمی رابطہ کمزور ہو جاتا ہے، اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے، جذباتی وابستگی کمزور پڑ جاتی ہے اور بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ نتیجتاً والدین اور بچوں کے درمیان ایک ایسا خاموش فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے جو نوجوانوں کو تنہائی، احساسِ محرومی اور شدید نفسیاتی دباو کی طرف دھکیل دیتا ہے۔دوسری جانب غیر دوستانہ تعلیمی ماحول، کامیابی کی اندھی دوڑ، مسلسل مقابلے کا دباو اور خاندان کی ناکافی معاونت نوجوانوں کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اگر ان عوامل کا بروقت تدارک نہ کیا جائے تو یہ صرف انفرادی زندگیوں ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کےلئے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ کسی ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کا انحصار بڑی حد تک اسی نسل کی صلاحیت، کردار، ذہنی پختگی اور جسمانی صحت پر ہوتا ہے۔ اس لئے ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو مساوی مواقع، معیاری تعلیم، بہتر طبی سہولیات، محفوظ ماحول اور باوقار زندگی کےلئے سازگار حالات فراہم کرے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پوری توانائی کے ساتھ بروئے کار لا سکیں۔
اسی طرح نوجوان اپنے والدین کےلئے امید، خوشی اور زندگی کی تازگی کا استعارہ ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی تعمیر، کردار سازی اور اخلاقی تربیت کی بنیاد گھر کے ماحول، والدین کے رویّوں اور معاشرتی اقدار پر استوار ہوتی ہے۔ اگر گھر کا ماحول جھگڑوں، تشدد، نفسیاتی دباو اور بے سکونی سے آلودہ ہو تو اس کے اثرات براہِ راست بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت، خوداعتمادی اور شخصیت پر مرتب ہوتے ہیں۔
اسی لئے ضروری ہے کہ نوجوانوں میں سماجی ذمہ داری، معاشی شعور اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جائے۔ انہیں دینی تعلیمات، برداشت، صبر، احترامِ انسانیت، باہمی تعاون اور مثبت طرزِ فکر سے آراستہ کیا جائے۔ ان کی جذباتی صحت کو مضبوط بنانے کےلئے ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ بلا خوف اپنی بات کہہ سکیں، اپنے مسائل بیان کر سکیں اور بروقت رہنمائی حاصل کر سکیں۔ یہی تربیت انہیں زندگی کے نشیب و فراز کا حوصلے سے سامنا کرنے اور مشکلات کے باوجود امید کا چراغ روشن رکھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ نوجوانوں کو بوجھ نہیں بلکہ قوم کی سب سے قیمتی امانت سمجھا جائے۔ ان کی پرورش محبت، شفقت، اعتماد اور احترام کے ماحول میں کی جائے۔ ان کے ساتھ وقت گزارا جائے، ان کی بات توجہ سے سنی جائے، ان کے جذبات کو اہمیت دی جائے اور ان کے مسائل کو محض وقتی کیفیت سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں، ان سے کھل کر گفتگو کریں، مشکلات کا حل مل بیٹھ کر تلاش کریں، اپنی زندگی کے تجربات ان کے ساتھ بانٹیں اور انہیں یہ یقین دلائیں کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ کامیابی کی طرف بڑھنے کا ایک نیا آغاز ہوتی ہے۔
ایک مضبوط خاندان، جہاں محبت، اعتماد، احترام، برداشت اور باہمی تعاون کی فضا قائم ہو، نوجوانوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کےلئے سب سے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے ہی خاندان ایک مضبوط، متوازن اور پرامن معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں، جہاں نوجوان خود کو تنہا نہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کا ایک باوقار، باصلاحیت اور قابلِ قدر فرد محسوس کرتے ہیں۔ یہی احساسِ وابستگی، محبت اور تحفظ انہیں مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید،
خوداعتمادی اور ایک روشن مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit