اسلام آباد( نیوز رپورٹر)نئے صوبے یا بااختیار مقامی حکومتیں؟ حکمرانی کے موثر ماڈل پر قومی مکالمہ،انتظامی نقشے میں کسی بھی تبدیلی کا مقصد محض نئی حدود کا تعین نہیں بلکہ عوام کو بہتر حکمرانی، موثر نمائندگی اور بنیادی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہونا چاہئے،اختیارات کی منتقلی کیساتھ مالی وسائل کی ضمانت ضروری ہے ، حکومت کو عوام کے قریب لانا بنیادی ہدف ہونا چاہئے،چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومت کو عوام کے قریب لا سکتی ہیں،نئے صوبوں کی تجاویز کو عوامی حمایت حاصل ہونی چاہئے، یہ بات مقررین نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی( ایس ڈی پی آئی ) کے زیرِ اہتمام”کیا پاکستان میں مزید انتظامی اکائیاں قائم ہونی چاہئیں؟“کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطح کے قومی مکالمے میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مکالمہ میں سیاسی رہنماوں، پالیسی سازوں، ماہرین، ٹیکنوکریٹس اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پاکستان میں طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے مختلف طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وفاقی وزیر قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کو بنیادی طور پر اس پیمانے پر پرکھا جانا چاہئے کہ آیا اس سے عوام میں محرومی اور عدم شمولیت کا احساس کم ہوتا ہے اور انہیں بہتر خدمات میسر آتی ہیں۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit