اسلام آباد( صباح نیوز)انتظامی نقشے میں کسی بھی تبدیلی کا مقصد محض نئی حدود کا تعین نہیں بلکہ عوام کو بہتر حکمرانی، موثر نمائندگی اور بنیادی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہونا چاہئے۔ یہ بات مقررین نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی( ایس ڈی پی آئی ) کے زیرِ اہتمام”کیا پاکستان میں مزید انتظامی اکائیاں قائم ہونی چاہئیں؟“کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطح کے قومی مکالمے میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مکالمہ میں سیاسی رہنماوں، پالیسی سازوں، ماہرین، ٹیکنوکریٹس اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پاکستان میں طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے مختلف طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ شرکاءنے عوام کو بہتر حکمرانی، موثر نمائندگی اور بنیادی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لئے آئینی تقاضوں، عوامی حمایت، مالیاتی پائیداری اور انتظامی صلاحیت کو بنیادی معیار بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا ۔ شرکا نے حکمرانی کے موزوں ڈھانچے اور انتظامی اکائیوں کے حجم کے بارے میں مختلف آرا پیش کیں۔ مکالمہ کے دوران بعض شرکاءنے نئے صوبوں یا چھوٹی انتظامی اکائیوں کے قیام کی حمایت کی جبکہ کچھ نے موجودہ نظام کے مختلف درجوں کو مزید بااختیار بنانے پر زور دیا۔ اکثر شرکا کی رائے تھی کہ ان دونوں راستوں کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنے کے بجائے مجموعی اصلاحاتی عمل کے حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کو بنیادی طور پر اس پیمانے پر پرکھا جانا چاہئے کہ آیا اس سے عوام میں محرومی اور عدم شمولیت کا احساس کم ہوتا ہے اور انہیں بہتر خدمات میسر آتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومت کو عوام کے قریب لا سکتی ہیں، تاہم صوبوں کی تعداد خواہ کتنی بھی ہو، بااختیار بلدیاتی حکومتیں موثر حکمرانی کا لازمی حصہ رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی تجاویز کو عوامی حمایت حاصل ہونی چاہئے۔وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بامعنی اختیارات کی منتقلی میں مالی وسائل کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے تجویز دی کہ قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات ایک ہی وقت میں کرائے جائیں اور ان کے لئے یکساں مدت مقرر ہو۔ انہوں نے بلدیاتی اداروں کو مقررہ مدت سے پہلے تحلیل ہونے سے آئینی تحفظ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ آئین اور شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر بھی زور دیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی بحث نئی نہیں۔ تاہم، اصلاحات کا عمل اس احتیاط سے آگے بڑھایا جانا چاہئے کہ وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بین الصوبائی یا علاقائی حساسیت مزید نہ بڑھے۔پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی ندیم افضل چن نے کہا کہ سیاسی اور ریاستی اداروں کو مل کر اتفاقِ رائے پر مبنی اصلاحاتی ایجنڈا تشکیل دینا چاہئے۔ انہوں نے عدالتی و انتخابی اصلاحات، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی کو بھی حکمرانی کی بہتری سے جڑے اہم شعبے قرار دیا اور کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ہر تجویز آئینی دائرے میں رہ کر ہونی چاہئے۔
جماعتِ اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام اور بلدیاتی حکومتوں کی مضبوطی وسیع تر مالیاتی اور آئینی اصلاحات کے ساتھ زیرِ غور آنی چاہئے۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل، پانی اور دیگر آئینی معاملات پر اختلافات کے حل کے لئے مشترکہ مفادات کونسل کے زیادہ موثر کردار کی ضرورت پر زور دیا۔سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے ریاستی اداروں پر عوام کے کم ہوتے اعتماد اور حد سے بڑھی ہوئی مرکزیت کو پاکستان کے بڑے حکمرانی مسائل قرار دیا۔ انہوں نے تین سطحی این ایف سی نظام کی تجویز دی ۔انہوں نے کہا کہ جہاں نئے صوبوں کے قیام کی مضبوط عوامی خواہش موجود ہو، وہاں اس پر غور کیا جانا چاہئے، تاہم بڑے یا چھوٹے صوبوں کے معاشی فوائد اور نقصانات کا فیصلہ قیاس کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔لاہور کے سابق میئر میاں عامر محمود نے نئے صوبوں کے قیام پر شواہد کی بنیاد پر غور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اصل مقصد محض علاقائی تقسیم نہیں بلکہ عوام کی فلاح اور سرکاری خدمات تک آسان رسائی ہونا چاہئے۔ انہوں نے منتخب نمائندوں کے زیادہ موثر احتساب، سیاسی جماعتوں کو مضبوط بنانے اور صوبوں سے اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور دیا۔وزیراعظم کے معاون برائے تجارت رانا احسان افضل نے کہا کہ بحث کو صرف صوبوں کی تعداد تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اسے عمودی اختیارات کی منتقلی اور مالی طور پر خودمختار، تسلسل کے ساتھ کام کرنے والی اور بااختیار بلدیاتی حکومتوں کے وسیع تر سوال سے جوڑنا چاہئے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی ڈویژن، اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر انتظامی ڈھانچہ موجود ہے اگر پنجاب کو بھی تین صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تو بھی ہر نیا صوبہ آبادی کے لحاظ سے بیشتر یورپی ممالک سے بڑا ہوگا۔ انہوں نے بلدیاتی حکومتوں کے آئینی، انتظامی، سیاسی اور مالی اختیارات واضح طور پر متعین کرنے اور صوبائی مالیاتی کمیشن کے نظام کو مضبوط آئینی تحفظ دینے پر زور دیا۔ ان کے مطابق صوبائی حدود میں تبدیلی کا عمل آئین کے آرٹیکل 239 میں درج طریقہ کار کے مطابق ہی ہونا چاہئے۔ایم کیو ایم پاکستان کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے موثر انتظامیہ کے لئے چھوٹے صوبوں کے قیام کی حمایت کی۔ انہوں نے چھوٹی انتظامی اکائیوں کے ساتھ ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا جس کے اختیارات آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت واضح طور پر متعین ہوں۔رکن قومی اسمبلی اور سابق چیئرمین پبلک اکاو ¿نٹس کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے پہلے اور اس کے ساتھ ساتھ جامع حکمرانی اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کے قیام سے متعلق آئین کے آرٹیکل 239 اور پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کی آئینی شرط کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔معاشی ماہر اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے بڑی تعداد میں نئے صوبے بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ادارہ جاتی کمزوریوں کو دور کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کا بنیادی مسئلہ محض ٹیکس وصولی نہیں بلکہ حکومتی اخراجات اور حکمرانی کا معیار ہے۔سینئر صحافی اور تجزیہ کار محمد ملک نے کہا کہ اداروں کے رویے اور سیاسی ثقافت میں تبدیلی کے بغیر محض انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی موثر ثابت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بنیادی طور پر ادارہ جاتی صلاحیت کے بحران کا سامنا ہے جسے صرف نئی انتظامی اکائیاں قائم کرکے حل نہیں کیا جا سکتا۔سابق وفاقی وزیر فواد حسین چوہدری نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کے لئے یکطرفہ فیصلوں کے بجائے سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ صوبوں کی تقسیم کی صورت میں موجودہ صوبوں کے نام برقرار رکھے جائیں تاکہ شناخت بھی محفوظ رہے اور انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہو۔سرائیکی صوبے کے قیام کے نمایاں حامی ظہور دھریجہ نے کہا کہ ایک نئے صوبے کا قیام خطے کو درپیش حکمرانی، نمائندگی، روزگار اور شناخت کے مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے۔ ان کے مطابق علیحدہ صوبے کی صورت میں خطے کے لئے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مخصوص کوٹے کے ذریعے مواقع پیدا ہوں گے اور طویل عرصے سے موجود ترقیاتی محرومی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔سابق وفاقی وزیر اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے سابق مشیر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ نئے صوبوں کی طرف کسی بھی پیش رفت سے پہلے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ایسے اقدام کی قانونی اور سیاسی حیثیت متنازع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمان اور تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل ایک قومی کمیشن قائم کیا جائے جو تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر سفارشات مرتب کرے۔اختتامی کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ قومی مکالمے نے اس امر کی اہمیت واضح کی ہے کہ حکمرانی کے مختلف ماڈلز اور اصلاحاتی تجاویز کو ایک ہی پالیسی فورم پر زیرِ بحث لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شرکا نے نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے بارے میں مختلف آرا پیش کیں تاہم موثر بلدیاتی حکومتوں، بامعنی مالیاتی اختیارات کی منتقلی اور بہتر عوامی خدمات کی فراہمی کو مستقبل کے کسی بھی حکمرانی کے نظام کے اہم اجزا قرار دینے پر نمایاں اتفاق پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکالمہ کسی ایک ساختی حل کو حتمی قرار دینے کے بجائے مزید غور، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی کے لئے اہم نکات سامنے لانے میں کامیاب رہا۔مکالمے میں ڈاکٹر خاقان حسن نجیب، سابق مشیر وزارتِ خزانہ، محمد علی درانی، سابق وفاقی وزیر، اور ہارون الرشید، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر مقررین نے بھی اظہارِ خیال کیا
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit