اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 اگست2026ء) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کا بنیادی مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر، مؤثر اور بروقت سہولیات کی فراہمی اور طرز حکمرانی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ پالیسی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نور عالم خان، آسیہ اسحاق صدیقی، ظہور دھریجہ، سینئر صحافی محمد مالک اور سابق میئر لاہور میاں عامر محمود بھی موجود تھے۔بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ بڑھتی آبادی اور شہروں کے پھیلاؤ کے باعث ملک میں طرز حکمرانی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاہم صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اصل توجہ حکومت کو عوام کے قریب، زیادہ جواب دہ اور مؤثر بنانے پر ہونی چاہیے اور انتظامی اصلاحات کا مقصد تعلیم، صحت، پولیس، اراضی ریکارڈ اور بلدیاتی سہولیات سمیت بنیادی خدمات کی بہتر اور آسان فراہمی ہونا چاہیے۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے آئین کے آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط اور بااختیار بنا کر بہت سے انتظامی مسائل نئے صوبے بنائے بغیر حل کیے جا سکتے ہیں جس کے لیے مقامی حکومتوں کو مناسب مالی وسائل، اختیارات اور عوامی خدمات کی ذمہ داریاں دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے قبل ان کے مالی اثرات کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے کیونکہ نئے صوبے کے ساتھ مختلف انتظامی اداروں کے قیام سے سرکاری اخراجات میں اضافہ ہو گا، اس لیے پانچ سے دس سال پر محیط مالیاتی جائزہ ناگزیر ہے۔بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی ایک اہم آئینی معاملہ ہے جس کے لیے آئینی طریقہ کار کے ساتھ وسیع سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہے، اور کسی بھی نئی تجویز پر غور کرتے وقت عوامی نمائندگی، وسائل، پانی، قدرتی وسائل اور سرکاری اثاثوں و ذمہ داریوں سمیت تمام اہم امور کو مدنظر رکھنا ہو گا۔انہوں نے انتظامی اصلاحات کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط اور بااختیار بنایا جائے، بڑے صوبوں میں علاقائی انتظامیہ کو مناسب وسائل اور واضح کارکردگی کے اہداف دیئے جائیں، اور جہاں شواہد سے ثابت ہو کہ نئے صوبے کے قیام سے بہتر حکمرانی ممکن ہے وہاں آئینی طریقہ کار کے تحت اس پر غور کیا جائے۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ پاکستان کو صرف نئے انتظامی نقشوں کے بجائے مضبوط اداروں، بہتر حکمرانی اور عوام کو ان کی دہلیز پر مؤثر خدمات کی فراہمی کی ضرورت ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit