پمز ہسپتال میں چودہ معصوم جانوں کے لواحقین سے ایک وزیرِ با تدبیر کی گفتگو کا ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کو ملا تو برسوں پہلے پڑھی ہوئی چند سطریں اچانک ذہن کے دریچے پر دستک دینے لگیں….”وہ شخص کسی طور انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی،
جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا۔“
انسانیت کے اسی معیار کو سامنے رکھ کر ہم اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ سماج میں انسان گھٹ گئے ہیں اور سائے بڑھتے جا رہے ہیں۔۔۔
سائے جب قد سے لمبے ہو جاتے ہیں تو وقت زوال شروع ہو جاتا ہے اور اگر سائے زیادہ لمبے ہو جائیں تو رات کے اندھیرے سے مل جاتے ہیں ۔۔۔۔جن لوگوں کی نظر کمزور ہوتی ہے وہ اندھیرے میں دیکھ نہیں پاتے اور جن کی نظر کچھ زیادہ ہی کمزور ہو انہیں تو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔۔۔ پھر وہ اپنے ارد گرد کے حالات اور اپنے ساتھ ہونے والی”واردات "کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
ہماری سیاسی اور سماجی زندگی میں بھی عجیب عجیب مماثلتیں پیدا ہو گئی ہیں…. کہتے ہیں "عیش” اور "طیش” لازم و ملزوم ہیں جہاں "عیش” ہوتی ہے وہاں "طیش” بھی ہوتا ہے ۔۔۔بالکل اسی طرح جہاں جیب ہوتی ہے وہاں ” جیب تراش” بھی ہوتے ہیں” فرق صرف اتنا ہے کہ جیب تراش کی واردات کا پتا عموماً جیب خالی ہونے کے بعد چلتا ہے، جبکہ اقتدار کی جیب تراشی کا احساس دیر بعد ہوتا ہے۔
خواتین کی بے حرمتی اور بے توقیری کا واقعہ ہسپتال کے برآمدے میں ہو، کسی چوراہے پر، کسی تھانے میں یا کسی بااثر شخصیت کے دروازے پر؛ مزدوروں کو کسی فیکٹری میں زندہ جلا دینے کا سانحہ ہو یا کسی معزز خاتون کے گھر میں رات گئے گھس کر "تنظیم سازی” کرنے کا۔۔۔ جب ریاست، سیاست اور سماج کے رویوں میں انسان کی قدر گھٹنے لگے تویہ محض واقعات نہیں رہتے ۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں….. المیہ یہ بھی ہے کہ ہم رفتہ رفتہ ان کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔
پہلے سانحہ خبر بنتا تھا، پھر خبر بحث بنی، بحث سیاسی مصلحت بنی اور آخرکار مصلحت معمول بن گئی…..اور جب معمول میں بے حسی شامل ہو جائے تو انسان زندہ تورہتا ہے مگر انسان نہیں رہتا۔
جب سیاسی مکالمات "مکالمات سقراط” بن جائیں اور پھر مکالمات سقراط سے ترقی کر کے "مکالمات بقراط” کی صورت اختیار کر لیں اور پھرمزید ترقی کرتے ہوئے دشنام طرازی کی شکل اختیار کر لیں ۔۔۔۔ جب حالات ایسے بن جائیں یا بنا دیئے جائیں تو پھر سیاسی دلائل کا "سیاسی ذلائل ” بن جانا معمول بن جاتا ہے۔۔۔ اور گالیاں بھی معمول کی کارروائی سمجھی جانے لگتی ہیں۔۔۔۔
ہماری سیاسی گفتگو کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ سیاسی دلائل آہستہ آہستہ ”سیاسی ذلائل“ میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں اور گالی دلیل کا نعم البدل بنتی جا رہی ہے۔
جب دلیل کمزور پڑ جائے تو آواز بلند ہوتی ہے، جب آواز بھی اثر نہ کرے تو الزام آتا ہے اور جب الزام بھی ناکافی محسوس ہو تو گالی کو سیاسی ہتھیار بنا لیا جاتا ہے…..یہ صرف زبان کا زوال نہیں، سیاست کے اخلاقی زوال کی علامت بھی ہے۔
نشہ اقتدار اور اختیارات کا ہو یا پھر شراب کا ۔۔۔انجام دونوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔۔۔ نشہ اترنے کا عمل بڑا ہی تکلیف دہ ہوتا ہے ۔۔۔ ایسا بہت زیادہ نشہ کر لینے کے بعد ہوتا ہے۔۔۔ ایسی کیفیت میں نشہ باز اپنے نشے کو قائم رکھنے کیلئے ساری حدیں پار کر جاتے ہیں اور زبانوں پر سانپ ڈسوانے سے بھی دریغ نہیں کرتے کہ شاید شہر کی ان کے نشے کو قائم رکھ سکے۔
حقیقت کی بھی اپنی ضد ہوتی ہے۔ اسے جتنا دبایا جائے، وہ اتنی ہی شدت سے کسی اور راستے سے باہر نکلتی ہے……جس ملک میں بندوق کی زبان قومی زبان بن جائے وہاں پھر مکالمہ کم اور خوف زیادہ بولتا ہے۔ وہاں شہری ریاست سے سوال کرنے کے بجائے اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتے ہیں……اور خوف زدہ معاشروں میں صرف خاموشی نہیں بڑھتی، سائے بھی بڑھتے ہیں۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں اور شائد صحیح سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جو نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹوں کی باتیں ہو رہی ہیں ان کا مقصد 28ویں ترمیم کی صورت نئے آئین “ اور ”نئے سوشل کنٹریکٹ ” کی بنیاد رکھنا ہے۔۔۔ایسے مطالبے 1991 میں بھی سامنے آئے تھے لیکن اسوقت تک 1973کے آئین میں اتنی کانٹ چھانٹ نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ان مطالبات کے پس منظر میں محض نقشے کی لکیریں بدلنے کا معاملہ نہیں بلکہ مستقبل کے کسی بڑے آئینی بندوبست کی تمہید بھی ہوسکتی ہے۔
ایسے مطالبات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ 1991 میں بھی نئے صوبوں اور انتظامی تقسیم کے مباحث موجود تھے، لیکن اس وقت 1973ئ کے آئین کی ساخت میں آج جیسی مسلسل ترمیمی مداخلت نہیں ہوئی تھی۔
آج صورتِ حال مختلف ہے۔
1973 کے آئین کو قومی اتفاقِ رائے کی علامت اور وفاق کی بنیاد سمجھنے والے اگر اسی آئین میں 26ویں اور 27ویں ترامیم کے بعد 28ویں ترمیم کے امکانات پر بھی نیم رضامندی کا اظہار کرنے لگیں تو اس امکان کو یکسر مسترد کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ شاید ہم محض ایک اور ترمیم کی طرف نہیں بلکہ ایک نئے عمرانی معاہدے (Social Contract) کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
نئے صوبے بنیں، انتظامی اکائیاں بڑھیں، اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں……یہ بذاتِ خود کوئی بری بات نہیں۔ وفاق کی مضبوطی بھی صوبوں کی مضبوطی سے جڑی ہوتی ہے۔ مسئلہ مقصد ،وقت کو اور نیت کا ہے؟
اگر مرکز کو کمزور اور صوبوں کو زیادہ سے زیادہ بااختیار کرنے کے لئے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں تو پھر یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ کہیں ہم انتظامی اصلاح کے نام پر ریاستی ڈھانچے کی کوئی نئی تشکیل تو نہیں کر رہے؟
تاریخ میں بڑے سیاسی اور آئینی فیصلے ہمیشہ صرف قانون کی کتابوں میں نہیں ہوتے؛ ان کے لئے پہلے حالات بنائے جاتے ہیں۔
سیانے کہتے ہیں کہ کھٹمل مارنے کے لئے پورا قالین جلا دینے والے احمق ہوتے ہیںمگر ہمارے ہاں معاملہ ذرا مختلف دکھائی دیتا ہے۔ جہاں ایک چور پکڑنے کےلئے پورا گاؤں گرفتار کر لیا جائے، جہاں چند ڈاکوؤں کو قابو کرنے کے لئے پورے صوبے کو بے قابو کر دیا جائے، وہاں کھٹمل مارنے کے لئے قالین جلانا شاید حماقت نہ سمجھی جائے۔
کیونکہ بعض لوگوں کےلئے قالین سے زیادہ اہم کھٹمل ہوتا ہے۔
انہیں قالین کے جلنے کا اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنی کھٹمل کے تلف ہونے کی خوشی ہوتی ہے۔
مگر مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔
قالین جلانے سے پہلے کھٹمل اگر قالین سے نکل کر چارپائی، بستروں اور گھر کے دوسرے حصوں میں پھیل جائیں تو پھر کیا ہوگا؟
یہ سوال صرف کھٹمل کا نہیں، نظام کا ہے۔
ریاست بھی ایک قالین کی طرح ہوتی ہے۔ اس میں بہت سے رنگ، بہت سے دھاگے اور بہت سے حصے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک
حصے کو بچانے یا ایک حصے کے کیڑے ختم کرنے کےلئے پورا قالین جلا دینا شاید وقتی طور پر اطمینان دے، مگر اس کے بعد بچتا کیا ہے؟
ہمیں شاید اس وقت سب سے زیادہ ضرورت نئے نقشوں، نئی اصطلاحوں اور نئی تقسیموں سے پہلے نئے انسان کی تلاش کی ہے۔
وہ انسان جو عیش میں خدا کو یاد رکھے، طیش میں خوفِ خدا کو نہ بھولے؛
جو اقتدار کو امانت سمجھے، غنیمت نہیں؛
جو اختلاف کو دشمنی نہ بنائے؛
جو دلیل کا جواب گالی سے نہ دے؛
جو کمزور کو کچلنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامے؛
اور جو ریاست کو اپنے قد کا سایہ نہیں بلکہ عوام کی امانت سمجھے۔
کیونکہ اصل بحران شاید صوبوں کا نہیں، سرحدوں کا نہیں، آئینی شقوں کا بھی نہیں۔
اصل بحران انسان کے گھٹ جانے کا ہے۔
اور جب انسان گھٹنے لگتے ہیں تو سائے بڑھنے لگتے ہیں۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب سائے اتنے لمبے ہو جاتے ہیں کہ سورج کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
اور جب سورج دکھائی نہ دے تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم زوال کے سائے میں کھڑے ہیں یا رات کے اندھیرے میں…. !
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit