دباؤ یا امکان؟-11396-News

دباؤ یا امکان؟-11396-News-SDPI

SDPI twitter

Blogs


دباؤ یا امکان؟

پاکستان کی آبادی میں ہرسال پچاس لاکھ سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ محض اعداد نہیں بلکہ ایک ایسی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو خواب، خواہشات اور امکانات کے ساتھ اس سرزمین پر قدم رکھ رہی ہے۔ ان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اور یہی حقیقت پاکستان میں آبادی کے حوالے سے ہونے والی بحث کی بنیاد بھی ہے اور اس کی پیچیدگی بھی….

          یہ بحث عموماً دو انتہاؤں کے درمیان جھولتی رہتی ہے۔ ایک طرف نوجوان آبادی کو ’’قومی سرمایہ‘‘ قرار دے کر خوش فہمی کا جشن منایا جاتا ہے اور دوسری طرف اسے بے روزگاری، غربت، بدامنی اور وسائل کی کمی کی اصل جڑ سمجھ لیا جاتا ہے۔ دونوں زاویے بظاہر درست ہیں مگر دونوں ادھورے ہیں۔ اصل سوال نہ تو آبادی کی کثرت ہے اور نہ ہی اس میں موجود جوانوں کی تعداد… بلکہ سوال یہ ہے کہ ریاست اور معیشت اس آبادی کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہیں۔

          چوبیس کروڑ کی مجموعی آبادی میں بائیس برس سے کچھ زیادہ اوسط عمر کے ساتھ پاکستان دنیا کے ان بڑے ممالک میں شامل ہے جس کی آبادی غیر معمولی حد تک نوجوان ہے۔ افریقہ کے چند ممالک کے علاوہ اس سطح پر نوجوان آبادی کسی نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس چین، تھائی لینڈ، ویتنام اور بھارت سمیت ایشیا کے کئی ممالک تیزی سے عمر رسیدگی کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ یورپ اور مشرقی ایشیا کے بعض حصوں میں آبادی گھٹ رہی ہے۔

          یہ فرق محض آبادیاتی نہیں، تہذیبی اور معاشی بھی ہے۔ جہاں آبادی سکڑتی ہے، وہاں محنت نایاب ہو جاتی ہے اور جہاں آبادی تیزی سے بڑھتی ہے، وہاں روزگار، تعلیم اور ریاستی صلاحیت کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔

          پاکستان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں لوگ زیادہ ہیں بلکہ مشکل یہ ہے کہ آبادی اس رفتار سے بڑھ رہی ہے جس رفتار سے معیشت روزگار، مہارت اور اُمید پیدا نہیں کر پا رہی۔ زرخیزی کی شرح اب بھی تین بچوں سے زیادہ ہے جو نہ صرف آبادی کے توازن سے بلند ہے بلکہ خطے کے اکثر ممالک سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ جب آبادی تقریباً دو فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھے اور معیشت تین فیصد یا اس سے کم پر رکی رہے تو یہ دباؤ محض معاشی نہیں رہتا سماجی اور سیاسی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔

           کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا آبادیاتی مسئلہ دراصل رفتار کے عدم توازن کا مسئلہ ہے۔ ہم جتنی تیزی سے لوگ بڑھا رہے ہیں اتنی تیزی سے تعلیم، مہارت، صنعت، برآمدات، فعال شہر اور سماجی تحفظ پیدا نہیں کر پا رہے۔ یہی عدم توازن ہمیں ہر شعبے میں دکھائی دیتا ہے۔

          تعلیم کے میدان میں دیکھا جائے توسکولوں کی دیواریں تو کھڑی ہیں مگر علم کی روشنی مدھم ہے۔ صحت کے شعبے میں عمارتیں موجود ہیں مگر ماں اور بچے کی زندگی اب بھی غیر یقینی ہے۔ لیبر مارکیٹ نوجوانوں کو باقاعدہ، محفوظ اور پیداواری روزگار دینے کے بجائے غیر رسمی اور کم اجرتیکاموں میں دھکیل دیتی ہے۔ شہر پھیل رہے ہیں مگر ترقی نہیں کر رہے سڑکوں پر ہجوم ہے مگر نظام نہیں، عمارتیں ہیں، مگر منصوبہ بندی نہیں۔

          اس کے ساتھ ساتھ غریب اور پسماندہ طبقوں میں ایک ایسی معاشی منطق بھی موجود ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں آمدن غیر یقینی ہو، ریاستی سہارا کمزور ہو اور بڑھاپے کی کوئی ضمانت نہ ہو،وہاں بچے مستقبل کی واحد اُمید بن جاتے ہیں۔ زیادہ بچے، زیادہ ہاتھ اور شاید زیادہ تحفظ…  خاص طور پر بیٹے جنہیں سماجی ڈھانچہ مستقبل کے کفیل کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس تناظر میں زیادہ بچے پیدا کرنا کوئی جذباتی یا غیر سائنسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک کمزور معیشت میں بقا کی حکمتِ عملی ہے۔

          یہ سوچ اسی وقت بدلتی ہے جب ریاست یہ یقین پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ کم بچے بھی محفوظ، تعلیم یافتہ اور باعزت زندگی گزار سکتے ہیں۔ جہاںسکول ناکام ہوں، نوکریاں غیر رسمی ہوں اور پنشن ایک خواب ہو، وہاں خاندانی منصوبہ بندی محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ معاشی عدم تحفظ کو اشتہارات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

          تاریخ اس حوالے سے ہمارے لیے ایک واضح آئینہ ہے۔

          دنیا کے کئی ممالک ایک زمانے میں انہی مسائل سے گزرے۔ جنوبی کوریا اور تائیوان ساٹھ اور ستر کی دہائی میں نوجوان آبادی، کم وسائل اور بلند زرخیزی کے حامل تھے۔ ان کا نجات دہندہ کوئی ایک قانون یا مہم نہیں تھی بلکہ مربوط ریاستی حکمتِ عملی تھی۔ اور وہ تھی تعلیم، صحت، خاندانی منصوبہ بندی، برآمدات پر مبنی صنعت اور شہری روزگار، جب معیشت مضبوط ہوئی تو آبادی خود بخود متوازن ہونے لگی، آبادی نے معیشت کی پیروی کی، معیشت نے آبادی کی نہیں۔

          ویتنام نے تعلیم کو عالمی منڈی سے جوڑ کر نوجوانوں کو صنعت کا حصہ بنایا۔ بنگلہ دیش نے خواتین کی تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ گارمنٹس صنعت کو فروغ دیا جس سے نہ صرف زرخیزی کم ہوئی بلکہ خواتین کی زندگی بھی بدلی۔ ایتھوپیا نے سب سے پہلے بنیادی صحت کے نظام میں سرمایہ کاری کی، تب جا کر آبادیاتی تبدیلی ممکن ہوئی۔ جن ممالک نے یہ راستہ دیر سے اپنایا وہاں نوجوان آبادی اُمید کے بجائے دباؤ بن گئی۔

          سبق واضح ہے:آبادی پالیسی کی جگہ نہیں لے سکتی، پالیسی آبادی کی سمت متعین کرتی ہے۔

          پاکستان کےلئے اب بھی ایک راستہ موجود ہے مگر وہ صبر آزما ہے۔ ہمیں انسانی سرمایہ،خصوصاً ابتدائی غذائیت، ماں کی صحت اور بنیادی تعلیم کو اولین ترجیح دینا ہو گی۔ خواتین کی تعلیم محض ایک سماجی مطالبہ نہیں بلکہ ایک معاشی حکمتِ عملی ہے جو پیداواری صلاحیت، کم زرخیزی اور بہتر نسل کی ضمانت دیتی ہے۔

          اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کے ساتھ ہماری تحقیق واضح کرتی ہے کہ تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سماجی اضافے نہیں بلکہ معاشی انفراسٹرکچر ہیں۔ جہاں یہ سہولتیں قابلِ اعتماد ہوں، وہاں خاندان بغیر جبر، بغیر خوف …..خود فیصلے بدل لیتے ہیں …..

         

لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب روزگار پیداوار سے جڑا ہو، کھپت سے نہیں۔ نوجوان تب ہی اثاثہ بنتے ہیں جب صنعت انہیں سیکھنے، بڑھنے اور ٹھہرنے کا موقع دے۔ اس کے لئے برآمدات، توانائی، ضابطوں کا استحکام اور فعال شہر ناگزیر ہیں۔ پاکستان میں شہر پھیل تو گئے ہیں مگر بااختیار نہیں ہوئے۔ اختیار اور وسائل صوبائی دارالحکومتوں سے آگے نہیں بڑھے، نتیجتاً شہر بوجھ بن گئے…معیشت کا انجن نہیں۔

          خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھائے بغیر یہ تصویر مکمل نہیں ہو سکتی۔ محفوظ ٹرانسپورٹ، بچوں کی نگہداشت اور موزوں روزگار کے بغیر نصف آبادی کو ترقی سے باہر رکھنا خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔

          آخر میں ایک تلخ حقیقت بھی ماننا ہو گی کہ نوجوان آبادی مواقع تو دیتی ہے، مگر ضمانت نہیں۔ پانی، زمین،

 موسمیاتی خطرات اور عوامی مالیات پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔ اگر معیشت نے رفتار نہ پکڑی تو آبادی یہ دباؤ کئی گنا بڑھا دے گی۔

          پاکستان میں آبادی پر بحث اکثر خوف اور انکار کے درمیان قید رہتی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ بڑی آبادی پالیسی فیصلوں کے اثرات کو بڑھا دیتی ہے…درست فیصلے طاقت دیتے ہیں اور غلطیاں انہیں مہنگا بنا دیتی ہیں۔جب تک ہم وہ حالات پیدا نہیں کرتے جن میں انسان محفوظ، صحت مند اور باوقار زندگی گزار سکے، آبادی دباؤ ہی محسوس ہو گی۔ جب یہ حالات بدلیں گے، تو آبادی خود کو ایڈجسٹ کر لے گی…جیسا کہ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit