گزشتہ ہفتے ڈاکٹر شمشاد اختر اکہتر برس کی عمر میں وفات پا گئیں…وہ ماہرینِ معاشیات کے اس نایاب طبقے سے تعلق رکھتی تھیں جن کی اتھارٹی خودنمائی سے نہیں اعتماد سے جنم لیتی ہے۔
چار دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں وہ پاکستان کے مشکل ترین سرکاری مناصب اور عالمی اداروں کے اعلیٰ ترین عہدوں کے درمیان آتی جاتی رہیں۔ خاص بات یہ تھی کہ وہ اکثر ایسے وقت وطن واپس آئیں جب حالات سب سے زیادہ پیچیدہ اور توقعات سب سے کمزور ہوتی تھیں۔ انہوں نے یہ سب خاموشی سے کیا….ایک ایسے احساسِ فرض کے ساتھ جو کبھی خود کو نمایاں کرنے کا محتاج نہیں رہا۔
ان کا عوامی کیریئر غیر معمولی تھا۔ وہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر رہیں…دو مرتبہ نگران وزیرِ خزانہ کے فرائض انجام دیئے، ورلڈ بینک کی نائب صدر رہیں… ایشیائی ترقیاتی بینک کی اعلیٰ قیادت کا حصہ بنیں اور اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (UNESCAP) کی ایگزیکٹو سیکریٹری بھی رہیں… جو لوگ ان کے قریب رہے وہ انہیں ان کے عہدوں سے زیادہ ان کی عادات کی وجہ سے انہیں یاد رکھتے ہیں….مکمل تیاری، بے لاگ گفتگو اور اس بات پر اصرار کہ پالیسی دعووں پر نہیں بلکہ شواہد کی ٹھوس بنیاد پرہونی چاہئے۔
پاکستان میں 2006 سے 2009 کے دوران ان کا سب سے نمایاں کردارسٹیٹ بینک کی گورنری تھا۔ انہوں نے ایسے وقت میں ذمہ داری سنبھالی جب عالمی سطح پر عدم استحکام بڑھ رہا تھا اور اندرونِ ملک مہنگائی دباؤ ڈال رہی تھی۔ ان کا انداز محتاط اور ادارہ جاتی تھا۔ انہوں نے بینکاری نگرانی کو مضبوط کیا، مالیاتی نظام کو بہتر بنایا اور اس اصول کا دفاع کیا کہ مرکزی بینک کو قلیل مدتی سیاسی دباؤ سے محفوظ رہنا چاہئے۔ یہ فیصلے شاید فوری داد کے مستحق نہ سمجھے گئے ہوں مگر وہ اس یقین کی عکاسی تھے کہ ادارہ جاتی ساکھ آہستہ آہستہ بنتی ہے اور لمحوں میں کھو جاتی ہے۔
بعد ازاں سیاسی عبوری ادوار میں بھی ان کی خدمات لی گئیں۔ 2018 میں اور پھر24 ۔2023 میں بطور نگران وزیرِ خزانہ، انہیں ایسی معیشت وراثت میں ملی جو نازک حالت میں تھی اور غلطی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ دونوں مواقع پر انہوں نے غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ 2018 میں انہوں نے پاکستان کےلئے معاشی استحکام کا ایک واضح روڈ میپ تیار کیا جو عام انتخابات کے بعد آنے والے منتخب وزیرِ خزانہ کےلئے آئی ایم ایف سے مذاکرات کی بنیاد بنا۔
اپنے دوسرے نگران دور میں انہوں نے اُسی ایجنڈا عملی شکل دی جس کی خواہش وہ 2018 کے بعد بھی رکھتی تھیں….سیاسی مداخلت کے بغیر معاشی استحکام…. یہ دور فیصلہ کن ثابت ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو چکے تھے اور اعتماد تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ ایسے میں انہوں نے آئی ایم ایف کے سٹینڈ بائی معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کی، پروگرام جائزوں اور قسطوں کے اجرا کےلئے مذاکرات کی قیادت کی۔ ان کی قیادت نے مالیاتی نظم بحال کیا اور توقعات کو سنبھالا دیا۔ اس سے بھی بڑھ کر اسی بنیاد پر بعد ازاں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی ممکن ہوئی جس کے تحت معیشت نے کچھ استحکام حاصل کیا۔ اگرچہ ان کا عہدہ عبوری تھا مگر اثرات دیرپا ثابت ہوئے۔
عالمی سطح پر بھی ڈاکٹر شمشاد اختر کو گہرا احترام حاصل تھا۔ ورلڈ بینک میں وہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی نائب صدر رہیں جہاں انہیں دنیا کے پیچیدہ ترین سیاسی و معاشی نظاموں سے نمٹنا پڑا۔ اس سے قبل ایشیائی ترقیاتی بینک میں انہوں نے جنوب مشرقی ایشیا میں حکمرانی، مالیات اور تجارت کے شعبوں پر کام کیا۔ ساتھیوں کے مطابق ان کی میٹنگز مشکل ضرور ہوتیں مگر ابہام دور کر دیتی تھیں۔ وہ سوال کم کرتی تھیں
àمگر جب بھی پوچھتیں درست سوال ہی
à
اقوام متحدہ میں ان کا کردار سب سے زیادہ اثرانداز رہا۔ 2014 سے 2018 تکوہ UNESCAP کی ایگزیکٹو سیکریٹری رہیں…. ایک ایسا خطہ جس میں عالمی ترقی اور خطرات دونوں کی بڑی مقدار سمٹی ہوئی ہے۔ یہ دور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) اور پیرس موسمیاتی معاہدے کے نفاذ کا بھی تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان عالمی معاہدوں کو محض خواہشات نہیں بلکہ عملی رہنما اصول سمجھا جائے۔ وہ حکومتوں پر زور دیتی رہیں کہ معاشی پالیسی کو شمولیت، موسمیاتی تحفظ اور سماجی تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے کیونکہ ان بنیادوں کے بغیر ترقی دیرپا نہیں ہوتی۔ ان کی قیادت میں UNESCAP نے ترقی کےلئے مالی وسائل، آفات کے خطرات میں کمی اور علاقائی تعاون پر اپنی توجہ مزید گہری کی۔
بعد کے برسوں میں بھی وہ پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل میں سرگرم رہیں۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی چیئرپرسن کے طور پر انہوں نے شفافیت اور حکمرانی سے متعلق اصلاحات کی نگرانی کی۔ وہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی سٹاک ایکسچینجز کو یکجا کر کے ایک قومی ادارہ بنانے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتی رہیں۔ اس انضمام سے نااہلیاں کم ہوئیں اور ایک جدید ضابطہ جاتی سوچ کا اظہار ہوا
àیہ سب ان کے اس انداز کا عکاس تھا
à ساختی، صبر آزما اور طویل المدتی اعتماد پر مرکوز ! …..
بین الاقوامی حیثیت کے باوجود ڈاکٹر شمشاد اختر پاکستان کی پالیسی کمیونٹی سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔ وہ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(SDPI) کی مضبوط حامی رہیں اور ہماری کانفرنسوں اور مشاورتی نشستوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتیں۔ اپنی وفات سے محض دو دن قبل بھی وہ اسلام آباد میں ہمارے ڈیٹا فار ڈیولپمنٹ فیسٹیول سے خطاب کے لئے موجود تھیں۔ اس روز انہوں نے محققین اور پالیسی سازوں سے تفصیلی گفتگو کی اور SDPI کے دفتر میں میرے ساتھ دوپہر کا کھانا بھی کھایا۔
یہ ملاقات کئی حوالوں سے منفرد تھی۔ انہوں نے اصلاحات کی سیاسی معیشت پر گفتگو کی اور بتایا کہ پاکستان میں بعض پالیسیاں کیوں کامیاب ہوئیں اور کیوں ناکام رہیں۔ انہوں نے عارف حبیب کی جانب سے تینوں سٹاک ایکسچینجز کے انضمام میں مثبت کردار کی تعریف کی اور نگران کابینہ کے ایک رکن کی جانب سے اسلام آباد میں مجوزہ تھنک ٹینک پر بھی بات کی۔ میری درخواست پر انہوں نے SDPI میں سینئر ایڈوائزر ایمریٹس کے طور پر شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی۔
اس ملاقات نے ان کی ذاتی زندگی کے ان خاموش فیصلوں کی جھلک بھی دکھائی جو کم ہی سامنے آئے۔ انہوں نے اپنی والدہ کا ذکر محبت سے کیا جن کا انتقال چند ہفتے قبل ہوا تھا۔ برسوں پہلے جب وہ بنکاک میں UNESCAP کی سربراہ تھیں ان کے والد نے والدہ کی علالت کے باعث وطن واپسی کا کہا۔ انہوں نے بلا تردد عالمی عہدہ چھوڑ دیا۔ کچھ ہی عرصے بعد انہیں 2018 میں نگران وزیرِ خزانہ مقرر کیا گیا۔
کویڈ کے بعد ان کے والد بھی وفات پا گئے۔ انہوں نے والدہ کی دیکھ بھال کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ عوامی خدمت کا توازن برقرار رکھا۔ جب دوبارہ نگران حکومت میں خدمات کی درخواست کی گئی تو انہوں نے اسی خاموش فرض شناسی کے ساتھ قبول کیا
àنہ قربانی کا اشتہار، نہ کسی ستائش کی طلب….
!
جو لوگ ان کے ساتھ کام کرتے رہے وہ انہیںایک سخت گیر مگر فیاض استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ کمزور تجزیے، مبالغہ آرائی اور نمائشی پالیسی سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا۔ وہ وضاحت، تیاری اور ادارہ جاتی یادداشت کو اہمیت دیتی تھیں…
وہ نوجوان ساتھیوں، خاص طور پر خواتین کیلئے ہمیشہ راہیں ہموار کرتی رہیں….خاموشی سے….بغیر اپنی جدوجہد کو نمایاں کئے۔
ڈاکٹر شمشاد اختر کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز، نشانِ امتیاز عطا کیا گیا۔ یہ اعزاز ان کے مقام کی علامت ضرور تھا مگر ان کی اصل میراث ان اداروں میں پیدا ہونے والا وہ اعتماد تھا جن کی انہوں نے قیادت کی۔چاہے وہ دباؤ کا شکار مرکزی بینک ہو…..عبوری وزارتِ خزانہ ہویا عالمی ادارہ ….جہاں قومی مفادات ٹکراتے ہیں۔
ان کی وفات پاکستان کی عوامی زندگی سے غیر معمولی استحکام کی حامل ایک شخصیت کے جانے کا احساس دلاتی ہے۔ وہ اس یقین پر قائم تھیں کہ معاشی پالیسی کا اصل جوہر اعتماد ہے، ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں اور حقیقی اتھارٹی وہی ہوتی ہے جو شور کے بغیر استعمال کی جائے۔
وہ اپنی قومی و بین الاقوامی خدمات، اور ایک ایسی زندگی کےلئے یاد رکھی جائیں گی جس میں پیشہ ورانہ اختیار اور ذاتی ذمہ داری ایک نازک توازن میں رہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے۔ آمین۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit