گزشتہ پندرہ برسوں سے آئینی تقاضے کے باوجود نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کا تسلسل برقرار نہیں رہ سکا۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان، اور خود صوبوں کے باہمی سیاسی اختلافات نے بارہا مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار بنایا۔ نتیجتاً عارضی بندوبست کے طور پر آنے والا ساتواں این ایف سی ایوارڈ ایک مستقل انتظام میں بدل گیا۔ ادھورے فیصلوں اور معطل وعدوں نے فریقین کے مؤقف کو سخت کر دیا ہے جس کے باعث دسویں این ایف سی ایوارڈ کے جاری مذاکرات میں لچک اور خاموش مفاہمت کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔
وفاقی حکومت اس وقت بھاری قرضوں کی ادائیگی، بڑھتے ہوئے مالی خساروں اور ناگزیر سکیورٹی و انتظامی ذمہ داریوں کے دباؤ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے مشکل حالات میں وفاق اپنی مالی سانس بحال رکھنے کےلئے دو راستوں پر نظر رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ عمودی تقسیم میں ردوبدل پر غور کرتا ہے( یعنی وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے تناسب کو ازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے)۔ دوسری جانب آمدنی کے ڈھانچے میں تبدیلی کے ذریعے قابلِ تقسیم محاصل کے بجائے پیٹرولیم لیوی جیسے غیر قابلِ تقسیم ذرائع پر زیادہ انحصار بڑھاتا ہے۔ صوبے اس حکمتِ عملی کو اپنے جائز حصے میں کٹوتی کے مترادف سمجھتے ہیں جبکہ وفاق اسے محدود معاشی حالات میں ناگزیر لچک اور بقا کی تدبیر قرار دیتا ہے۔ یہی زاویہ نظر کا تصادم پورے مذاکراتی عمل کی سمت متعین کرتا ہے اور اعتماد کی خلیج کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
جب وفاق اپنا مؤقف مذاکراتی میز پر رکھتا ہے تو صوبوں کی جانب سے دلائل عموماً دو بنیادی ستونوں پر استوار ہوتے ہیں: طلب اور لاگت… پنجاب اور سندھ طلب کے زاویے سے گفتگو کرتے ہیں کیونکہ ان صوبوں میںسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے اور سرکاری ہسپتالوں پر علاج کے لئے آنے والے مریضوں کا دباؤ بھی سب سے بھاری ہے۔ گنجان شہری آبادی کے باعث عوامی خدمات میں معمولی سی کوتاہی بھی فوراً نمایاں ہو جاتی ہے اور ریاستی کارکردگی کڑی عوامی جانچ پڑتال کے دائرے میں آ جاتی ہے جیسا کہ کراچی کے گل پلازہ کا حالیہ سانحہ اس تلخ حقیقت کی ایک واضح مثال ہے۔ آبادی کا یہ شدید ارتکاز انتظامی ناکامیوں کو لمحوں میں خبروں کی سرخیوں میں بدل دیتا ہے اور ان کی سیاسی قیمت بھی غیر معمولی حد تک بڑھا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان صوبوں کے نزدیک آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا فارمولا نہ صرف سب سے زیادہ قابلِ دفاع ہے بلکہ عوامی فہم کے قریب، سیاسی طور پر قابلِ قبول اور عملی طور پر زیادہ قابلِ اطلاق بھی سمجھا جاتا ہے۔
اس کے برعکس خیبر پختونخوا اور بلوچستان اپنی دلیل کی بنیاد لاگت کے زاویے پر رکھتے ہیں۔ ان صوبوں میں بکھری ہوئی آبادی، دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ اور طویل فاصلے عوامی خدمات کی فراہمی کو غیر معمولی طور پر مہنگا بنا دیتے ہیں۔ یہاں ایک کلومیٹر سڑک کی تعمیر بھی اضافی وسائل مانگتی ہے…. فی فرد پولیسنگ پر زیادہ خرچ آتا ہے، فی مریض علاج کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور سکول تک رسائی فی بچے پر کہیں زیادہ اخراجات درکار ہوتے ہیں۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں الٹی آبادی کثافت کے اصول کے ذریعے اس اضافی بوجھ کو تسلیم تو کیا گیا مگر اسے محدود وزن دے کر عملی طور پر کمزور بنا دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان صوبوں کے نزدیک اس عنصر کو آئندہ فارمولے میں کہیں زیادہ اہمیت ملنی چاہئے تاکہ زمینی حقائق کی درست ترجمانی ہو سکے۔
معاملہ اس وقت مزید اُلجھ جاتا ہے جب خصوصی نوعیت کے دعوے بحث کا حصہ بنتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد پیدا ہونے والے مالی تقاضوں اور ماضی کے واجبات سے متعلق تنازعات کا سامنا ہے۔ اگرچہ اس مقصد کے لئے تکنیکی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں مگر گفتگو اکثر اس بنیادی سوال پر آ کر رک جاتی ہے کہ کن اخراجات کو اصل بنیاد تسلیم کیا جائے اور مستقبل کی ضروریات کا قابلِ اعتماد تخمینہ کس طرح لگایا جائے۔ جب ایک فریق خود کو بھاری واجبات کا حق دار سمجھتا ہو اور دوسرا بروقت ادائیگی کا مؤقف اختیار کرے تو مسئلہ محض اعداد و شمار کا نہیں رہتا بلکہ اعتماد اور اعتبار کے بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایسی فضا میں بہترین سے بہترین فارمولا بھی اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر این ایف سی کے مباحث میں ایک اور نوعیت کی پیچیدگی کو جنم دیتے ہیں۔ یہ علاقے آئینی طور پر صوبوں کا درجہ نہیں رکھتے مگر عملی طور پر صوبوں جیسی انتظامی اور سماجی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ دشوار گزار جغرافیہ، پہاڑی خطے اور کمزور انفراسٹرکچر ان علاقوں میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مہنگا اور مشکل بنا دیتے ہیں۔ وفاق اگرچہ گرانٹس، سبسڈیز اور ترقیاتی فنڈز کے ذریعے انہیں سہارا فراہم کرتا ہے تاہم این ایف سی کی گفتگو میں یہ بنیادی حقیقت اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے کہ اگر ان علاقوں کو مالی اعتبار سے صوبوں جیسا مقام دیا جائے تو وہ بھی چاروں صوبوں کے حصے میں سے اپنا حصہ مانگنے کے حق دار ہوں گے نہ کہ صرف وفاقی امداد پر انحصار کریں گے۔
ان تمام مسائل کے ساتھ ساتھ عملدرآمد اور کارکردگی کے سوال پر بھی گہرا اختلاف موجود ہے۔ صوبے وسائل کی منتقلی میں تاخیر، ایڈجسٹمنٹ اور اچانک کٹوتیوں کی شکایت کرتے ہیں جبکہ وفاق صوبائی سطح پر کمزور ٹیکس وصولی اور محدود مالی نظم و ضبط کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں جانب کے اعتراضات اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں اور اگر نئے این ایف سی ایوارڈ کو واقعی معتبر اور قابلِ اعتماد بنانا ہے تو ان دونوں پہلوؤں کا بیک وقت اور سنجیدہ حل ناگزیر ہے۔
دوسری جانب صوبائی سطح پر آمدن بڑھانے کی کوششیں اب بھی محدود دائرے میں گھوم رہی ہیں۔ زرعی آمدن پر ٹیکس سیاسی مصلحتوں کے باعث جمود کا شکار ہے…..جائیداد ٹیکس فرسودہ ڈھانچے اور کمزور نفاذ کے سبب مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر ہے جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس اگرچہ ایک مثبت پیش رفت ہے مگر اس کی بنیاد کو وسیع کرنے، نظام کو شفاف بنانے اور وصولی کے عمل کو مؤثر بنانے کی ضرورت بدستور باقی ہے۔
مقامی حکومتوں کی مالی صورتِ حال ایک اور گہرے تضاد کو بے نقاب کرتی ہے۔ صوبائی حکومتیں وفاق سے اپنے حصے میں اضافے کا مطالبہ تو بھرپور انداز میں کرتی ہیں مگر خود وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں حالانکہ عوام کو روزمرہ کی بنیادی خدمات دراصل مقامی سطح پر ہی میسر آتی ہیں۔ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈز میں تاخیر اور غیر یقینی رویہ مقامی حکومتوں کو کمزور، غیر مستحکم اور ناقابلِ پیش گوئی مالی بنیاد پر چھوڑ دیتا ہے جس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبے اور عوامی خدمات دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
اگر ان تمام پہلوؤں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو تعطل کی اصل وجہ واضح ہو جاتی ہے۔ ایک ہی این ایف سی ایوارڈ سے بیک وقت کئی بڑے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے…. وفاقی مالی استحکام، آبادی کی بنیاد پر خدمات کی مؤثر فراہمی، اضافی لاگت کے بوجھ کا اعتراف، اور خصوصی علاقوں کےلئے قابلِ پیش گوئی فنڈنگ۔ محدود اعتماد، سیاسی کشیدگی اور طویل تاخیر کے ماحول میں کوئی ایک تکنیکی تبدیلی یا فارمولے کی معمولی اصلاح تمام فریقوں کو بیک وقت مطمئن نہیں کر سکتی۔
اس کے باوجود شفافیت اور اعتماد سازی کے ذریعے پیش رفت کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ اپنے مالی اعداد و شمار کو سادہ، واضح اور قابلِ فہم انداز میں عوام اور صوبوں کے سامنے رکھے۔ بجٹ میں قابلِ تقسیم محاصل کی بنیاد، غیر قابلِ تقسیم آمدنی کے بڑے ذرائع، صوبوں کے طے شدہ حصے اور عملی طور پر کی جانے والی ادائیگیوں کی مکمل تفصیل کھلے انداز میں پیش کی جائے۔ اس شفافیت سے سیاسی تناؤ میں کمی آئے گی اور این ایف سی پر ہونے والی بحث جذباتی الزامات کے بجائے ٹھوس حقائق اور اعداد و شمار کے گرد گھومنے لگے گی۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ قابلِ تقسیم محاصل میں سے ایک محدود اور واضح حصہ پہلے ہی مخصوص کر دیا جائے تاکہ یہ بوجھ صرف وفاق پر نہ رہے بلکہ ایک قومی ذمہ داری کے طور پر تمام فریقوں کے درمیان بانٹا جائے۔
اسی طرح صوبوں کی بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی کےلئے ایک چھوٹا سا ’’انعامی فنڈ‘‘ قائم کیا جا سکتا ہے جو این ایف سی کے دائرے سے باہر کی آمدنیوں( جیسے پیٹرولیم لیوی) سے تشکیل دیا جائے۔ جو صوبے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کریں، وصولی کے عمل کو مؤثر بنائیں اور مقامی حکومتوں کو باقاعدگی سے وسائل منتقل کریں انہیں اس فنڈ سے اضافی حصہ دیا جائے۔ اس کا مقصد صرف زیادہ رقم جمع کرنا نہیںبلکہ یہ ہے کہ ٹیکس بنیاد کو مضبوط اور نظام کو شفاف بنانا ہونا چاہئے تاکہ کمزور یا چھوٹے صوبے اپنے محدود نقطہ آغاز کی سزا نہ بھگتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ کسی قابلِ عمل فارمولے کی کمی نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کا ہے۔ پاکستان جیسے بڑے وفاقی ملک کےلئے پندرہ برس تک ایک ہی ایوارڈ پر چلنا ممکن نہیں۔ جتنی زیادہ تاخیر ہوگی اتنی ہی ہر تبدیلی سیاسی رنگ اختیار کرے گی اور تکنیکی فارمولہ پس منظر میں چلا جائے گا۔ اگلا این ایف سی ایوارڈ جتنا اہم ہے اتنا ہی ضروری اس عمل کی ساکھ بحال کرنا، زمینی حقائق کو تسلیم کرنا، اور وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کی بنیاد دوبارہ مضبوط کرنا ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit