بڑا سبق-11403-News

بڑا سبق-11403-News-SDPI

SDPI twitter

Blogs


بڑا سبق

مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی جنگ کبھی محض ایک محدود علاقائی تنازعہ نہیں رہ سکتی تھی مگر شاید ہی کسی نے یہ پیش گوئی کی ہو کہ یہ اتنی تیزی سے عالمی توانائی اور معیشت کے ایک شدید جھٹکے میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس صورتحال کے اثرات سے پاکستان خاص طور پر متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ایک معتبر بین الاقوامی جریدے نے بھی حالیہ جائزے میں پاکستان کو اْن ممالک کی فہرست میں رکھا ہے جو اس توانائی بحران کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہیں، جن میں اردن، سری لنکا اور مصر جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

          پاکستان کے اس خطے سے تعلقات صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ ترسیلاتِ زر، مزدور منڈیوں، تجارتی راستوں، تزویراتی مفادات اور عوامی جذبات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اس بحران کا پہلا اثر صرف منڈیوں میں نہیں بلکہ عوامی جذبات میں بھی محسوس کیا گیا۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج ہوئے، جس سے یہ ظاہرہوا کہ بیرونِ ملک ہونے والا کوئی بھی تنازعہ کس قدر تیزی سے اندرونِ ملک ردِعمل پیدا کر سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ رہی کہ معاملہ قابو میں رہا اور احتجاج کوئی خطرناک صورت اختیار نہ کر سکے۔

          تاہم، عوامی جذبات اس کہانی کا صرف ایک نمایاں پہلو ہیں۔ اصل اور دیرپا دباؤ معیشت پر پڑتا ہے اور اس کا آغاز توانائی کے شعبے سے ہوتا ہے۔

          پاکستان درآمدی تیل اور ایل این جی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جن میں سے تقریباً 88.9 فیصد مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اس توانائی بحران کےلئے نہایت حساس قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایک طرف اس کا انحصار بہت زیادہ ہے اور دوسری طرف اس کے پاس حفاظتی ذخائر کمزور ہیں۔ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر جی ڈی پی کا تقریباً 5.57 فیصد بنتی ہیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت بھی صرف 2.8 ماہ کی درآمدات کےلئے کافی تھے جب تیل کی قیمت تقریباً 60 ڈالر فی بیرل تھی۔ ایسے حالات میں تیل کی قیمت میں اضافہ صرف ایک تجارتی شے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ کرنٹ اکاؤنٹ، روپے کی قدر، ایندھن کی قیمتوں، بجلی کے نرخ، صنعتی لاگت اور مہنگائی تک منتقل ہو جاتا ہے۔

          گزشتہ ایک سال میں پاکستان نے کسی حد تک معاشی استحکام حاصل کیا ہے لیکن یہ استحکام کمزور بنیادوں پر قائم ہے اور کسی طویل توانائی بحران کے سامنے زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتا۔

          پاکستان کا انحصار صرف درآمدات تک محدود نہیں بلکہ بیرونِ ملک کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں پر بھی ہے جو ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خلیجی خطہ نہ صرف توانائی کا ذریعہ ہے بلکہ پاکستان کی بیرونی مالی معاونت کا بھی اہم ستون ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مل کر تقریباً 44 فیصد ترسیلاتِ زر فراہم کرتے ہیں۔ یہ رقوم صرف گھریلو اخراجات نہیں چلاتیں بلکہ زرِ مبادلہ پر دباؤ کم کرتی ہیں، طلب کو سہارا دیتی ہیں اور بیرونی کھاتوں کو مستحکم رکھتی ہیں۔

          جنگ کے اثرات اب واضح طور پر خطے کی معیشت میں سرایت ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ ہوا بازی، توانائی، سیاحت اور بین الاقوامی کاروبار پہلے ہی اس کے زد میں آ چکے ہیں اور اس کا دائرہ بتدریج دیگر شعبوں تک پھیل رہا ہے۔ تعمیرات، لاجسٹکس، ریٹیل اور خدمات کے شعبے اس دباؤ کو محسوس کریں گے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع سکڑ سکتے ہیں اور مزدوروں کا اعتماد دھیرے دھیرے کمزور پڑ سکتا ہے چاہے فوری طور پر بڑے پیمانے پر برطرفیاں نہ بھی ہوں۔ان اثرات کی بازگشت کچھ وقفے کے بعد پاکستانی گھروں تک پہنچے گی۔ ابتدا میں ترسیلاتِ زر میں نمایاں کمی شاید دکھائی نہ دے مگر اگر کشیدگی طول پکڑتی رہی تو یہ دباؤ بتدریج بڑھتا جائے گا اور مقامی معیشت کو متاثر کئے بغیر نہیں رہے گا۔

          بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ یہ جنگ کتنی دیر تک جاری رہتی ہے۔

          مختصر مدت کا جھٹکا بعض اوقات ذخائر، حکومتی نظم و ضبط اور عارضی مالی اقدامات کے ذریعے سنبھالا جا سکتا ہے مگر طویل جنگ کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔ اس سے تیل اور گیس کی قیمتیں مسلسل بلند رہتی ہیں، نقل و حمل اور انشورنس کے اخراجات بڑھتے ہیں اور گیس کی قلت یا مہنگی گیس کھاد کی قیمتوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

          اقوامِ متحدہ کے اداروں نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ ترقی پذیر ممالک میں خوراک کی قیمتوں کے ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے کیونکہ خلیج کے راستے کھاد کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور یوریا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ انتباہ فوری نوعیت کا ہے۔ توانائی کا بحران جو درآمدی ایندھن سے شروع ہوتا ہے، وہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ گندم، سبزیوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی شامل ہو جاتا ہے۔ یہ چھوٹی صنعتوں کو متاثر کرتا ہے، برآمدی لاگت بڑھاتا ہے اور مالیاتی پالیسی کو پیچیدہ بنا دیتا ہے ایسے وقت میں جب معیشت کو ترقی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جتنا زیادہ یہ تنازعہ طول پکڑے گا اتنا ہی پاکستان کے مختلف کمزور پہلو ایک دوسرے کو تقویت دیتے جائیں گے۔

           سوال یہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں حکومت اور عوام کو کیا توقع رکھنی چاہئے؟

          تیل اور ایل این جی کی منڈیاں غیر یقینی کا شکار رہیں گی۔ درآمدی مالیات سخت ہو سکتی ہے۔ جہاز رانی میں تاخیر اور بڑھتے ہوئے کرائے کچھ وقت بعد مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہوں گے۔ حکومت فی الحال کفایت شعاری، توانائی کے بچاؤ کے اقدامات اور اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسے خیالات کے ذریعے صورتِ حال سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے (تاہم آن لائن تعلیم کے بارے میں میرے تحفظات ہیں کیونکہ اس سے تعلیمی معیار متاثر ہو سکتا ہے۔سکول کی تعلیم کو ہنگامی سروس سمجھا جانا چاہئے)۔

          ان اقدامات کے ساتھ حکومت پر لازم ہے کہ وہ ایندھن کی فراہمی کے متبادل اور ہنگامی منصوبوں کا ازسرِنو جائزہ لے، کھاد کی مسلسل اور بروقت دستیابی کو یقینی بنائے اور ضروری اشیائے خورونوش کی سپلائی چین کو ہر ممکن خطرے سے محفوظ رکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتکاروں اور کاروباری حلقوں سے شفاف اور کھلے انداز میں مکالمہ بھی ناگزیر ہے تاکہ غیر یقینی صورتحال میں اعتماد بحال رکھا جا سکے۔یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ اس بحران کا سارا بوجھ یکطرفہ طور پر نچلے اور متوسط طبقے پر منتقل نہ کیا جائے کیونکہ نہ تو یہ صورتحال ان کی پیدا کردہ ہے اور نہ ہی وہ اس کے اثرات کو تنہا برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ایک منصفانہ اور متوازن حکمتِ عملی ہی معاشرتی استحکام کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

          پاکستان کا ردِعمل دو محاذوں پر آگے بڑھنا چاہئے۔ کشیدگی میں کمی کیلئے اسلام آباد کی ثالثی کی کوششوں کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ سفارتی سطح پر پاکستان کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کے حل کی کوششوں کا حصہ بن کر پاکستان خطے میں تحمل و توازن کو فروغ دینے اور تجارت و توانائی کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنانے کی کوشش کرے۔ داخلی سطح پر پاکستان کواس بحران کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے خصوصاً معیشت، توانائی اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں ان اصلاحات کو تیز کرنا چاہئے جنہیںوہ طویل عرصے سے مؤخر کرتا آیا ہے۔

          آخرکار یہی اس پورے معاملے کا بڑا سبق ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا غیر مستحکم ہو چکی ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکستان خود بیرونی عدم استحکام کے سامنے بہت زیادہ کمزور ہے۔ اس جنگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ لچک اور مضبوطی کو نظر انداز کرنے کی قیمت کتنی بھاری ہوتی ہے۔

          لچک محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس اور دوراندیش معاشی حکمتِ عملی ہے۔ توانائی کے شعبے میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا مضبوط اور قابلِ اعتماد نظام تشکیل دیا جائے جو ہر طرح کے بیرونی دباؤ کو سہہ سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ توانائی کے ذرائع کو متنوع بنایا جائے تاکہ کسی ایک وسیلے پر انحصار کم ہو، درآمدی ایندھن پر بتدریج انحصار گھٹایا جائے؛خصوصاً شمسی توانائی جیسے پائیدار ذرائع کو فروغ دے کر مؤثر ذخیرہ کاری کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ہنگامی حالات میں قلت کا سامنا نہ ہو۔اسی کے ساتھ جدید اور کم خرچ ٹرانسپورٹ کے نظام کو فروغ دینا اور توانائی کے دانشمندانہ استعمال کی ثقافت کو عام کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ نہ صرف اخراجات میں کمی آئے بلکہ معیشت کو دیرپا استحکام بھی حاصل ہو سکے۔

           ان اقدامات سے پاکستان مکمل طور پر محفوظ تو نہیں بنے گا لیکن بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور آئندہ بحرانوں کا بہتر انداز میں سامنا کرنے کے قابل ضرور بن سکتا ہے۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit