جنگ اور دسترخوان کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟-11404-News

جنگ اور دسترخوان کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟-11404-News-SDPI

SDPI twitter

Blogs


جنگ اور دسترخوان کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہوتے ہوئے اب تک زیادہ تر بحث تیل، گیس اور توانائی کے بحران کی شدت پر مرکوز رہی ہے….. تشویش بجا ہے مگر ایک اور خطرہ خاموشی سے جنم لے رہا ہے اور اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اسے سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہ خطرہ غذائی تحفظ کو لاحق ہے جو ایک طویل جنگ کے نتیجے میں پیدا ہو رہا ہے۔

          بعض لوگوں کے لئے یہ بات حیران کن ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کو عام طور پراناج کا بڑاپیداواری مرکز نہیں سمجھا جاتا۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس خطے میں جنگ کا عالمی غذائی بحران سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔خوراک کا نظام صرف اس وقت متاثر نہیں ہوتا جب پیداوار کم ہو جائے بلکہ اس وقت بھی بگڑ جاتا ہے جب خوراک اگانے، اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے اور تیار کرنے کےلئے درکار وسائل مہنگے یا کمیاب ہو جائیں۔

          ورلڈ فوڈ پروگرام پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑ گئی اور تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو دنیا بھر میں کروڑوں مزید افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

          میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ غذائی تحفظ  کو صرف گندم یا بنیادی اجناس کے ذخائر تک محدود نہیں سمجھنا چاہئے۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ ایک وسیع تر نظام سے جڑا ہوتا ہے جس میں ایندھن، کھاد، آبپاشی، ٹرانسپورٹ، تجارت اور گھریلو آمدنی سب شامل ہیں۔ اس زنجیر کی ایک یا دو کڑیاں بھی ٹوٹ جائیں توسارا نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ نقصان کی ابتدا لاگت بڑھنے سے ہوتی ہے، پھر ترسیل مہنگی ہوتی ہے، صنعت سست پڑنے لگتی ہے اور آخرکار پیداوار کم اور خوراک مہنگی ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں گھرانے پہلے معیار اور پھر مقدار کم کر دیتے ہیں۔

          موجودہ جنگ اسی طرز کی ایک مثال ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ عالمی تیل اور ایل این جی کی صرف 20 فیصد سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے مگر عالمی کھاد کی تجارت کا تقریباً 30 فیصد اسی راستے سے ہوتا ہے۔

          جدید زراعت تین بنیادی غذائی اجزانائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم پر انحصار کرتی ہے۔ نائٹروجن کھادیں جیسے امونیا اور یوریا قدرتی گیس سے بنتی ہیں جبکہ فاسفیٹ کھادیں سلفر پر منحصر ہوتی ہیں جو تیل اور گیس کی ریفائننگ سے حاصل ہوتا ہے۔

          اس طرح خلیجی خطے میں خلل صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ کھاد کے ذریعے بھی زرعی پیداوار کو متاثر کرتا ہے۔ اس وقت خلیج میں نائٹروجن اور فاسفیٹ کھادوں کی پیداوار متاثر ہو چکی ہے جس سے عالمی سپلائی کم اور قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ یوریا کی عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ خطرے میں ہے۔ اس کے اثرات فوری نہیں بلکہ کچھ وقفے کے بعد ظاہر ہوں کے اور خوراک کی قیمتوں اور دستیابی دونوں پر اثر انداز ہونگے۔

          ایندھن اور بجلی کی بڑھتی قیمتیں اس بحران کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ خوراک کے پورے نظام کا دارومدار توانائی پر ہے۔ ڈیزل ٹریکٹر، ہارویسٹر، ٹیوب ویل، ٹرک اور جہاز چلاتا ہے جبکہ بجلی کولڈ اسٹوریج، آٹا چکیوں اور فوڈ پروسیسنگ کےلئے ضروری ہے۔ جب توانائی مہنگی ہوتی ہے تو خوراک کی پیداوار، ترسیل، ذخیرہ اور تیاری سب مہنگی ہو جاتی ہیں۔

          امیر ممالک میں یہ مسئلہ زیادہ تر مہنگائی تک محدود رہتا ہے مگر غریب ممالک میں یہ بھوک کا سبب بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں حالیہ اعدادوشمار کے مطابق گھریلو اخراجات کا 37 فیصد خوراک پر اور 26 فیصد رہائش و توانائی پر خرچ ہوتا ہے۔ جب جنگ کے باعث دونوں مہنگے ہو جائیں تو گھریلو بجٹ فوری دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے اور لاکھوں افراد کےلئے یہ صرف غیر ضروری اخراجات کم کرنے کا نہیں بلکہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

          عالمی سطح پر فوری طور پر خوراک کی شدید کمی کا خطرہ نہیں کیونکہ اناج کی منڈیاں اس وقت نسبتاً مستحکم ہیں مگر غذائی بحران کا مطلب صرف گوداموں کا خالی ہونا ہی نہیں ہے بلکہ یہ اس وقت بھی جنم لیتا ہے جب کھاد مہنگی ہو، گیس کی فراہمی محدود ہو، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جائے اور درآمدی ممالک قیمتوں کا بوجھ برداشت نہ کر سکیں۔

          اس جنگ کا اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ نہ صرف موجودہ خوراکی نظام کو متاثر کر رہی ہے بلکہ آئندہ فصلوں اور غریب طبقے کی قوتِ خرید کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔

          خطے کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک ہے۔ خلیجی ممالک اپنی خوراک کا 80 سے 90 فیصد درآمد کرتے ہیں اس لئے وہ شپنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس مالی وسائل موجود ہیں، مگر بند راستے، بڑھتے انشورنس اخراجات اور تاخیر شدہ ترسیل جیسے مسائل مکمل طور پر ختم نہیں کئے جا سکتے۔

          لبنان کی حالت اس سے کہیں زیادہ نازک ہے جہاں پہلے ہی غذائی عدم تحفظ شدید تھا اور اب جنگ نے بے گھر افراد، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ایران کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ وہاں مکمل قلت کا مسئلہ نہیں مگر مہنگائی، کرنسی کی کمزوری اور معاشی دباؤ کے باعث خوراک کی دستیابی اور خریداری کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔

          پاکستان کےلئے اس کے اثرات توقع سے زیادہ براہِ راست ہیں۔ ہم صرف اس لئے متاثر نہیں کہ تیل ہماری معیشت کےلئے اہم ہے بلکہ اسلئے بھی کہ ہماری زرعی پیداوار خود توانائی پر منحصر ہے۔ ہم گیس پر تین شعبوں کھاد کی تیاری، بجلی کی پیداوار اور گھریلو استعمال پر انحصار کرتے ہیں۔ جب گیس مہنگی یا کم ہو جائے تو تینوں شعبے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔

          قطر کی جانب سے گیس معاہدوں میں ’’فورس میجور‘‘ کے اعلان کے بعد ایشیا میں ایل این جی کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور مختلف ممالک اس کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت میں گیس کی راشن بندی ہو رہی ہے جبکہ بنگلہ دیش میں کھاد کے کارخانے عارضی طور پر بند کئے جا رہے ہیں۔ یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح ایک علاقائی جنگ تیزی سے توانائی سے زرعی معیشت تک اثر انداز ہو تی ہے۔

          ایک اور اہم پہلو جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جب کھاد مہنگی ہو جاتی ہے تو کسان کھیتی باڑی ترک نہیں کرتے بلکہ اپنی حکمت عملی بدل لیتے ہیں

àوہ کم کھاد استعمال کرتے ہیں، فصل تبدیل کرتے ہیں یا قرض لے لیتے ہیں۔ اگر موسم سازگار ہو تو کچھ نقصان برداشت ہو جاتا ہے مگر اگر موسم خراب ہو تو یہ نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غذائی بحران اکثر آہستہ آہستہ جنم لیتا ہے اور پھر اچانک شدت اختیار کر لیتا ہے۔

موجودہ جنگ موسمیاتی تبدیلی اور برآمدی پابندیوں جیسے پہلے سے موجود خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے۔

          ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ سب سے پہلے تو انہیں غذائی تحفظ اور توانائی کے تحفظ کو ایک ہی مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ قلیل مدت میں کھاد کے لئے گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا، فاسفیٹ کھاد کا ذخیرہ کرنا اور ضرورت پڑنے پر کم آمدنی والے طبقوں کو ہدفی مالی مدد فراہم کرنا ضروری ہوگا۔

          درمیانی مدت میں پاکستان کوبہتر بیج، مؤثر آبپاشی، جدید ذخیرہ کاری، اور زرعی شعبے میں قابلِ تجدید توانائی کا فروغ جیسے فوری اقدامات کرنے ہوں گے جو طویل عرصے سے مؤخر ہوتے آئے ہیں۔

          اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو عوام سے کھل کر بات کرنی چاہئے۔ گھبراہٹ فائدہ نہیں دیتی مگر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ غذائی تحفظ صرف گندم کے ذخائر تک محدود ہے۔

          جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں، پاکستان میں عالمی بحرانوں کا پہلا اثر گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ ابتدا تیل اور گیس سے ہوگی مگر جلد ہی یہ کھاد کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، خوراک کی مہنگائی اور مجموعی گھریلو دباؤ میں تبدیل ہو جائے گا۔

اکثر گھرانوں کے لئے اصل سوال یہ ہوگا کہ خوراک اور توانائی کے اخراجات پورے کرنے کے بعد باقی ضروریات کیسے پوری کی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہوتے ہوئے پاکستان میں پالیسی سازی کے مباحث میں غذائی تحفظ کو توانائی کے تحفظ کے برابر اہمیت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit