جنگی مہنگائی-11408-News

جنگی مہنگائی-11408-News-SDPI

SDPI twitter

Blogs


جنگی مہنگائی

ہم پر بجلی اور  گیس کے بلوں میں مختلف اقسام کے چارجز، سرچارجز اور سپر سرچارجز سے واقف ہیں ۔ مختلف حکومتیں یہ اضافی چارجز بالواسطہ ٹیکس کے طور پر آمدنی بڑھانے کے لیے مؤثر طور پر استعمال کرتی رہی ہیں…………. اگرچہ اس کا اثر مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اس وقت ہم ایک بار پھر مہنگائی میں اضافہ دیکھ رہے ہیں لیکن اس بار یہ اضافہ کسی ‘‘اضافی سرچارج’’ کی وجہ سے نہیں۔ پاکستان میں مہنگائی اب ایک ‘‘جنگی چارج’’ کے ساتھ آ رہی ہے۔ خلیج کی جنگی صورتحال نے ایندھن کو مہنگا کر دیا ہے، شپنگ کے اخراجات بڑھا دیے ہیں، انشورنس مہنگی ہو گئی ہے، سپلائی چین غیر یقینی ہو گئی ہے اور ڈالر کی طلب میں اضافہ ہو گیا ہے جو ہماری مہنگائی کے حساب میں شامل ہو چکا ہے۔

تیل کی قیمت عام بازار میں فروخت ہونے والے پھلوں جیسی نہیں ہوتی۔ سبزی فروش آج کی خرید اور آج کی ممکنہ طلب کو دیکھ کر قیمت لگاتا ہے مگر تیل کا تاجر آج کے بیرل کی قیمت اس خوف سے طے کرتا ہے کہ کل کیا ہوگا۔ کیا ٹینکر محفوظ راستہ عبور کر سکیں گے؟ کیا بندرگاہیں کھلی رہیں گی؟ کیا انشورنس مزید مہنگی ہو جائے گی؟ کیا خریدار جلدی تیل ذخیرہ کرنے کی کوشش کریں گے؟ کیا کوئی جنگی حملہ راستے بند کر دے گا؟

ہر خطرہ قیمت میں شامل ہو جاتا ہے….. اس سے پہلے کہ کمی یا قلت زمین پر محسوس ہو۔

پاکستان اس تبدیلی کو پہلے ہی محسوس کر چکا ہے اور ایران، قطر اور امریکا کے ساتھ سفارتی رابطوں کے بعد قطر سے دو ایل این جی کارگو کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل کر لی گئی ہے۔ یہ خود اس بات کی علامت ہے کہ اب توانائی کی فراہمی معمول کا کاروبار نہیں رہی بلکہ ایک بحران کا انتظام بن چکی ہے۔

پاکستان میں پٹرول کی قیمت براہِ راست عالمی برینٹ آئل کے مطابق نہیں چلتی۔ برینٹ ڈالر میں ہوتا ہے، جبکہ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل روپے میں فروخت ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان شرحِ تبادلہ، شپنگ فریٹ، انشورنس، پورٹ چارجز، ریفائنری مارجن، آئل مارکیٹنگ مارجن، ڈیلر مارجن، ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی شامل ہوتی ہیں۔

اس لیے عالمی قیمت میں کمی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پاکستان میں بھی قیمت فوراً کم ہو جائے۔ روپے کی قدر اگرچہ ڈالر کے مقابلے میں نسبتاً مستحکم ہے، لیکن دیگر عوامل بھی قیمت کو متاثر کرتے ہیں۔ جیسے فریٹ مہنگا ہونا، خطرناک خطے کی وجہ سے انشورنس بڑھ جانا، پرانا مال مہنگے داموں خریدا جانا، نیا مال ‘‘جنگی پریمیم’’ کے ساتھ آنا اور اوپر سے پٹرولیم لیوی کا اضافہ…….

پٹرولیم لیوی نہ تو شپنگ کا حصہ ہے اور نہ جنگ کا…… یہ ریاست کی آمدنی ہے جو ہر لیٹر پر وصول کی جاتی ہے۔ جب حکومت مالی دباؤ یا آئی ایم ایف پروگرام میں ہوتی ہے تو یہ آمدنی برقرار رکھی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ مالی طور پر ضروری ہو سکتا ہے لیکن اس کا بوجھ عام شہری پر پڑتا ہے، چاہے وہ موٹر سائیکل سوار ہو، وین ڈرائیور، کسان یا دکاندار…………

حالیہ اعداد و شمار اس دباؤ کی شدت ظاہر کرتے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے اپریل 2026 کے مانیٹر کے مطابق قومی سطح پر مہنگائی 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو مارچ میں 7.3 فیصد تھی۔ ہول سیل مہنگائی 13.6 فیصد تک بڑھ گئی ہے جبکہ ہفتہ وار حساس قیمتوں کا اشاریہ 12.6 فیصد تک جا پہنچا ہے۔

بیرونی شعبے پر بھی اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔ ایندھن مہنگا ہونے سے زیادہ ڈالر ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے والے ادارے، ریفائنریاں اور امپورٹرز کو زیادہ مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ بینک ایل سیز کھولنے میں محتاط ہو رہے ہیں۔ صنعت توانائی کی فراہمی کے بارے میں فکر مند ہے۔ کاروبار نئے آرڈر مؤخر کر رہے ہیں یا قیمتیں بڑھا رہے ہیں اور صارفین کو مہنگائی اور کم رعایت کا سامنا ہے۔

آنے والے ہفتوں میں قیمتوں میں غیر یکساں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

پہلا اثر پٹرول پمپس پر پڑے گا۔ دوسرا اثر خوراک کی منڈیوں پر آئے گا۔ عید جیسے مواقع پر عام طور پر قیمتیں بڑھتی ہیں، لیکن اس بار یہ اضافہ فریٹ بڑھنے کی وجہ سے بھی ہوگا۔ سبزیاں، پھل، دودھ، انڈے اور مرغی جیسے اشیا زیادہ متاثر ہوں گی کیونکہ ان کی ترسیل فارم سے لے کر ہول سیل اور ریٹیل تک ایندھن پر منحصر ہے۔

تیسرا اثر سروس سیکٹر پر ہوگا۔ ریسٹورنٹس مینیو مہنگے کریں گے، ڈیلیوری سروسز چارجز بڑھائیں گی، جبکہ درزی، حجام، کلینک، ورکشاپس اور ٹیوشن سینٹرز بجلی، جنریٹر فیول اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات صارفین پر منتقل کریں گے۔

چھوٹے کاروبار بار بار آنے والے فیول شاک کو برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے وہ آہستہ آہستہ قیمتیں بڑھائیں گے تاکہ ایک ساتھ گاہک نہ کھو دیں۔

کچھ تاجر نیا مال آنے سے پہلے ہی قیمتیں بڑھا دیں گے، یہ کہہ کر کہ آئندہ مال مہنگا ہوگا۔ کچھ واقعی درست ہوں گے جبکہ کچھ موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ کمزور مارکیٹ نگرانی میں یہ دونوں رویے ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے گندم، چینی اور خوردنی تیل میں ذخیرہ اندوزی قیمتوں کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔

حکومت کو اپنی معلومات زیادہ شفاف بنانی چاہئیں۔ ہر فیول پرائس نوٹس میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ کتنی قیمت درآمدی لاگت ہے، کتنا اثر شرحِ تبادلہ کا ہے، کتنا فریٹ اور انشورنس کا ہے، کتنا مارجن ہے اور کتنا ٹیکس اور پٹرولیم لیوی ہے۔

عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کتنی قیمت جنگی صورتحال کی وجہ سے ہے، کتنی روپے کی قدر کی وجہ سے اور کتنی ریاستی آمدنی کی ضرورت کی وجہ سے!.

اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا جائے کہ یہ اضافی آمدنی کیوں ضروری ہے تاکہ عوامی خدمات جاری رکھی جا سکیں اور ریلیف دیا جا سکے۔

ریلیف ہر صارف پر یکساں نہیں ہونا چاہیے۔ امیر طبقہ زیادہ ایندھن استعمال کرتا ہے، اس لیے سستی پالیسی کا فائدہ زیادہ تر انہیں ہی پہنچتا ہے۔ حکومت کو ہدفی ریلیف جاری رکھنا چاہیے، خاص طور پر پبلک ٹرانسپورٹ، چھوٹے کسانوں، موٹر سائیکل سواروں اور ضروری اشیا کی ترسیل کرنے والوں کے لیے!.........

ساتھ ہی یہ نگرانی بھی ضروری ہے کہ یہ ریلیف صارف تک واقعی پہنچ رہا ہے یا نہیں۔ اسی طرح صوبوں کو صرف ریٹیل نہیں بلکہ ہول سیل منڈیوں کی بھی نگرانی کرنی چاہیے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ کے وقت تنخواہ دار طبقہ مزید دباؤ محسوس کرے گا کیونکہ تنخواہیں اتنی تیزی سے نہیں بڑھتیں جتنی تیزی سے ڈیزل، کرایہ، اسکول وین اور راشن مہنگا ہو جاتا ہے۔

حکومت نے اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک نازک سیزفائر کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے، لیکن آنے والے ہفتے نہ صرف اس سیزفائر کی پائیداری کا امتحان ہوں گے بلکہ گھریلو بجٹ، مارکیٹ کے نظم و ضبط اور ریاست کی اس صلاحیت کا بھی امتحان ہوں گے کہ وہ عوام کو یہ واضح طور پر بتا سکے کہ وہ اصل میں کس چیز کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit