غیر ملکی سفر سے پاکستان واپسی کے دوران دوحہ میں اچانک جنگی صورتحال کے باعث پروازوں کی معطلی، سفر میں رکاوٹوں اور غیر یقینی حالات کا سامنا کرتے ہوئے مجھے ارنسٹ ہیمنگوے کے ناولA Farewell to Arms کی معنویت شدت سے محسوس ہوئی۔ اس تجربے نے واضح کیا کہ جنگ صرف محاذوں اور ہتھیاروں کا نام نہیں بلکہ یہ عام انسان کی روزمرہ زندگی، منصوبوں، تعلقات اور ذہنی سکون کو بھی متاثر کرتی ہے۔
ریاستیں جنگ کو ’’روک تھام‘‘، ’’جوابی کارروائی‘‘ اور ’’قومی مفاد‘‘ جیسی اصطلاحات میں بیان کرتی ہیں مگر عام آدمی اسے خوف، بے یقینی، جدائی اور انتظار کی صورت میں محسوس کرتا ہے۔ جنگ کا اثر صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ فضائی سفر، تجارتی راستوں، ایندھن کی قیمتوں، خاندانی روابط اور معاشی سرگرمیوں کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کےلئے ایسے تنازعات صرف معاشی چیلنج نہیں بلکہ انسانی مسئلہ بھی ہیں کیونکہ خطے میں پیدا ہونے والی بے چینی براہِ راست عوام کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔ اسی لئے امن، تحمل اور سفارتی کوششیں کمزوری نہیں بلکہ ذمہ داری اور دوراندیشی کی علامت ہیں۔ہیمنگوے کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے کہ جنگ میں اصل شکست انسانیت کی ہوتی ہے۔ اسی لئے جنگوں کے بجائے امن، مکالمے اور استحکام کو ترجیح دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک عالمی اور علاقائی بحرانوں کے اثرات سے الگ نہیں رہ سکتے۔ پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ پر انحصار صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں بلکہ ترسیلاتِ زر، روزگار، تجارت اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی اسی خطے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی رکاوٹیں اور خطے میں عدم استحکام براہِ راست پاکستانی معیشت، مہنگائی اور عوامی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
جدید دنیا میں جنگ اب صرف توپوں، میزائلوں اور سرحدی جھڑپوں کا نام نہیں رہی۔ یہ ایک ایسا معاشی، سماجی اور انسانی عمل بن چکی ہے جو مہنگائی، ایندھن کے بلوں ، آٹے کے تھیلوں اور کبھی ایک خالی دسترخوان کی شکل میںخاموشی سے گھروں کے اندر داخل ہو جاتی ہے……… مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا واقعی جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود رہتی ہے؟ یا پھر اس کے اثرات اس عام شہری تک پہنچتے ہیں جو جنگ کا حصہ ہوتا ہے اور نہ ہی فیصلوں میں شامل……. مگر اس کی قیمت ضرور ادا کرتا ہے۔
انسانی تاریخ میں جنگ ہمیشہ طاقت کے توازن، سرحدوں اور سیاسی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے…….. اکیسویں صدی میں جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب جنگیں لڑی تو فضائوں،سمندروں اور زمینوں پر لڑی جاتی ہیں لیکن ان کے اثرات بازاروں، مالیاتی منڈیوں، توانائی کے مراکز اور سپلائی چینز میں بھی محسوس کئے جاتے ہیں۔آج اگر کسی خطے میں کشیدگی پیدا ہو جائے تو اس کا پہلا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ تیل کی قیمت پوری عالمی معیشت کی نبض ہے۔ اس میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی ٹرانسپورٹ، پیداوار، زرعی لاگت اور آخرکار خوراک کی قیمتوں کو بدل دیتا ہے۔
جدید معیشت کا پہیہ توانائی پر چلتا ہے۔ فیکٹریاں ہوں یا کھیت، ٹرانسپورٹ ہو یا ہسپتال…… ہر جگہ توانائی بنیادی عنصر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے تیل اور گیس کی سپلائی غیر یقینی ہو تی ہے……..شپنگ انشورنس بڑھ جاتی ہے، راستے مہنگے ہو جاتے ہیں اور رسد کے نظام پر دباؤ آ جاتا ہے۔ایک بیرل تیل کی قیمت صرف مارکیٹ میں ہی نہیں بڑھتی بلکہ اس سے ایک پورے معاشی نظام متاثر ہوتا چلا جاتا ہے۔پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ اثر اور بھی دوگنا ہوتا ہے کیونکہ یہاں توانائی کا بڑا حصہ درآمد کیا جاتا ہے اس لئے عالمی قیمت میں اضافہ براہِ راست مقامی مہنگائی میں منتقل ہو جاتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ان دنوں امن اور جنگ کے درمیان ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حالات لمحہ بہ لمحہ بدل رہے ہیں۔ کبھی سفارتی کوششوں سے امید کی کوئی کرن دکھائی دیتی ہے تو اچانک کوئی فوجی کارروائی کی دھمکی یا سیاسی بیان پوری فضا کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں مستقبل مکمل طور پر تاریک ہے اور نہ ہی مکمل طور پر روشن………بلکہ ایک مستقل غیر یقینی کی دھند میں لپٹا ہوا ہے۔اس دھند کا سب سے پہلا اثر انسانی ذہن پر پڑتا ہے اور جلد ہی بازاروں، منڈیوں، تیل کی قیمتوں، کرنسیوں اور عالمی تجارت تک پھیل جاتا ہے۔
آج کی دنیا میں جنگ صرف توپوں اور میزائلوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ معیشت کی شریانوں میں بہنے والے خون کو بھی متاثر کرتی ہے۔
توانائی کی منڈیاں اس غیر یقینی صورتحال کا سب سے پہلا شکار بنی ہیں۔ تیل ایک ایسی شے ہے جس کی قیمت صرف موجودہ طلب اور رسد سے نہیں بلکہ مستقبل کے خوف سے بھی طے ہوتی ہے۔ ایک تاجر جب بیرل خریدتا ہے تو وہ صرف آج کی قیمت نہیں دیکھتا بلکہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کل یہ راستے کھلے رہیں گے یا نہیں؟ کیا شپنگ محفوظ رہے گی یا نہیں؟ اور کیا انشورنس قابلِ برداشت رہے گی یا نہیں؟
یہی خوف جب قیمتوں میں شامل ہوتا ہے تو معاشی زبان میں’’جنگی پریمیم‘‘ کہلاتا ہے جو اصل قیمت سے زیادہ وہ اضافی بوجھ ہے جو خطرے کی وجہ سے شامل ہوتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے توانائی کی عالمی سپلائی چین کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں تیل کی پیداوار جاری ہے لیکن آبنائے ہرمز جیسے حساس ترسیلی راستے عالمی منڈی کےلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں ذرا سی رکاوٹ بھی پوری دنیا میں قیمتوں کے جھٹکے پیدا کر سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے اسی غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ۔اگرچہ جنگ بندی کے بعد( جو عارضی معلوم ہوتی ہے)آبنائے جزوی طور پر کھل گئی ہے لیکن خطرات اور خدشات بدستور موجود ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی معیشت اس وقت ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں کوئی بھی سیاسی یا فوجی خبر فوری طور پر معاشی فیصلوں کو بدل سکتی ہے۔آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیںلیکن وہ اسے ’’مشروط استحکام‘‘ قرار دے رہے ہیں
àیعنی معیشت چل تو رہی ہے مگر اس کی رفتار اب سیاسی حالات کی مرہونِ منت ہے۔ تنازع بڑھنے کی صورت میں ترقی کی رفتار فوری طور پر کم ہو سکتی ہے ۔آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق موجودہ حالات میں عالمی ترقی کی شرح 3 فیصد کے آس پاس رہ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا ایک’’کھوئی ہوئی ترقی‘‘( lost growth)کے دور سے گزر رہی ہے جہاں معیشت موجود تو ہے مگر اپنی پوری صلاحیت استعمال نہیں کر پا رہی۔ابھرتی ہوئی معیشتیں اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ ان ممالک کے پاس نہ تو اتنا مالی ذخیرہ ہے کہ وہ طویل مہنگائی برداشت کر سکیں اور نہ ہی اتنی مضبوط کرنسی کہ وہ بیرونی جھٹکوں( اس کے اثرات) کو جذب کر سکیں یعنی یہ ترقی صرف اس وقتپائیدار ہو سکتی ہے جب جغرافیائی سیاسی حالات کسی حد تک قابو میں رہیں۔آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع محدود رہتا ہے تو عالمی معیشت کی شرحِ نمو آنے والے برسوں میں نسبتاً مستحکم رہ سکتی ہے لیکن اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو یہی شرح نمایاں طور پر نیچے آ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی معیشت اب سیاسی حالات کے رحم و کرم پر ہے۔
یہ صرف ترقی یافتہ ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر دنیا پر بھی پڑا ہے۔ وہ ممالک جو پہلے ہی قرضوں، درآمدی انحصار، اور مالی عدم توازن کا شکار ہیں ان کےلئے ہر نیا جھٹکا ایک اضافی بوجھ بن گیا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا انحصار تین بڑے بیرونی ستونوں پر ہے:
1 ۔ درآمدی توانائی
2۔ بیرونی مالی معاونت
3۔ ترسیلاتِ زر
یہ تینوں ستون مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ جیسے ہی وہاں کشیدگی بڑھتی ہے، پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر عالمی بحران پاکستان میں مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور مالی دباؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کی سب سے بڑی کمزوری اس کا بیرونی انحصار ہے۔ پاکستان توانائی کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اسلئے تیل اور گیس کی قیمتوں کا اثر فوراً کرنسی پر پڑتا ہے اور بیرونی قرضوں کا بوجھ توانائی کی درآمدات، بیرونِ ملک روزگار، ترسیلاتِ زر اور مالی معاونت کی گنجائش کو محدود کر دیتا ہے کیونکہ یہ سب اسی خطے( مشرق وسطی) سے جڑے ہوئے ہیں اسلئے وہاں پیدا ہونے والی ہر بے چینی براہِ راست پاکستان تک پہنچتی ہے۔جب عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان میں اس کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتابلکہ ٹرانسپورٹ، بجلی، زراعت اور صنعت تک پھیل جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عالمی جھٹکا اندرونی معاشی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
جب بھی عالمی حالات خراب ہوتے ہیں متزکرہ بالا تینوں ستون ایک ساتھ دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ بیرونِ ملک روزگار اور ترسیلاتِ زر پاکستانی معیشت کا اہم جز ہیں۔ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں۔ یہ خطہ نہ صرف توانائی کا مرکز ہے بلکہ پاکستان کے لئے زرمبادلہ کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔اگر اس خطے میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کا اثر فوری طور پر پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ اور گھریلو معیشت پر پڑتا ہے کیونکہ پاکستان کی ترسیلاتِ زر کا اہم حصہ زیادہ تر خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ اگر وہاں معاشی دباؤ بڑھتا ہے تو یہ آمدن بھی متاثر ہوتی ہے۔یہ اثر سیدھا زرمبادلہ کے ذخائر، کرنسی کی قدر اور درآمدی صلاحیت پر پڑتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا معاشی ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں ہر بیرونی بحران داخلی دباؤ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
جدید دنیا میں معیشتیں الگ الگ نہیں ۔ ایک خطے کی جنگ دوسرے خطے کے کچن تک پہنچتی ہے اور ایک سیاسی بحران عام شہری کے دسترخوان کو متاثر کرتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات بھی صرف سفارتی بیانات، تیل کی قیمتوں یا عالمی منڈیوں کے گراف تک محدود نہیں رہے۔ یہ اثرات توانائی کے نرخوں سے بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے کرایوں ،خوراک کی قیمتوں اور آخرکارعام گھر وںکے دسترخوان تک پہنچ چکے ہیں۔
یہاں ایک یہ بات قابل غور ہے وہ یہ کہ خوراک کا بحران اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ یہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ پہلے ایندھن مہنگا ہوتا ہے، پھر ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے پھر کھاد اور زرعی لاگت بڑھتی ہے اور آخرکار یہ سب خوراک کی قیمتوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ایک عام گھرانے کے لئے یہ پورا عمل بہت سادہ ہوتا ہے:آمدنی وہی رہتی ہے مگر اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔پاکستان میں چونکہ آمدنی کا بڑا حصہ خوراک اور توانائی پر خرچ ہوتا ہے ا س لئے یہاں یہ اثر زیادہ شدت سے محسوس ہوتا ہے۔
یہی پاکستان کی بنیادی کمزوری ہے۔ معیشت چونکہ اندرونی طور پر مکمل خود کفیل نہیں اس لئے بیرونی جھٹکے فوراً داخلی مسائل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔توانائی کا شعبہ اس پورے نظام کا مرکزی ستون ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی پاکستان میں مہنگائی میں فوری اضافہ کا سبب بنتا ہے لیکن یہ اثر سیدھا اور سادہ نہیں ہوتا بلکہ کئی مرحلوں سے گزر کر عام آدمی تک پہنچتا ہے۔سب سے پہلے شپنگ مہنگی ہوتی ہے پھر انشورنس کے اخراجات بڑھتے ہیں اس کے بعد درآمدی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور آخر میں یہ سب مقامی منڈیوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی صرف عالمی قیمتوں کا عکس نہیں بلکہ ایک پیچیدہ معاشی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ زرعی پیداوار صرف زمین، موسم اور محنت پر ہی منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار توانائی، کھاد، ٹرانسپورٹ اور عالمی تجارت پر بھی ہوتا ہے۔ یہ پورا نظام درحقیقت ایک عالمی جال سے جڑا ہوا ہے۔ توانائی اس جال کاسب سے مرکزی دھاگہ ہے۔ اگر توانائی مہنگی ہو جائے تو کھاد مہنگی ہو جاتی ہے، کھاد مہنگی ہو جائے تو پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے اور پیداوار مہنگی ہو جائے تو خوراک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگتی ہے آسان الفاظ میں ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، جب ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو خوراک مہنگی ہو جاتی ہے اور جب خوراک مہنگی ہوتی ہے تو مہنگائی ایک سماجی مسئلہ بن جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں معیشت اور سماج ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی صرف ایک عدد نہیں رہتی بلکہ ایک مقامی حقیقت بن جاتی ہے…….. ایسا دباؤ جو ہر کچن، ہر بازار اور ہر گھر میں محسوس ہوتا ہے۔یہ ایسا مسلسل سلسلہ ہے جس میں ہر کڑی دوسری سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ایک جگہ جھٹکا لگے تو پورا نظام ہل جاتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا بحران اسی نازک زنجیر کو متاثر کر رہا ہے۔ خاص طور پر کھاد کی عالمی سپلائی دباؤ میں ہے۔ نائٹروجن اور یوریا جیسی کھادیں قدرتی گیس پر انحصار کرتی ہیں موجودہ بحران کی وجہ سے ان کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اسی طرح فاسفیٹ اور دیگر زرعی اجزا بھی توانائی کی قیمتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب گیس اور تیل مہنگے ہوتے ہیں تو زرعی پیداوار کا پورا ڈھانچہ متاثر ہونے لگتا ہے۔ اس کا اثر براہِ راست زرعی معیشت پر پڑ تاہے۔ آنے والے مہینوں میں خوراک کی قیمتوں پریہ اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لئے صورتحال زیادہ پیچیدہ اس لئے ہے کیونکہ یہاں زراعت کا انحصار بھی توانائی پر ہے۔ ٹیوب ویل، ڈیزل انجن، کھاد اور ٹرانسپورٹ……. سب عالمی توانائی قیمتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لئے بیرونی جھٹکا براہِ راست زرعی نظام کو متاثر کرتا ہے
خوراک کا بحران صرف پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ تقسیم اور ذخیرہ کاری کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر ذخیرہ کاری کے نظام کمزور ہوں، کولڈ اسٹوریج ناکافی ہو اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو خوراک ضائع ہوتی ہے اور مہنگی بھی ہو جاتی ہے جس سے شہری اور دیہی دونوں آبادیاں متاثر ہوتی ہیں لیکن سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہوتا ہے جس کی آمدن پہلے ہی محدود ہوتی ہے۔
ایسے حالات میں غذائی تحفظ زرعی پالیسی سے بڑھ کر بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن جاتا ہے کیونکہ جب خوراک مہنگی ہوتی ہے تو معیشت کے ساتھ ساتھ سماجی استحکام بھی متاثر ہوتا چلا جاتاہے۔
توانائی اس پورے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل میں تاخیر، شپنگ کے اخراجات اور انشورنس پریمیم میں اضافہ جیسے عوامل توانائی کو مہنگا کردیتے ہیں اور یہی مہنگی توانائی خوراک تک پہنچتی ہے۔
پاکستان میں توانائی کا بحران صرف قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ساختی مسئلہ بھی ہے۔ بجلی کی پیداوار کے ایک بڑے حصہ کا انحصار چونکہ درآمدی ایندھن پر ہے اسلئے جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان میں بجلی مہنگی ہو جاتی ہے۔ صنعتی پیداوارمتاثر ہونے لگتی ہے جنانچہ صنعت مہنگی پیداوار کے باعث یا تو قیمتیں بڑھاتی ہے یا پیداوار کم کرتی ہے۔دونوں صورتوں میں معیشت دباؤ میں آتی ہے۔ پیداوار کم ہو تو روزگار متاثر ہوتا ہے اور قیمتیں بڑھیں تو مہنگائی بڑھتی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو خود کو بار بار دہراتا ہے۔
یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا معاشی ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں ہر بیرونی جھٹکا داخلی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی ساختی کمزوری پاکستان کو بار بار متاثر کرتی ہے۔خوراک اور توانائی کے اس بحران کے درمیان ایک اور اہم پہلو سماجی دباؤ ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے کم آمدنی والے طبقے متاثر ہوتے ہیں ان کے بجٹ میں خوراک اور توانائی کا حصہ پہلے ہی زیادہ ہوتا ہے اس لئے معمولی اضافہ بھی ان کے لئے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے
à گھر کے فیصلے بدلنے لگتے ہیں، اخراجات محدود کرنا پڑتے ہیں اور بعض اوقات بنیادی ضروریات بھی متاثر ہونے لگتی ہیں۔یہ صورتحال صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ دیہی علاقوں میں بھی اثر ڈالتی ہے۔ خوراک پیدا کرنے والا کسان بھی مہنگی خوراک خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا تضاد پیدا ہوتا ہے جہاں خوراک پیدا کرنے والا خود خوراک کے دباؤ میں آ جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورتحال صرف پاکستان تک محدود ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک اسی قسم کے دباؤ کا شکار ہیں۔ فرق صرف شدت کا ہے۔کچھ ممالک کے پاس تیل کے ذخائر ہیں، کچھ کے پاس مضبوط برآمدی صنعتیں ہیں اور کچھ کے پاس بڑی مالیاتی منڈیاں
à لیکن پاکستان جیسے ممالک کے پاس یہ سہارا محدود ہے۔
توانائی کا بحران اس وقت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ساختی مسئلہ بن چکا ہے۔ یعنی یہ معیشت کے بنیادی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے۔اگر توانائی مہنگی ہو تو پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے، اگر پیداوار مہنگی ہو تو برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور اگر برآمدات متاثر ہوں تو زرمبادلہ کم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک مکمل سلسلہ ہے جو ایک نقطے سے شروع ہو کر پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔اس پورے عمل میں سب سے زیادہ دباؤ عام آدمی پر پڑتا ہے کیونکہ مہنگائی صرف ایک عدد نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا تجربہ ہے۔
خوراک، کرایہ، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ
àیہ سب ایک ہی زنجیر کے مختلف حلقے ہیں۔پاکستان کی موجودہ معاشی حالت اگرچہ مکمل بحران نہیں ہے لیکن یہ ایک نازک توازن پر کھڑی ہے۔ تھوڑا سا بیرونی دباؤ بھی اسے عدم استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ پالیسی سازی میں اب وقتی اقدامات کافی نہیں رہے۔ سبسڈی دینا یا قیمتوں کو عارضی طور پر کنٹرول کرنا مسئلے کا حل نہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ معیشت کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ بیرونی جھٹکوں کو جذب کر سکے۔یہیں سے’’معاشی لچک‘‘ (Economic resilience) کا تصور سامنے آتا ہے۔
لچک کا مطلب صرف بچاؤ نہیں بلکہ خود کو اس قابل بنانا ہے کہ بحران کے باوجود نظام چلتا رہے۔پاکستان کےلئے یہ لچک تین بڑے شعبوں سے جڑی ہے:
1 ۔ توانائی
2 ۔ مالیاتی نظم
3 ۔ بیرونی انحصار
توانائی کے شعبے میں سب سے بڑا مسئلہ درآمدی ایندھن پر انحصار ہے۔ جب تک یہ انحصار کم نہیں ہوگا ہر عالمی جھٹکا پاکستان کو متاثر کرتا رہے گا۔اسی طرح مالیاتی نظم میں سبسڈی کا بے قابو استعمال معیشت کو کمزور کرتا ہے۔ ہدفی امداد ایک بہتر راستہ ہے لیکن اس کے لئے ڈیٹا اور انتظامی صلاحیت کی ضرورت ہے۔تیسرا پہلو بیرونی انحصار ہے جہاں ترسیلاتِ زر، قرض اور درآمدات ایک پیچیدہ جال بناتے ہیں۔یہ تینوں عناصر مل کر پاکستان کی معاشی سمت کا تعین کرتے ہیں۔
دنیا اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں استحکام مستقل نہیں رہا بلکہ مشروط ہو گیا ہے اور اسی مشروط استحکام کے دور میں پاکستان جیسے ممالک کےلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ہر بحران کو وقتی طور پر نہیں بلکہ ساختی سطح پر حل کریں۔
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے یہی ثابت کیا ہے کہ جنگ اب ایک’’ملٹی لیئر فنانشل شاک‘‘ بن چکی ہے جو بیک وقت کئی سطحوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پاکستان کی معاشی اور توانائی سے متعلق کمزوریاں ہر عالمی جھٹکے کو زیادہ شدید بنا دیتی ہیں۔
ان حالات میںسبسڈی بظاہر ایک آسان حل لگتی ہے مگر درحقیقت یہ ایک پیچیدہ معاشی فیصلہ ہے۔ جب حکومت ایندھن پر سبسڈی دیتی ہے تو وہ وقتی طور پر عوام کو ریلیف دیتی ہے مگر ساتھ ہی مالی خسارہ بڑھا دیتی ہے۔کمزور معیشتوں کےلئے یہ راستہ محدود ہوتا ہے۔ اس لئے زیادہ تر ممالک قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق رکھتے ہیں اور صرف کمزور طبقوں کو ہدفی ریلیف دیتے ہیں۔ پاکستان بھی اسی پالیسی کو زیادہ پائیدارسمجھتا ہے۔سبسڈیز، ٹیکس میں کمی اور طلب میں کمی جیسے اقدامات طویل عرصے تک قیمتوں کے جھٹکے جذب نہیں کرسکتے ۔ جلد یا بدیر اس بوجھ کو منتقل کرنا پڑتا ہے، چاہے یہ سیاسی طور پر کتنا ہی غیر مقبول ہی کیوں نہ ہو۔ اگرچہ سبسڈی جیسے قلیل مدتی اقدامات وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں لیکن پائیدار حل توانائی کے ذرائع میں تنوع، درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، مؤثر ذخیرہ کاری، مضبوط سماجی تحفظ اور معاشی اصلاحات میں پوشیدہ ہے۔
یہ پورا بحران ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ جب تک کسی ملک کا انحصار درآمدی ایندھن پر رہے گا وہ عالمی جھٹکوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر شمسی توانائی، کو ایک متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پاکستان کےلئے یہ راستہ نہ صرف معاشی ضرورت ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔ اگر گھریلو اور صنعتی سطح پر شمسی توانائی کو فروغ دیا جائے تو درآمدی بل کم ہو سکتا ہے اور توانائی کا دباؤ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ذخیرہ کاری، جدید گرڈ سسٹم، اور توانائی کے مؤثر استعمال کی ثقافت بھی ضروری ہے کیونکہ صرف پیداوار بڑھانا کافی نہیں، استعمال کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔
خوراک کے نظام میں بھی اسی نوعیت کی اصلاحات درکار ہیں۔ جدید آبپاشی، بہتر بیج، کولڈ اسٹوریج، اور مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار جیسے اقدامات اس نظام کو زیادہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔
یہ تمام اقدامات مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دے سکتے ہیں جو بیرونی جھٹکوں کو بہتر انداز میں جذب کر سکے۔ یہ حقیقت بھی سب پر آشکار ہو چکی ہے کہ جدید دنیا میں کوئی ملک تنہا نہیں۔ معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، توانائی کی منڈیاں عالمی ہیں اور خوراک کا نظام سرحدوں سے آزاد ہو چکا ہے۔اسی لئے کسی ایک خطے کی جنگ اب صرف اس خطے تک محدود نہیں رہتی۔ وہ آہستہ آہستہ دنیا کے ہر گھر تک پہنچتی ہے
àکبھی تیل کی قیمت کی صورت میں، کبھی بجلی کے بل کی صورت میں اور کبھی آٹے اور چینی کی قیمت کی صورت میں
àیہی وہ نکتہ ہے جہاں جنگ کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ جنگ صرف محاذوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ وہ بازاروں، کھیتوں اور گھروں کے دسترخوان پر بھی محسوس کی جاتی ہے۔ یہی اس پورے بحران کا سب سے بڑا سبق ہے کہ معاشی تحفظ، توانائی کا استحکام اور غذائی خود کفالت ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔
پاکستان کو ایک طرف سفارتی سطح پر امن اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کا حصہ تو ضرور بننا چاہئے لیکن دوسری طرف اسے داخلی سطح پر اپنی معاشی اور توانائی کی بنیادوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ قومی لچک اور خود انحصاری محض نعرے نہیں بلکہ ایسی ناگزیر حکمتِ عملیاں ہیں جو ملک کو مستقبل کے بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور مستحکم بنا سکتی ہیں۔
بظاہر مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی جنگ اور پاکستان کے ایک عام گھر کے دسترخوان کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہے لیکن حقیقت میں یہ فاصلہ بہت کم ہے۔ جدید دنیا میں خوراک، توانائی اور معیشت ایک دوسرے سے اس قدر جڑی ہوئی ہیں کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران جلد یا بدیر دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔
پاکستان اس وقت مالی گنجائش کی شدید کمی، محدود زرمبادلہ ذخائر اور آئی ایم ایف پروگرام کے باعث ایک نہایت محدود ’’پالیسی اسپیس‘‘ میں کام کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں مکمل سبسڈی دینا نہ صرف مالی نظم و ضبط کو متاثر کرے گا بلکہ مجموعی معاشی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں سب سے اہم اصلاح یہ ہے کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جائے۔ شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع پاکستان کے لئے ایک عملی حل فراہم کرتے ہیں۔ اگر اس شعبے کو منظم منصوبہ بندی کے ساتھ فروغ دیا جائے تو نہ صرف درآمدی بل کم ہو سکتا ہے بلکہ توانائی کا نظام زیادہ مستحکم بھی ہو سکتا ہے۔
فوڈ سکیورٹی کےلئے زرعی نظام کو توانائی سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ جدید آبپاشی، بہتر ذخیرہ کاری اور مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار جیسے اقدامات اس نظام کو زیادہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر عالمی غیر یقینی صورتحال اب ایک مستقل خصوصیت بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی ملک صرف وقتی اقدامات کے ذریعے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ نے یہ حقیقت پوری شدت سے واضح کر دی ہے کہ جدید دنیا میں جنگیں صرف جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سپلائی چینز کے ذریعے ہر گھر، ہر بازار اور ہر دسترخوان تک پہنچتی ہیں۔ ایک خطے کی کشیدگی چند ہی لمحوں میں تیل کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، خوراک کی لاگت اور مہنگائی کی شکل اختیار کر کے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر دیتی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کےلئے یہ اثرات اور بھی شدید ہیں کیونکہ ان کی معیشت پہلے ہی درآمدی توانائی، بیرونی ترسیلات اور محدود مالی گنجائش پر انحصار کرتی ہے۔ یوں عالمی بحران براہِ راست داخلی معاشی دباؤ بن چکا ہے جس کا بوجھ بالآخر عام شہری کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔پاکستان کےلئے اصل چیلنج یہ ہے کہ ایک ایسا معاشی اور توانائی ڈھانچہ بنایا جائے جو بار بار آنے والے جھٹکوں کو جذب کر سکے وقتی اقدامات اور عارضی ریلیف کسی بھی صورت میں کافی نہیں۔ اصل ضرورت ایک ایسے مضبوط اور متنوع معاشی ڈھانچے کی ہے جو بیرونی جھٹکوں کو جذب کر سکے۔ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری، قابلِ تجدید ذرائع کا فروغ، زرعی نظام کی جدید کاری اور مؤثر مالی نظم و نسق ہی وہ راستے ہیں جو پاکستان کو زیادہ مستحکم بنا سکتے ہیں۔
یاد رکھیں
! جنگ کا بوجھ میدانِ جنگ نہیں اُٹھاتا بلکہ یہ بوجھ خاموشی سے دسترخوان تک پہنچتا ہے اور دسترخوان کی حفاظت ہی آج کے دور میں حقیقی معاشی اور قومی سلامتی کا تقاضا ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit