قیاس، خواہش اور حقیقت کے درمیان-11491-News

قیاس، خواہش اور حقیقت کے درمیان-11491-News-SDPI

SDPI twitter

Blogs


قیاس، خواہش اور حقیقت کے درمیان

جانے اخبارات کے ’’معتبر ذرائع‘‘ کہاں گئے، ’’باخبر ذرائع‘‘ کو کیا ہوا اور ’’قابلِ اعتماد ذرائع‘‘ کو کس کی نظر لگ گئی؟ سالوں گزر گئے، ان ذرائع کے حوالے سے کوئی خبر نظر سے نہیں گزری۔ یوں لگتا ہے کہ معتبر ذرائع اب معتبر نہیں رہے، باخبر ذرائع کی باخبری بے خبری میں بدل گئی ہے اور قابلِ اعتماد ذرائع پر بداعتمادی سایہ فگن ہے۔
جب میں نے صحافت شروع کی تھی تو ان دنوں اہم خبر کی ابتدا عموماً ایک بڑے پُراعتماد جملے سے ہوتی تھی ’’باخبر ذرائع کے مطابق‘‘۔ قاری کی نظر اس جملے پر پڑتے ہی کچھ مطمئن ہوجاتا کہ یہ محض افواہ نہیں۔۔۔ باخبر ذرائع کون تھے، یہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا۔ نام سامنے نہ آنے کی وجہ سے ذریعہ بھی محفوظ رہتا اور خبر بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ شائع ہوجاتی۔ صحافت میں ’’باخبر ذرائع‘‘ خبر کے معتبر ہونے کی سند سمجھے جاتے تھے۔ کم از کم اس زمانے میں یہ احساس ضرور موجود تھا کہ خبر کو خبر ہی رہنا چاہئے کیونکہ اس وقت ہدایت کار صرف فلموں اور ڈراموں کے ہوتے تھے ۔
اب حال یہ ہے کہ خبر دینے والے کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جس خبر کا ذریعہ بن رہا ہے وہ واقعی خبر ہے یا محض کسی کی خواہش، قیاس یا خواب!
پیٹرول کی قیمت سے متعلق خبریں اکثر سرکاری اعلان سے پہلے ہی میڈیا پر گردش کرنے لگتی ہیں۔ کوئی ’’ذرائع‘‘ کے حوالے سے قیمت میں اضافے کا دعویٰ کرتا ہے، کوئی کمی کی خبر دیتا ہے اور کچھ ہی دیر میں قیاس آرائی خبر کا روپ دھار لیتی ہے۔ لوگ گھبرا کر ہنگامی خریداری شروع کردیتے ہیں، پٹرول پمپوں پر لمبی لائنیں لگ جاتی ہیں اور سرکاری اعلان ہونے تک افواہ اپنا اثر دکھا چکی ہوتی ہے۔
الیکٹرانک میڈیا آیا تو خبر کے ساتھ ’’ویورشپ‘‘ بھی آگئی۔ اصل سوال یہ بن گیا کہ خبر پہلے کس نے دی اور کتنے لوگوں نے دیکھی؟ یوں ’’سب سے پہلے‘‘ کی دوڑ نے ’’خبر کی درستگی‘‘ کی شرط کو پیچھے چھوڑ دیا۔ خبر کی رفتار بڑھتی گئی اور تصدیق کہیں دور رہ گئی۔ اب خبر درست ثابت ہو یا غلط۔۔۔بس اتنا کافی ہے کہ وہ سب سے پہلے اسکرین پر نمودار ہوگئی۔
پھر سوشل میڈیا کا دور شروع ہوا تو رپورٹر، دفتر، ایڈیٹر اور تصدیق کا جھنجھٹ ہی جاتا رہا۔ ایک موبائل فون، تھوڑی سی قیاس آرائی، دو چار مشکل الفاظ اور یوٹیوب یا ایکس پر ’’اہم خبر‘‘ کے’’ تھم نیل ‘‘ سے کام چلا یاگیا۔۔ باقی کسرسنسنی خیزی، جلد بازی اور تصدیق سے بے نیازی نے پوری کردی۔ اب تو چینلوں پر روز دکھائی دینے والے بڑے اینکرز بھی سوشل میڈیا پر بیٹھ گئے ہیں۔
خبر خود پیدا ہوتی ہے، خود چلتی ہے، خود پھیلتی ہے۔۔۔ اور کبھی کبھی اتنی تیزی سے پھیلتی ہے کہ حقیقت کو پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ سوشل میڈیا پر ہر شخص خود ہی اخبار، خود ہی چینل اور خود ہی اینکر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اخبار کا ایڈیٹر رپورٹر سے پوچھتا تھا: ’’ثبوت کہاں ہے؟ دلیل کیا ہے؟‘‘ آج خبر کا وائرل ہونا ہی اکثر اس کی سب سے بڑی دلیل سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر خبر وائرل ہوگئی تو ثبوت کی ضرورت ہی کیا ہے!
یقین سے تو نہیں کہا جاسکتا، مگر سمجھا ضرور جاسکتا ہے کہ ہم پاکستانیوں کو ہمارے اندازے ہی لے ڈوبے ہیں۔ ہماری بیشتر معلومات حقائق سے کم اور قیاس، قیافے، خوش فہمی، خوف اور خواہش سے زیادہ جنم لیتی ہیں۔ ہم پہلے نتیجہ نکالتے ہیں، پھر اس کے حق میں دلیل تلاش کرتے ہیں۔
سنجیدہ تجزیے اور خواہش میں ایک باریک سا فرق ہے۔ خواہش یہ ہے کہ ہم کہیں: ’’ایسا ہونا چاہیے۔‘‘ تجزیہ یہ ہے کہ پوچھیں: ’’ایسا کیسے ہوگا؟‘‘ مگر ہم نے دونوں کو ایک ہی چیز سمجھ لیا ہے۔ جو ہمیں اچھا لگتا ہے، اسے ہم امکان سمجھ لیتے ہیں اور جس کی ہمیں خواہش ہوتی ہے، اسے مستقبل کا نقشہ بنا کر پیش کردیتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں خبر، تجزیے اور افواہ کی حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر کسی کی خواہش کو خبر بنا دینا صحافتی ہی نہیں، اخلاقی طور پر بھی غیر ذمہ داری ہے۔ خبر دینے والے اور اسے سننے، پڑھنے یا دیکھنے والوں، سب کو یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ اطلاع کیا ہے، تجزیہ کیا ہے، قیاس کیا ہے اور افواہ کیا ہے۔ امکان اور خواب میں امتیاز کیے بغیر ’’ذرائع‘‘ اور ’’ذمہ داری‘‘ کا تعلق بھی سمجھ میں نہیں آسکتا۔
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو بولنے کا حق تو دے دیا، مگر درست بولنے کی ذمہ داری نہیں دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معلومات کی کثرت میں حقیقت دب گئی۔ پہلے معلومات کم ہوتی تھیں، مگر ان کی چھان بین کا ایک نظام تھا۔ اب معلومات اتنی زیادہ ہیں کہ سچ کو قطار میں دور کہیں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ رائے کو خبر، خواہش کو تجزیہ، قیاس کو اطلاع اور افواہ کو حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔
ہر مسئلے کا حل صرف قانون نہیں ہوتا۔ صحافت کی اصل طاقت خود احتسابی، تصدیق اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ خبر کی سچائی کا پہلا محافظ خود صحافی، ایڈیٹر اور ادارہ ہونا چاہئے۔ صحافتی تنظیموں کی ذمہ داری بھی صرف آزادی صحافت کے دفاع تک محدود نہیں؛ انہیں خبر کے معیار، پیشہ ورانہ اخلاقیات، ذرائع کی تصدیق اور غلط خبر کی بروقت تردید کے لئے مؤثر ضابطہکار اور تربیت کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ ’’معتبر ذرائع‘‘ کہاں چلے گئے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے خبر کو معتبر بنانے کا معیار کہاں کھو دیا؟
قومیں قیاس آرائیوں سے نہیں بنتیں۔ منصوبہ بندی اعداد و شمار سے ہوتی ہے، فیصلے حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور مستقبل کی سمت خواہش نہیں، حقیقت کے درست ادراک سے متعین ہوتی ہے۔
جس معاشرے میں قیاس خبر بن جائے، خواہش تجزیہ اور افواہ حقیقت کا روپ دھار لے، وہاں مسئلہ صرف غلط خبروں کا نہیں رہتا؛ فیصلے بھی غلط ہونے لگتے ہیں، ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں اور اجتماعی شعور بھی دھندلا جاتا ہے۔
ہمیں ’’معتبر ذرائع‘‘ کو ڈھونڈنے سے پہلے معتبر خبر کا معیار دوبارہ تلاش کرنا ہوگا کیونکہ خبر کی اصل ساکھ اس شخص کے نام میں نہیں جو اسے ’’ذرائع‘‘ کے حوالے سے بیان کرتا ہے بلکہ اس ثبوت، تصدیق اور حقیقت میں ہوتی ہے جس پر وہ کھڑی ہوتی ہے۔
جس دن ہم قیاس، خواہش اور حقیقت میں فرق کرنا سیکھ لیں گے، اسی دن خبر دوبارہ خبر بنے گی، رائے دوبارہ رائے رہے گی اور سچ کو وائرل ہونے کے لیے کسی ’’معتبر ذریعے‘‘ کی ضرورت نہیں پڑے گی

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit