مقامی آبادی کی شکایات کے ازالے کا نظام ناگزیر،ماہرین کا منصوبوں کی ابتدا ہی سے مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے پر زور
اسلام آباد( صباح نیوز): پاکستان میں درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے اور دور دراز علاقوں کو قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنے کےلئے ہوا، شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کو یکجا کرنے والے مقامی طور پر تیار کردہ ’’اسمارٹ ٹاور‘‘ ماڈل پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام نہ صرف دیہی آبادیوں اور چھوٹی صنعتوں کو مقامی سطح پر بجلی پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ قابلِ تجدید توانائی کے آلات کی مقامی تیاری، روزگار کے نئے مواقع اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی نے ’’پاکستان کے لئے سمارٹ ٹاور پروگرام‘‘ کے موضوع پر خصوصی لیکچر اور مشاورتی نشست کا انعقاد کیا ۔نشست میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پاکستان اپنے وسائل، مقامی صنعت اور فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بجلی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب کیسے بڑھ سکتا ہے۔مائی پلانیٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر گورڈن نے ’’اسمارٹ ٹاور‘‘ کا تصور پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس نظام میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے آلات، شمسی توانائی اور بیٹریوں میں بجلی ذخیرہ کرنے کی سہولت کو ایک ہی قابلِ توسیع ڈھانچے میں یکجا کیا گیا ہے۔ اس نظام کو ہر علاقے کی مقامی ضروریات کے مطابق چھوٹا یا بڑا کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سمارٹ ٹاور کو کسی ایک گاؤں یا مقامی آبادی کی ضروریات سے لے کر بڑے تجارتی اور صنعتی مقاصد تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی تنصیب کے ساتھ ساتھ ملک میں اس کے پرزوں کی تیاری، نظام کی تنصیب اور دیکھ بھال کی مقامی صلاحیت بھی بتدریج فروغ پا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار مقامی سطح پر چھوٹی ورکشاپس، پرزہ جات فراہم کرنے والے کاروبار، تنصیب اور دیکھ بھال کی خدمات اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔سمارٹ ٹاور کی ساخت کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر گورڈن نے بتایا کہ اس میں شمسی توانائی، عمودی محور پر چلنے والی ہوائی ٹربائنیں اور بیٹریوں میں بجلی ذخیرہ کرنے کا نظام یکجا کیا جاتا ہے۔ کسی علاقے میں ہوا کی رفتار اور دستیابی کے مطابق ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کے حصے کو کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وافر دھوپ شمسی توانائی کےلئے ایک اہم قدرتی وسیلہ ہے جبکہ موزوں علاقوں میں ہوا سے حاصل ہونے والی بجلی اس کی تکمیل کر سکتی ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ ابتدائی مرحلے میں یہ نظام ان دور دراز اور پسماندہ دیہی علاقوں میں متعارف کرایا جا سکتا ہے جہاں آج بھی قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کامیاب تجربات کے بعد اسے مختلف علاقوں میں مقامی پیداوار اور تقسیم کے مربوط نظام کے ذریعے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے ماہر اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے وابستہ عرفان احمد نے کہا کہ ہوا، شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کو مقامی صنعت سے جوڑنے کا تصور پاکستان کےلئے قابلِ غور امکانات رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے وسیع قدرتی وسائل موجود ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان کے متعدد علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کےلئے بھی موزوں حالات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے ایک گاؤں میں شمسی پینل اسمبل کرنے کے ایک منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں مقامی کارکنوں کو صرف چند ہفتوں میں مطلوبہ تربیت فراہم کر دی گئی تھی۔پائیدار توانائی کے امور پر کام کرنے والی ایس ڈی پی آئی کی ریسرچ اسسٹنٹ عائشہ نعیم نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی منصوبہ بندی کے ابتدائی مرحلے ہی سے مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لینا اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا ضروری ہے۔ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے علاقوں میں کی گئی زمینی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں سے مناسب مشاورت نہ ہونے کی صورت میں چراگاہوں، ماہی گیری اور زرعی زمینوں تک رسائی جیسے معاملات پر تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر مقامی لوگوں کو روزگار سے متعلق امیدیں دلائی جائیں اور بعد میں وہ پوری نہ ہوں تو آبادی اور منصوبہ تیار کرنے والے اداروں کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔اختتامی گفتگو میں ڈاکٹر گورڈن نے کہا کہ اس مجوزہ نظام کا فوری مقصد صرف بڑے صنعتی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنا نہیں بلکہ مقامی آبادیوں اور چھوٹے کاروباروں کو توانائی کے معاملے میں مضبوط اور خود کفیل بنانا بھی ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ’’اسمارٹ ٹاور‘‘ کا تصور کو پاکستان کے مختلف علاقوں کی زمینی حقیقتوں، مقامی آبادیوں کی ضروریات اور مناسب تکنیکی و معاشی جائزے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ دور دراز علاقوں تک قابلِ اعتماد اور صاف توانائی پہنچانے کے ساتھ ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی مقامی صنعت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit