اسلام آباد(صباح نیوز) پالیسی تحقیق کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، ادارہ جاتی استعداد بڑھانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے مصنوعی ذہانت سے مؤثر استفادے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) اور اسلام آباد اے آئی کے درمیان تین سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد تحقیق، پالیسی سازی، ادارہ جاتی امور اور ترقیاتی پروگراموں میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کے تجزیے کو ذمہ دارانہ اور عملی انداز میں بروئے کار لانا ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر منعقدہ آن لائن تقریب میں ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اور اسلام آباد اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر مستنصر علی غضنفر نے دستخط کئے ڈاکٹر غضنفر یونیورسٹی آف ایسٹ لندن میں مصنوعی ذہانت کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ہماری پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ پالیسی تحقیق کے اداروں کے لئے اس کی افادیت محض معلومات حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ تجزیے کی رفتار بڑھانے، حقائق و اعدادوشمار جمع کرنے، متعلقہ علمی وسائل تک رسائی اور مؤثر پالیسی سفارشات مرتب کرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ محققین کو مصنوعی ذہانت کو محض ایک ایسا آلہ نہیں سمجھنا چاہئے جو دی گئی ہدایات کے جواب میں معلومات فراہم کر دے۔ اس کے بجائے انہیں سوالات مرتب کرنے اور ہدایات دینے کا طریقہ بہتر بنانا چاہئے تاکہ مصنوعی ذہانت تحقیق کے بنیادی سوالات کو مزید واضح کرنے، معلومات کی جانچ پڑتال اور شواہد کی بنیاد پر تجزیہ و نتائج اخذ کرنے میں معاون ثابت ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر غضنفر نے ایس ڈی پی آئی کے محققین کو مصنوعی ذہانت کے آلات تیار کرنے اور انہیں مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے حوالے سے معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر مستنصر علی غضنفر نے اسلام آباد اے آئی کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک نیا تحقیقی ادارہ ہے، جس کے ارکان امریکا، برطانیہ اوری پاکستان میں موجود ہیں۔ ادارے کی تحقیق کے بنیادی موضوعات میں مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال اور اس کی حکمرانی، معیشت پر مصنوعی ذہانت کے اثرات، ہنرمندی اور تعلیم، نیز مالیاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کے ساتھ یہ شراکت داری مفاہمتی یادداشت کی طے شدہ حدود سے آگے بڑھ کر مشترکہ تحقیق، پالیسی مکالمے اور شواہد و تحقیقی نتائج کے تبادلے کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ اس تعاون کے ذریعے مصنوعی ذہانت سے متعلق علم، تجربات اور عملی مہارتوں کو فروغ دینے کے ساتھ پالیسی سازی کے عمل کو بھی زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں ادارے ایس ڈی پی آئی کے انتظامی، تحقیقی اور ترقیاتی پروگراموں میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، ڈیٹا کے تجزیے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی پر کام کریں گے۔ اس کا مقصد ادارے کے روزمرہ امور کو بہتر بنانا، کام کے طریقۂ کار کو مؤثر بنانا اور تحقیق و ترقیاتی سرگرمیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات کو عملی شکل دینا ہے۔
تعاون کے اہم شعبوں میں ادارے کے انتظامی طریقۂ کار، دفتری کارروائیوں اور پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بہتری لانا، پالیسی سازی کے لیے شواہد جمع کرنا، ڈیٹا کا تجزیہ و تشریح کرنا اور نتائج کو بصری انداز میں پیش کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تحقیق، منصوبہ بندی، منصوبوں کے انتظام، نگرانی، جائزے، رپورٹنگ اور تحقیق و سیکھنے کے عمل میں بھی مصنوعی ذہانت سے استفادہ کیا جائے گا۔معاہدے کے تحت مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی آلات، ڈیش بورڈز اور فیصلہ سازی میں معاون نظام تیار کرنے کے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے، تاکہ محققین اور ادارہ جاتی ذمہ داران کو بروقت اور مستند معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد مل سکے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit