پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کی کامیابی بروقت مالی معاونت، مؤثر منصوبہ بندی اور صوبائی سطح پر ان پر عملدرآمد کی صلاحیت پر منحصر ہے، ماہرین-11650-News

پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کی کامیابی بروقت مالی معاونت، مؤثر منصوبہ بندی اور صوبائی سطح پر ان پر عملدرآمد کی صلاحیت پر منحصر ہے، ماہرین-11650-News-SDPI

SDPI twitter

Urdu News


پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کی کامیابی بروقت مالی معاونت، مؤثر منصوبہ بندی اور صوبائی سطح پر ان پر عملدرآمد کی صلاحیت پر منحصر ہے، ماہرین

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 اکتوبر2026ء) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کی کامیابی محض عالمی وعدوں پر نہیں بلکہ بروقت مالی معاونت، مؤثر منصوبہ بندی اور صوبائی سطح پر ان پر عملدرآمد کی صلاحیت پر منحصر ہے۔انہوں نے زور دیا کہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں پاکستان عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں قرضوں کے بجائے امدادی رقوم، جامع ترقیاتی پروگراموں کے لئے مالی وسائل اور بین الاقوامی فنڈز تک آسان رسائی کا مطالبہ کرے۔یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (پی آر ای سی) کے زیرِ اہتمام ’’COP-31 میں پاکستان کی ماحولیاتی ترجیحات کی مالی معاونت‘‘ کے موضوع پر آن لائن مذاکرے میں کہی گئی ۔

ایس ڈی پی آئی کی سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ صالحہ قریشی نے کہا کہ پاکستان کے قومی ماحولیاتی عہد (این ڈی سی 3.0) کے تحت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد کمی کے ہدف میں سے 33 فیصد پوائنٹس کا انحصار بین الاقوامی مالی معاونت پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے عملی اقدامات کا اعتراف، قرضوں کے بجائے گرانٹس، مزید جائزوں کے بجائے حقیقی سرمایہ کاری اور ایسی تجارتی پابندیوں سے تحفظ حاصل کرنے پر زور دینا چاہئے جو ترقی پذیر ممالک کی ترقی متاثر کریں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 2035 تک توانائی میں قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ 60 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے لئے بجلی کی ترسیل کے نظام اور توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولتوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔سینئر ایسوسی ایٹ برائے قابلِ تجدید توانائی ٹیکنالوجیز اور پی آر ای سی کے سربراہ رابطہ کار ڈاکٹر اومیس عبدالرحمان نے ایس ڈی پی آئی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ زینب بابر کی جانب سے پاکستان کی ماحولیاتی مالیاتی ترجیحات پیش کیں۔ زینب بابر اس مقالے کی مصنفہ ہیں تاہم وہ اجلاس میں شریک نہیں ہو سکیں۔ ڈاکٹر اومیس عبدالرحمان نے کہا کہ ماحولیاتی معاونت انفرادی منصوبوں کے بجائے جامع پروگراموں کےلئے فراہم کی جائے اور پاکستان کو عالمی فنڈز تک براہِ راست رسائی دی جائے۔انہوں نے قرضوں کی پائیداری، شفاف طریقے سے رقوم کی تقسیم اور عالمی مذاکرات میں واضح شرائط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ عالمی اقتصادی فورم سے وابستہ محمد حسن دجانہ نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں سرکاری ماحولیاتی مالی معاونت کا بڑا حصہ قرضوں پر مشتمل رہا۔ انہوں نے موجودہ منصوبوں کے نتائج سامنے لانے، ماہرین کی استعداد بڑھانے اور ضروریات کے مطابق مالی ذرائع منتخب کرنے کی تجویز دی۔آئی سکوپ کے فیضان علی شاہ نے بتایا کہ بجلی کے ترسیلی نظام کی توسیع کے لئے سات سے دس سال میں تقریباً تین کھرب روپے درکار ہوں گے جبکہ رواں سال پاور ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام میں تقریباً 88 ارب روپے مختص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر میں قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بجلی کے نرخوں کے ذریعے صارفین پر پڑتا ہے۔ انہوں نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تحت خصوصی شعبہ قائم کرنے اور گرانٹس کے حصول کے لئے تکنیکی صلاحیت بڑھانے کی تجویز دی۔کلائمیٹ ریسورسنگ کوآرڈی نیشن سینٹر کے سہیل ملک نے کہا کہ 2022 میں ماحولیاتی مالی معاونت کا 69 فیصد قرضوں کی صورت میں تھا۔ انہوں نے خطرات کی بنیاد پر ترجیحات طے کرنے، فزیبلٹی اور منصوبہ بندی کےلئے مالی وسائل دینے، مالی معاونین سے بروقت رابطے اور منظوری سے پہلے عمل درآمد کا نظام تیار کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کوپ 31 میں صوبائی ترجیحات پر مبنی قابلِ عمل منصوبوں کی فہرست پیش کرنی چاہئے اور گرین کلائمیٹ فنڈ اور ایڈاپٹیشن فنڈ سے مالی معاونت اور تکنیکی مدد کے حصول کو یقینی بنانا چاہئے۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit