حکومت ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والی آبادی کے مسائل سے آگاہ ہے-2412-News

حکومت ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والی آبادی کے مسائل سے آگاہ ہے-2412-News-SDPI

SDPI twitter

COVID-19 News


حکومت ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والی آبادی کے مسائل سے آگاہ ہے

اسلام آباد(نوائے وقت نیوز)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلیاں کی چیئرپرسن منزہ حسن نے کہا ہے کہ حکومت ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والی آبادی کے مسائل سے آگاہ ہے اور انہیں حل کرنے کی کاوشوں میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے بلین ٹری سونامی جیسے منصوبے کورونا وبا کے دوران روزگار کے مواقع مہیا کر رہی ہے جس سے خواتین بھی مستفید ہو رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)کے زیر اہتمام صنف اور ماحولیاتی تبدیلیاں، ورونا وبا کے دوران ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے ہونے والی نقل مکانی کے چیلنجز کے زیر عنوان آن لائن مکالمے کے دوران اپنی گفتگو میں کیا۔ منزہ حسن نے کہا کہ وبا سے صرف خواتین نہیں بلکہ پورے خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آبادی کے بڑے حصے جس میں نقل مکانی کرنے والا طبقہ شامل ہے، کی معاونت کے لیے کئی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین سٹمولس پیکیج کے ذریعے بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ عورتوں کے وراثت میں حق کے قانون کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہاس سے عورتوں کی خود مختاری کا مقصد حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ ایکشن ایڈ دسے تعلق رکھنے والے ماہر ہرجیت سنگھنے معاملے کا عالمی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال 2019کے دوران دنیا بھر میں 33.4ملیں افراد کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے نتیجے میں نقل مکانی کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کی صورت میں عورتیں، بچے، بزرگ ا معذور افراد اور غریب ترین لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان حالات میں عورتوں کو تحفظ اور سلامتی کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے تدارک کے لیے پالیسیاں بنائی جانی چاہئیں۔ سینٹر فار پا ر ٹیسپیٹری ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (سی پی آر ڈی)، بنگلہ دیش کے چیف ایگزیکٹو محمد شمس الضحی نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگ کورونا وبا سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طبقے کو عارضی بے روزگاری کی جس صوتحال کا سامنا ہے، اس کے نتیجے میں ان کے سماجی و مراشی مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال میں عورتوں کے انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ ایسوسی ایٹ کاشف مجید سالک نے نقل مکانی کی صورت میں پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں ان پر کام کے بوجھ میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات کے بدترین اثرات عورتوں کی صحت پر مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ان کی خوراک، پانی اور صحت کی سہولتوں تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ قبل ازیں ایس ڈی پی آئی کی مریم شبیرنے موضوع کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا نے آبادی کے اس مخصوص حصے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit