اصلاحات اور بہتر سہولتوں کی بدولت مقامی اور بین الاقوامی سطح پر موجود مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا، ماہرین
اسلام آباد ( ) پاکستان میں ای۔کامرس کے فروٖ غ کی وسیع گنجائش موجود ہے تا اہم اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کی ضروری اصلاحات اور سہولتوں کی بہم رسانی پر توجہ دینی ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار نجی و سرکاری شعبے اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ’ای کامرس۔امکانات اور سہولت رسانی‘ کے زیر عنوان آن لائن مکالمے کے دوران موضوع کے مختلف پہلوؤں کو اجا گر کرتے ہوئے کیا۔
یو ایس ایڈ کی معاونت سے چلنے والے پروگرام پاکستان ریجنل اکنامک انٹگریشن ایکٹوٹی کی چیف آف پارٹی حسن بانو برکی نے اس موقع پر کہا کہ ای کامرس پالیسی پر عملدرآمد کی بدولت پاکستانی مارکیٹ مقامی اور بین الاقوامی کے لیے دستیاب ڈیجیٹل مواقع سے مستفید ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں نجی۔ سرکاری مکالمے کو تقویت دینے کی ضرورت ہے تاکہ ای کامرس سے متعلق اصلاحات کے ضمن میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
ایس ڈی پی آئی کے جائینٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان کی ای۔کامرس کی صنعت نے 90%ترقی کی تا ہم اپنی ہم عصر معیشتوں کی مقابلے میں یہ رفتار کمتر رہی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے نتیجے میں ای۔کامرس سے وابستہ کاروبار وں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں تا ہم ان سے مستفید ہونے کے لیے مناسب پالیسیاں درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن ادائیگیوں کے حوالے سے بھروسے کے مسائل اب بھی دیکھنے میں آتے ہیں جن پر توجہ دینے اور ٹیکسوں کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
وزارت تجارت کی جائینٹ سیکرٹری عائشہ موریانی نے شرکاء کو بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ای۔کامرس پالیسی کی منظوری دے دی ہے اور وزارت تجارت متعلقہ حلقوں ے ساتھ مل کر پالیسی پر بہتر عمل درآمد کے لیے مشاورت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کا مقصد ای۔کامرس سے وابستہ کاروباروں کی کام کرنے کی لاگت میں کمی لانا ہے۔
عالمی بینک سے تعلق رکھنے والے سینئر معیشت دان گونزالہ ولیرا کا کہنا تھا کہ عالمی بینک ای۔ کامرس کے حوالے سے اصلاحات کے لیے وزارت تجارت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیت کی کمتر دستیابی، ای۔ کامرس کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے افنان خان نے کہا کہان کا ادارہ تجارتی سہلوت کے معہادے کے تحت نیشنل سنگل ونڈو کی یقین دہانی پر عمل درآمد کے لیے کوشاں ہے۔
آن لائن مکالمے کے دوران اسفندیار فرخی، ذیشان شاہد، پرویز افتخار، عامر ابراہیم، بدر خوشنود، سید جنید امام، افتخار قطب اور مونا محفوظنے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے ای۔ کامرس کے امکانات اور چیلینجز کی مختلف تفصیلات اور جزئیات کو اجا گر کیا۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit