بلوچستان میں قابل تجدید توانائی کی استعداد سے بھرپورپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، غوث بخش مری-4287-News

بلوچستان میں قابل تجدید توانائی کی استعداد سے بھرپورپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، غوث بخش مری-4287-News-SDPI

SDPI twitter

News


بلوچستان میں قابل تجدید توانائی کی استعداد سے بھرپورپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، غوث بخش مری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 مئی2021ء) چیف اکانومسٹ منصوبہ بندی و ترقی بلوچستان غوث بخش مری نے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں قابل تجدید تونائی کو ترقی دینے کی غیر معمولی گنجائش موجود ہے تاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے مختلف حکومتی محکموں کے درمیان روابط کار کی صورت حال میں بہتری انے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سیکورٹی کی صورت حال میں بہتری سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے دور کر سکتی ہے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے بلوچستان میں پائیدار ترقی اور شفاف توانائی کے امکانات کے موضوع پر منعقدہ مکالمے کے دوران اپنے گفتگو میں کیا۔بلوچستان بورڈ آف انوسٹمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے طحہ حسن صدیقی نے کہا کہ بلوچستان میں قابل تجدید توانائی کی غیر معمولی استعداد موجود ہے اور گوادر سے مکران تک کی پٹی ونڈ انرجی کے منصوبوں کے لیے انتہائی سازگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس شعبے میں براہء راست غیر ملکی سرمایہ کار ی کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔توانائی کے شعبے کی ماہر ڈاکٹر نادیہ فاروق نے نے پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے حوالے سے مجموعی امکانات کا ایک جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی تونائی کا 30%قابل تجدید توانائی پر مشتمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قابک تجدید توانائی کو ترقی دینے کے امکانات بہت زیادہ ہیں تاہم حکومت کو ترسیل کے نظام میں بہتری لانی ہو گی۔بلوچستاب یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجیئنرنگ اور مینجمنٹ سائنسز کے ڈاکٹر عبد سلام لودھی نے کہا کہ معدنیات سے لے کر سیاحت تک بلوچ تان میں غیر معمولی معاشی ترقی کے مواقع موجود ہیں اور اسی طرح متعدد علاقوں میں ونڈ انرجی پر کام کر کے قابل تجدید توانائی کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ برج فیکٹر کے ڈائریکٹر اشرف حسن رانا نے پالیسیوں کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے کہا کہڈوبے میں بنیادی ڈھانچے اور سیکورٹی کی صورت حال میں بہتری کے علاوہ گرڈز کی اپ گریڈیشن پر توجہ دی جائے۔ایس ڈی پی آئی کی ریسرچ فیلو ڈاکٹر حنا اسلم نے کہا کہ ان کے ادارے کی کوشش ہے کہ توانائی کی پیداوار اور مستقبل کی ضروریات کے ضمن میں حکومت کو شواہد جاتی بنیادوں پر فریم ورک کی تیاری میں معاونت دی جائے۔ مکالمے کے دو ران ڈاکٹر جعفر خان کاسی، ڈاکٹر احسن عباس اور ایس ڈی پی آئی کے احد نذیر نے بھی اظہار خیال کیا اور بلوچستان کی پائیدار معاشی ترقی اور قابل تجدید توانائی کے ضمن میں مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit