اسلام آباد۔12اکتوبر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی - اے پی پی۔ 12 اکتوبر2021ء) :سماجی تحفظ کے نظام کی کامیابی میں مستحق افراد کا اندراج اور اعدادوشمار کی دستیابی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔سول سوسائٹی کے ادارے سماجی تحفظ کے کامیاب ماڈل تشکیل دینے میں حکومت کی معاونت کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے منگل کو یہاں سب نیشنل گورننس پروگرام(ایس این جی)، فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس۔یو کے(ایف سی ڈی او، اورپالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے سینٹر فار ایویڈنس ایکشن ریسرچ کے زیر اشتراک ’پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام اور بہم رسانی‘ کے موضوع پر منعقدہ ویبنار کے دوران اپنی گفتگو میں کیا۔اخوت کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ کورونا وبا کے تناظر میں غربت کے پائیدار حل کی تلاش انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام آبادی تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے جس پر پورا اترنے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی اور کارپوریٹ سیکٹر کو مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے تمام معاشی شعبوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے جن سے نکلنے کے لیے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سماجی تحفظ کے تمام نظاموں کو یکجا کر کے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اعداد شمار کے حصول اور مستحق افراد کے اندراج کے ضمن میں میں سول سوسائٹی حکومتی اداروں کی استعداد کاری میں مدد دے سکتی ہے۔ پاکستان پاورٹی ایلیویئشن (پی پی اے ایف) کی گروپ ہیڈ سامیہ لیاقت علی خان نے کہا کہ ان کے ادارے نے کورونا وبا کے دوران مستحق افراد کی معاشی بحالی کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران سماجی تحفظ کے لیے اقدامات کرتے ہوئے ڈیجیٹل خواندگی اور صنفی برابری جیسے معاملات ابھر کر سامنے آئے۔ایف سی ڈی او کے سینئر سوشل ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مظہر سراج نے کہا کہ سماجی تحفظ کے باقاعدہ پروگراموں کو اس انداز سے وضع کرنا چاہئے کہ وہ بحرانی حالات میں اقدامات کا ساتھ دے سکیں۔اس ضمن میں وفاقی اور صوبائی اشتراک کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی سی ای او بینش فاطمہ ساہی نے کہا کہ کورونا وبا نے سماجی تحفظ سے متعلق حکمت علی کی کمزوریوں کو اجا گر کیا ہے جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر عالیہ ہاشمی خان نے کہا کہ غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے افراد کو سماجی تحفظ کے دائرے میں لانا بے حد اہم ہے۔ایس این جی، پنجاب کے گورننس اینڈ سوشل پروٹیکشن کے ایڈوائزر سہیل انور نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبوں اور وفاقی اکائیوں کے لیے کم از کم معیارات کا تعین کرنا چاہئے۔۔سماجی تحفظ ریفارمز یونٹ، خیبر پختونخوا کے پراجیکٹ ڈائریکٹر مشرف خان نے کہا کہ صوبائی سطح پر حکمت عملی سماجی تحفظ کے جامع نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit