اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سی پیک اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ جیسے بڑے منصوبوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے پالیسی سازوں اور تمام متعلقہ شعبوں کے درمیان بہتر تعاون کار کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام’معاشی شعبے میں کام کرنے والے تھنک ٹینکس کے اولین اجلاس‘ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کا انعقاد خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ کے اشتراک سے کیا گیا۔خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ کے سی ای او حسن داؤد بٹ نے اس موقع پر کہا کہ معاشی پالیسیوں کا تسلسل اور قومی معیشت کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی کی سطح پر ابہامات دور کرنے پر کام کے علاوہ ریسرچ پر توجہ مبذول کی جائے۔یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کے وائس چانسلر ڈاکٹر خضر الرحمان نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور چیمبرز کے درمیان تعاونمیں اضافے کی بدولت نئے معاشی مواقع تلاش کئے جائیں۔ایس ڈی پی آئی کے جائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ چارو ں صوبوں صے تعلق رکھنے والے معاشی ماہرین کا اکٹھے ہو کر درپیش معاملات پر ہونے والی یہ سیر حاصل گفتگو انتہائی اہم ثابت ہو گی۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit