اسلام آباد ( نیوز رپورٹر) ماہرین نے عالمی برادری سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجودہ انسانی بحران کے فوری حل کیلئے آگے بڑھے کیونکہ ہر گزرتے دن کیساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے اوریہ پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرناک ہے، پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام ”افغانستان کی صورتحال کے پاکستان کی سلامتی پر اثرات“ کے حوالے سے منعقدہ ویب نار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عالمی ممالک اپنے اپنے مفادات کی روشنی میں اس بات کا تعین کریں کہ مستقبل میں افغانستان کی طالبان حکومت کیساتھ کس طرح بات چیت کی جائے،افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر ایاز وزیر نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ملکی معاملات پر طالبان کی گرفت اُنکی حکمرانی کی قابلیت کو ظاہر کرتی ہے،پہلے ہمیں افغانستان میں اپنے اور پھر دوسرے ممالک کیساتھ ہم آہنگی سے علاقائی مفادات کا خیال رکھنا چاہئے،اس وقت طالبان حکومت کو درپیش بڑا مسئلہ انسانی بحران ہے ، مجھے امید ہے کہ مستقبل میں دنیا طالبان کیساتھ تعلقات کا طریقہ کار طے کرنے میں کامیاب ہو جائیگی۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ افغانستان میں انسانی بحران طول پکڑرہا ہے اور یہ صورتحال پناہ گزینوں کی آمد، خوراک کی قلت کے حوالے سے پاکستان کیلئے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔مصنف زاہد حسین نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ تبدیلی نے ایک ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس نے پوری جغرافیائی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ ہم طالبان کی سابقہ حکومت سے واقف ہیں جو کا فی متنازعہ رہی ہے تاہم موجودہ طالبان حکومت کے پاس مرکزی اختیار کا فقدان ہے، پاکستان کی پالیسیاں زمینی حقائق پر مبنی ہونی چاہئیں۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit