اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) قابل تجدید توانائی کے شعبے میں چین کی زبردست استعداد سے پاکستان کا توانائی کا شعبہ بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس کی بدولت پاکستان کو توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی جو گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید شکل اختیار کر چکا ہے۔ توانائی اور ترقیاتی شعبے کے ماہرین کی جانب سے یہ رائے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیراہتمام ’’سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبے اور ماحول دوست رہنما اصول‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ برائے استعداد سازی کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پیش کی گئی۔ پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہجہاں مرزا نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 400 میگا واٹ کے قریب بجلی گھریلو سطح پر شمسی توانائی سے حاصل کی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے سربراہ ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان کی معاشتی ترقی تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے جائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ ماحول دوست سرمایہ کاری پاکستان کی ماحول کے حوالے سے قومی یقین دہانیوں کا ہدف حاصل کرنے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ فیوڈن یونیورسٹی چین کے ڈاکٹر کرسٹوف وانگ نے شرکاء کو بتایا کہ چین میں سی پیک کے منصوبوں کو ماحول دوست بنانے کے عزم کو قواعد میں شامل کر دیا گیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کی ڈاکٹر حنا اسلم نے کہا کہ اس فورم کے قیام کا مقصد مختلف سٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی گفتگو کے ذریعے استعداد سازی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit