اسلام آباد: پاکستان میں چائنہ کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے ذریعے بڑے منصوبہ جات کے حوالے سے چینی قیادت کا کردار قابلِ قدر ہے ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر چوہدری احسن اقبال نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ چائنہ ۔ پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے ماحول دوست ترقی کے موضوع پر مذاکرے کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں چائنہ کے سفیر مسٹر نونگ رونگ ، چائنہ میں پاکستان کے سفیر مسٹر معین الحق ، ایس ڈی پی آئی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری ، سرمایہ کاری بورڈ کے سابق سر براہ ہارون شریف ، چینی سرمایہ کار کمپنیوں کے سینئر مشیر این اے زبیری ، خیبر پختونخواہ بورڈ آف انوسٹمنٹ کے سر براہ ڈاکٹر حسن داو¿د بٹ ، ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر وقار احمد اور ڈاکٹر حنا اسلم نے بھی اپنا نقطہ نظر بیان کیا ۔مذاکرے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 2014ءسے چین کے صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان سے پاکستان میں ترقی کے سفر کا آغاز ہوا اور راہداری منصوبے کے ذریعے 46 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چائنہ کی اس سرمایہ کاری سے نہ صرف شاہرات بلکہ توانائی و کے متبادل ذرائع کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر کرنے کے مواقع میسر آرہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں 9 خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر سے شعبہ صنعت کو بھی فروغ ملے گا۔ ان اقدامات سے ملک میں سیاسی استحکام ، سماجی بہتری ، اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی طرف جائے گا۔ بلا شبہ یہ نواز شریف کی دور اندیشی کا ثمر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبہ کے ذریعے کاروباری روابط مضبوط و مستحکم ہوں گے۔ اس پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے تا کہ یہ بلا تاخیر مکمل کئے جا ئیں ۔اسی موقع پر پاکستان میں چائنہ کے سفیر مسٹر نونگ رونگ نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ کا منصوبہ اور چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری میں ماحول دوست ڈھانچہ ، توانائی ، سرمایہ داری، جدید زراعت میں پائیدار ترقی اولین ترجیحات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ ایک برادر ملک کی حیثیت سے پاکستان میں معلومات ، علم و ہنر کے تبادلے سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے پاکستان کو ماحول دوست منصوبہ جات میں معاونت کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ان منصوبہ جات کے ذریعے یہاں روزگار کے لا تعداد مواقع میسر آرہے ہیں جس میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاک چائنہ مشترکہ منصوبہ جات کے ذریعے ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ حاصل ہو نے کے ساتھ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں مزید استحکام آئے گا۔ جس کے لئے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف خاصے پر عزم اور متحرک ہیں۔ مذاکرے سے اظہار خیال کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ سے موسمیاتی تبدیلیوںکے خطرات سے محفوظ رہنے میں بھی خاصی مدد مل رہی ہے اس صورت حال سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں ہے ۔ تاہم پاکستان کی لائیو سٹاک اور زرا عت کافی متاثر ہوئی جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آم اور گندم کی پیداوار میں کافی کمی واقع ہوئی ہے جو کہ باعث تشویش ہے۔ انہوں نے مزید کہا دونوں ممالک کے مابین ہر شعبہ میںمشترکہ تحقیق و علم کا تبادلہ ہونا چاہئے تاکہ پاکستان میں جدید زراعت کواپنایا جا سکے اور اعلیٰ پیداوارحاصل کی جا ئے۔ چائنہ میں پاکستان کے سفیر معین الحق کے اظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چائنہ پاکستان راہداری منصوبہ کے ساتھ پاکستان کو متعدد ایسے شعبہ جات میں معاونت و ترقی میسر آرہی ہے جس کی بہت زیادہ ضرورت تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبہ جات میں بہتری لانے کے لئے متعدد مشترکہ گروپس کام کررہے ہیں جس سے اصلاحات کے ذریعے پائیدار ترقی و بہترین معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ ایس ڈی پی آئی کے مذاکرے سے اظہار خیال کرتے ہوئے سرمایہ کاری بورڈ کے سابق سر براہ ہارون شریف نے کہا کہ ماحول دوست ترقی کو یقینی بنانے کے لئے بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو ماحول دوست منصوبہ جات کے لئے اگلے 10 سالوں میں سالانہ 16 بلین ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ بالخصوص موسمیاتی خطرات سے تحفظ کے لئے 2 سے 3 ارب ڈالر درکار ہو ں گے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کی بنیاد پراشتراک عمل کی ضرورت کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ممکن بنائی جائے تاکہ پاکستان کے ہر شعبہ میں پیداواری لاگت میں کمی کرکے پیداوار میں اضافہ اور مسابقتی عمل توانا ہو سکے۔ اس موقع پر چائنیزسرمایہ کار کمپنیوں کے سیئنئر مشیر این اے زبیری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 2014 ءسے آج تک 19 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی چکی ہے۔ جس سے پاکستان میں سماجی اوراقتصادی ترقی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ چینی سرمایہ کار پاکستان میںقابل تجدید توانائی کے شعبہ میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس ضمن میں توانائی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں کو مزید راغب کرنے کے لئے سرمایہ کاری میں تحفظ کویقینی بنانے کے لئے اقدامات فوری اٹھانا ہوں گے۔ اس موقع پر خیبر پختونخواہ بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے سر براہ ڈاکٹر حسن داو¿د بٹ نے کہا کہ پاکستان چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ ماحولیاتی خطرات سے محفوظ بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ اس سرمایہ کاری کے ڈھانچے میں بہتری کی مثالیںسامنے آرہی ہیں۔ نجی شعبہ اس میں کافی متحرک اور فعال نظر آرہا ہے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ پاکستان میں 2050 تک قابل تجدیدتوانائی کا حصہ 80 فیصد تک ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چین 2014 ءسے 19 ءتک بیلٹ اینڈ روڈ میںموحول دوست ترقی کے لئے117 ارب ڈالر تک کی سر مایہ کاری کر چکا ہے۔ اس موقع پرایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر وقار احمد اور ڈاکٹر حنا اسلم نے بھی اظہار خیال کیا#
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit